افغانستان میں منہ کی کھانے کے بعد امریکہ نے ایران کا رخ کرلیا،دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ، طاقت کے نشے میں چور امریکہ نیوکلیئرپاورسے ٹکر لینے کو تیار

لاہور (نیوز ڈیسک)طاقت کا نشہ اتنااندھا اور زور آور ہوتا ہے کہ اس کا حامل شخص ہر طرف دوڑا پھرتا ہے۔کبھی کس دیوار کر ٹکر مار کرگرانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی کسی سڑک کو اکھاڑ پھینکے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی کسی کی سانسیں چھین لیتا ہے۔یہ طاقت کا نشہ ہے جو اسے کچھ ایسی ہی حرکتیں کرنے پر مجبور کرتا ہے مگر اس کا نتیجہ بہت بھیانک ہوتا ہے کہ طاقت کو بآخر زوال ہے اور دنیا شاہد ہے کہ سبھی بڑی بڑی سپر پاورز گھٹنے کے بل اوندھے منہ گری تھیں کہ انہیں پسپائی کا راستہ بھی نہیں مل رہا تھا۔برطانیہ ہو ،سوویت یونین ہو یا ہٹلر کا جرمنی ہر کسی نے طاقت کو پاش ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اب اس وقت دنیا کی سپر پاور امریکہ ہے اسے بھی طاقت

کا نشہ ہے وہ کبھی عراق تو کبھی افغانستان کبھی ویت نام تو کبھی کہیں طبع آزمائی میں مصروف رہتا ہے۔افغانستان سے منہ کی کھانے کے بعد اب یہ بدمست ہاتھی ایران کی طرف جانا چاہ رہا ہے مگر اب کی بار امریکہ ایک ایسے ملک کے ساتھ پنجہ آزمائی کا منصوبہ بنا چکا ہے جو کہ نیوکلیئر پاور ہے اور وہ بھی امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت رکھتا ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ نگار ہارون الرشید نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو دیگر سپر پاور سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ بھی پاش پاشش ہوئے ہیں۔ایران پر تیل کی پابندی لگانا اور اس پر حملے کامنصوبہ بناتے ہوئے سمندر میں بحری بیڑے اتارنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔امریکا کو سوچنا چاہیے کہ عراق میں ا س نے کون سی فتح حاصل کی ہے یا پھر افغانستان میں کون سی جنگ جیت لی ہے جو اب ایران میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لیے پر تول رہا ہے۔انہوں نے بات جای رکھتے ہوئے کہا کہ جمی کارٹر نے خود کہا تھا کہ امریکہ کی اڑھائی سو سالہ تاریخ میں12سال امن کے ہیں باقی سارا عرصہ جنگ میں گزرا ہے۔کبھی امریکہ کے اندر خانہ جنگی ہے تو کبھی دوسرے ممالک کے ساتھ نبردآزما ہے۔امریکہ کی انہی جنگی پالیسیوں کی وجہ سے چین کو سر پاور بننے کاموقعہ ملا ہے۔ اب اگر ایران کے ساتھ ٹکر لینے کی امریکہ نے کوشش کی تواس بار حالات کچھ اور ہوں گے اور مریکہ خسارے میں جائے گا۔