جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیراہتمام تمام ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹرز میں افطار پروگرامات اور ریلیوں کا انعقاد

راولاکوٹ(نمائندہ خصوصی) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے آئی ایم ایف کی عوام دشمن پالیسیوں اور تعلیم و صحت کے شعبہ جات کی نجکاری اور بجٹ کٹوتیوں کیخلاف رابطہ مہم اور احتجاجی ریلیوں کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے، رمضان المبارک میں تمام ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹرز میں افطار پروگرامات اور ریلیوں کا انعقاد ہو گا جبکہ عید کے بعد کالجز اور یونیورسٹیوں میں رابطہ مہم چلانے کے بعد احتجاجی تحریک کا لائحہ عمل دیا جائے گا، افطار پروگرامات کے دوران تعلیمی اداروں اور دیہی علاقہ جات میں تنظیم سازی کا عمل بھی تیز تر کیا جائے گا، یہ فیصلہ جات جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی کمیٹی اور کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے، مرکزی

سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت مرکزی صدر ابرار لطیف نے کی جبکہ اجلاس سے سیکرٹری جنرل یاسر حنیف، سینئر نائب صدر راشد باغی، چیف آرگنائزر تیمور سلیم، مرکزی سینئر نائب صدر مروت راٹھور، چیئرمین سٹڈی سرکل باسط باغی، چیئرمین نشرواشاعت ارسلان شانی، ایڈیٹر عزم التمش تصدق، شفقت رحیم داد، سہیل اسماعیل، کفایت اللہ، عدنان حسین، خلیل بابر، شہزاد اسماعیل، عادل بشیر، ثقلین خان، حنان ، زاہد عارف، وقاص بشیر، سبحان عبدالمالک، سعد الحسن، سیاب سلیم، طلحہ، عدنان حسین، اسد خان، اسامہ خان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلا س سے قبل تنظیم کا مجوزہ آئین و منشور از سر نو مرتب کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، مقررین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے بحران نے مختلف ریاستوں کو معاشی اور سیاسی بحرانات میں دھکیل دیا ہے، برصغیر کے حکمران تاریخی متروکیت اور نااہلی کے باعث معاشرے کو ترقی دینے کے کبھی قابل ہی نہیں رہے، یہی وجہ ہے کہ سامراجی اداروں کی کاسہ لیسی اور بنیادی پرستی کو ہتھیار بنا کر دیو ہیکل محنت کش طبقے کو تقسیم در تقسیم کر کے استحصال کا شکار بنایا جا رہا ہے، پاکستان کی بحران زدہ معیشت میں موجودہ حکومت عالمی سامراجی اداروں کی گماشتگی میں ماضی کی تمام روایتوں کو پس پشت ڈال کر سامراجی اداروں کی تمام تر شرائط منظور کرتے ہوئے محنت کشوں اور نوجوانوں کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کے درپے ہیں، آئی ایم ایف کے نئے پروگرام سے مزید مہنگائی اور بیروزگاری بڑھے گی، قومی اداروں کو اونے پونے داموں فروخت کر کے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق سے بھی شہریوں کو محروم کیا جائے گا، پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے

حکمران گزشتہ پورے سال میں پچاس فیصد سے زائد ترقیاتی بجٹ خرچ نہ کر سکے، جبکہ اقتدار کی دوڑ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور حکومت گرانے میں سرگرداں ہیں، محکمہ تعلیم سمیت دیگر محکمہ جات کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرنے، اداروں کو بند کرنے اور پنشن کی سہولیات ختم کرنے جیسی عوام دشمن پالیسیاں لاگوکرنے کی تیاری ہو رہی ہے، ایسی صورتحال میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ہی وہ واحد قوت ہے جو محنت کشوں اور نوجوانوں کے حقوق کی بازیابی کی حقوق جدوجہد میں شریک کار ہے، اور سمجھتی ہے کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے عوام کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کیا جا سکتا، محنت کشوں اور نوجوانوں کو مشترکہ جدوجہد کا حصہ بنتے ہوئے اس نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے تمام ذرائع پیداوار کو اپنے کنٹرول میں لینا ہوگا، ہم یہ جدوجہد آخری فتح تک جاری و ساری رکھیں گے۔