میشاشفیع اسٹوڈیو پہنچنے اور واپس جانے پر علی ظفر کو گلے لگ کر ملیں، معروف ماڈل نےشہادت قلمبند کراتے ہوئے میشاشفیع کو جھوٹا قرار دیدیا

لاہور(نیوز ڈیسک)سیشن عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کیخلاف ہتک عزت کی درخواست پر سماعت 18مئی تک ملتوی کر دی ، دوران سماعت گلوکار و اداکار علی ظفر کی طرف سے مادل کینزہ منیر کی شہادت قلمبند کی گئی ، عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو شہادت کیلئے طلب کرلیا۔ہفتہ کے روز ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار گلوکار علی ظفر نے موقف اپنا رکھا ہے کہ میشا شفیع نے جنسی ہراساں کرنے سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کیے۔استدعا ہے کہ عدالت سو کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کرے ۔عدالت نے علی ظفر کے گواہان کو شہادت کے لئے کمرہ عدالت میں طلب کرتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی ۔ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو علی ظفر کی جانب سے ماڈل کینزہ منیر نے پیش ہو

کر شہادت قلمبند کرواتے ہوئے بتایا کہ میں نجی اسٹوڈیو میں موجود تھی جہاں میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا، اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی، دس سے گیارہ لوگ ریہرسل میں موجود تھے، 45منٹ تک ریہرسل سٹوڈیو میں جاری رہی، میشا شفیع جب اسٹوڈیو پہنچی تو علی ظفر کو گلے سے لگا کر سلام کیاجبکہ ریہرسل کا عمل مکمل ہونے کے بعد میشا شفیع نے علی ظفر کو بائے بائے بھی اس طرح کہا، ریہرسل کے درمیان ویڈیو بھی بن رہی تھی، دونوں گانے کے دوران چار سے پانچ فٹ دور کھڑے تھے، میشا شفیع کے الزامات کا اچھی طرح علم ہے وہ جھوٹ ہیں ۔عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کی درخواست پر سماعت 18 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو شہادت کے لیے طلب کرلیا۔