آزادی صحافت،حقائق اور ترجیحات۔۔۔تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

ڈی جی آئی ایس پی آر میجرل جنرل آصف غفور کا یہ کہنا کہ اگر 1971 ء میں پریس فعال ہوتا جس طرح اب ہے تو سانحہ مشرقی پاکستان رونما ء نہ ہوتا۔یہ الفاظ ہیں ہماری پاک فوج کے ترجمان کے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اطلاعات کی بلا روک ٹوک فراہمی کسی بھی قوم کے لیے آکسیجن ہے۔ لیکن آزادی صحافت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اپنی معاشرتی، مذیبی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ وطن کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حدود کو پامال کرکے آزادی کا نعرہ لگایا جائے۔ ملکی آئین اور قانون کے پیرامیٹرز کو یکسر فراموش کر دیا جائے۔ ڈان لیکس جیسے واقعات آزادی صحافت نہیں ہیں۔ ملکی سلامتی کی حفاظت کرنا جس طرح پاک فوج کا فرض ہے اِسی طرح پریس کا بھی اُتنا ہی فرض ہے۔آزادی صحافت کا مطلب مادر پدر آزادی نہیں۔ موجودہ دور میں جبکہ سوشل میڈیا نے صحافت کو نیا انداز دے دیا ہے۔

آن واحد میں دُنیا کے کسی کونے میں بھی ہونے والے واقعہ کی خبر سوشل میڈیا کی زینت بن جاتی ہے۔ لیکن سچ اُتنا ہی سامنے آنا چاہیے جو کسی بھی معاشرے کی سماجی، مذہبی، عمرانی ،نفسیاتی روایات کو پامال نہ کرئے۔ مقدس ہستیوں کی شان میں کسی قسم کی ہرزہ سرائی کیے جانے کو پریس میں لانا زہر قاتل ہے۔ معاشرے اِس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ امن کے لیے جتنا اہم کردار گڈ گورنس کا ہے اُتنا ہی صحافت ہے۔معاشرے کی تربیت کے لیے تعلیمی اداروں سے بڑھ کر بھی اہم کردار پریس کا ہے۔ گویا سماج ، معیشت، ثقافت ہر شعبہِ زندگی صحافت کے گرد گھومتا ہے۔حال ہی میں دنیا کے سب سے طاقتور اخبار نیویارک ٹائمز کے سابق چیف آف سٹاف جان سونٹن کے نیویارک پریس کلب میں آزادی صحافت بارے پوچھے گئے سوالات کے جواب سے ہوتی ہے،جان سونٹن نے کہا کہ’’دنیا کی تاریخ میںآج تک امریکہ میں آزاد صحافت نام کی کوئی چیز نہیں،یہ بات آپ بھی جانتے ہیں اور مجھے بھی اس کا علم ہے،آپ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنی دیانتدارانہ رائے تحریر کر سکے،اگر آپ ایسا کرتے ہیں توآپ کو پہلے سے ہی علم ہوتا ہے کہ یہ کبھی شائع نہیں ہو گی، مجھے ہر ہفتے اس بات کا معاوضہ ملتا ہے کہ اپنی دیانتدارانہ رائے کو اُس اخبار سے دور رکھوں، جس سے میں منسلک ہوں،آپ سب کو بھی اسی کام کی ایسی ہی تنخواہ ملتی ہے، آپ میں سے کوئی بھی دیانتدرانہ رائے لکھنے کی بے وقوفی کرے گا تو نئی نوکری کے لئے گلیوں کی خاک چھان رہا ہو گا، اگر مجھے کسی ایک معاملہ میں اپنی دیانتدرانہ رائے لکھنے کی اجازت دے دی جائے تو میں اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر اپنا ذریعہ معاش کھو دوں گا، صحافی کا کام ہے سچ کو برباد کرنا، سفید جھوٹ بولنا، گمراہ کرنا،بدنام کرنا، دولت کے قدموں میں دم ہلانا اور اپنے ملک

اور قوم کو بیچنا تاکہ روزی کما سکے۔ معروف امریکی دانشور مالکم ایکس نے کہا تھا کہ اگر تم ہوشیار نہیں ہو تو میڈیا تمہیں مظلوم سے نفرت اور ظالم سے محبت کرنا سکھا دے گا۔کولمبین ڈرگ مافیا کے خلاف خبر اس کی زندگی کی آخری خبر ثابت ہوئی۔اسے لالچ دی گئی، سمجھایا گیا اور پھرڈرانے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی عمل اسے اس کے فرض کی ادائیگی سے نہ روک سکا۔ اس نے سچ عوام کے سامنے لانے کی قسم کھائی تھی۔ وہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کے ایک اخبار روزنامہ ایل اسپیکٹیٹر کا ایڈیٹر تھا۔ وہ اخبار کے مختلف شعبوں میں کام کر کے ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا تھا۔ وہ بل فائیٹنگ، ثقافت اور سیاست کے شعبوں میں رپورٹنگ کا ماہر تھا۔ ایک دن اسے کسی سورس سے خبر ملی کے سیاسی لوگ اور ڈرگ مافیا کے گٹھ جوڑ سے ہیومین اور ڈرگ ٹریفیکنگ کا مضبوط اور وسیع نیٹ ورک کام

