پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر کی ایک اور چوری پکڑی گئی ، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

مظفرآباد (پی کے نیوز) آزادجموں کشمیر سپریم کورٹ نے پبلک سروس کمیشن کی ملی بھگت سے محکمہ پولیس مین غیر قانونی طور پر بھرتی کیے گئے اے ایس آئی کو ملازمت سے برخاست کردیا۔ باغ آزادکشمیر کے کوٹے پرایک بھائی اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہے جبکہ دوسرے بھائی نے مہاجرین کے کوٹے پ راے ایس آٸی کی ملازمت حاصل کی جسے تقرری کے سات سال بعد سپریم کورٹ نے کالعدم قراردے دیا، کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جج راجہ سعید اکرم اور مصطفیٰ مغل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی، مہاجرین مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے ذیشان اعظم نے 30-06- 2016 کوعدالت العالیہ آزادکشمیر میں رٹ داٸر کی تھی کہ باغ سے تعلق رکھنے والے سید نزاکت حسین شاہ کو مہاجرین مقیم پاکستان کے کوٹہ پر غیرقانونی طور پر اے ایس آٸی تعینات کیا گیا کیونکہ 13-05-2008 کو جاری ہونے والے باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ پر اس کا مستقل پتہ ضلع باغ کا ہے سید نزاکت حسین کے والد سید کبیر حسین آزادکشمیر میں آباد

ہوٸے اور نزاکت حسین کے سگے بھاٸی ممتاز کاظمی باغ کے کوٹہ پراسسٹنٹ کمشنر منتخب ہوٸے ، جس پر آزاد کشمیر ہاٸیکورٹ نے 20-04-2018کو سید نزاکت حسین کی مہاجرین مقیم پاکستان کے کوٹہ پر تقرری کالعدم قرار دے دی اور رٹ پیٹیشنر کی تعیناتی کا حکم دیا،عدالت العالیہ کے اس فیصلے کے خلاف سید نزاکت حسین نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تاہم سپریم کورٹ نے عدالت عالیہ کے سید نزاکت حسین کی تقرری کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو بحال رکھا اوررٹ پیٹیشنر کے متاثرہ شخص نہ ہونے کی بنیاد پر آسامی کو دوبارہ مشتہر کرنے کا حکم دے دیا ہے، سپریم کورٹ میں سماعت 17 اپریل 2019 کو ہونے کئے بعد اب کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی سامنے آچکا ہے، دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے کہ سید نزاکت حسین شاہ 24- 04-2011 کو پبلک سروس کمشن کی سفارش پر اے ایس آٸی بھرتی ہوٸے تھے اس کیس نے ایک بار پھر آزادکشمیر پی ایس سی کی جانب سے کی جانے والی دستاویزات کی سکروٹنی پر سوالات اٹھا دٸیے ہیں۔