کر رہا ہے۔اس نے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا اور سیاسی لوگوں اور ڈرگ مافیا کے گٹھ جوڑ کی سٹوری مرحلہ وار شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مافیا نے اسےخبر پڑھیں:’نواز شریف پیسے واپس دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی بیٹی مریم نواز منع کر رہی ہیں’روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ حق اور سچ پر قائم رہا۔ جرائم اور سیاست کی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھنے لگیں۔ اشرافیہ کے ناموں نے کولمبین سوسائٹی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مافیا اور سیاست کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ 17 دسمبر 1986 کو ڈرگ مافیا کے دو شوٹرز نے اسے بروٹا میں اخبار کے دفتر کے سامنے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ مافیا کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اپنے ڈر کی دھاک بٹھانے اور آزادی صحافت کو مافیا کے پیروں تلے روندنے کے لیے مافیا نے اخبار کی عمارت کو بھی دھماکے سے

اڑا دیا اور صحافی کے گھر کو بھی آگ لگا دی۔ آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند ہوئی، عوامی پریشر کے بعد حکومت نے قاتلوں کو گرفتار کیا، ان پر مقدمہ چلا اور چار مافیا ارکان کو صحافی کو قتل کرنے اور قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں سولہ سال اور آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ مافیا کے صحافت اور صحافیوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کے منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے قتل کیے گئے صحافی کے نام سے 1997میںNESCO Guillermo Cano World Press Freedom Prizeایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ ایوارڈ اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال 3 مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ان اداروں اور افراد کو دیا جاتا ہے جنھوں نے صحافت کی آزادی کیلیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہوں۔ آپ یقیناًاس صحافی کا نام جاننا چاہیں گے۔اس

گمنام صحافی کا نام Guillermo Cano Isaza تھا۔ اس گمنام صحافی کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس کا مجسمہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سن 2000 میں اسے بیسویں صدی کے آزادی صحا فت کے ہیروز میں شامل کیا گیا ہے۔آج صحافت کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر ہم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم Isaza Guillermo Cano کے اصولوں کو اپنائیں،حق اور سچ کے لیے ڈٹ جائیں، چا ہے اس کے لیے ہمیں اپنی جان کو ہی خطرے میں کیو ں نہ ڈالنا پڑ جائے ہم اپنے ضمیر سے ایک حلف لیں کہ جو بھی لکھیں گے سچ لکھیں گے اور سچ کے سوا کچھ نہیں لکھیں گے۔آپ Isaza Guillermo Cano کی آزادی صحافت کے لیے دی گئی قربانی کو ذہن نشین کریں اور اس کا موازنہ ملک پاکستان میں رائج صحافت کے اصولوں، آزادی صحافت کی اہمیت، صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں درپیش

مشکلات،صحافی بننے کے معیار اور صحافت کی آزادی کی اصل روح کے ساتھ کریں تو آپ ایک دلچسپ صورتحال کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ملک پاکستان میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ صحافی اگر آزاد رہ کر کچھ لکھنا یا بولنا چاہے تو اس کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ اخبار اور نیوز چینل مالکان ہیں۔صحافی حضرات کو اخبار اور چینل کی پالیسی پر چلنا پڑتا ہے۔ بعض ادارے سچ لکھنے اور بولنے کی قیمت ادا نہیں کر سکتے۔وہ سچی خبروں اور آئینہ دکھانے والے صحافیوں کا وزن برداشت نہیں کر سکتے۔ ملک پاکستان کا اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ ملک میں صحافی بننے کا کوئی بھی نظام اور معیار موجود نہیں ہے۔ اتنے اہم پیشے کے لیے ٹریننگ اور تعلیم کا کوئی معیار مختص نہیں کیا گیا ہے۔ ان پڑھ، جاہل اور گنوار اور لوگ خود کو صحافی کہتے دکھائی دیتے ہیں اور کسی بھی شخص

کی جھوٹی سچی خبر لگا کر یا چلا کر اسے بلیک میل کرنا صحافت کی خدمت سمجھتے ہیں۔ آزادی صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے ایک اہم بات کے اخبار مالکان کیجانب سے اخباری کارکنوں کو تنخوائیں وقت پر دیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ حادثات کی صورت میں صحافیوں کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ صحافیوں کے بچوں کے لیے سرکاری و نجی تعلیمی ادروں میں خصوصی کوٹہ رکھا جائے اور نجی ادارئے فیس میں رعایت دیں۔ اِسی طرح صحافیوں اوراُن کی فیملیز کو صحت کی سہولتیں فراہم کیا جانا حکومت وقت اور اخباری و چینل مالکان کی ذمہ داری ہے۔