چیئرمین نیب کی مبینہ لیک ویڈیوز کا معاملہ، شہباز شریف کا غیر متوقع ردعمل، پارٹی رہنمائوں کو کیا ہدایات جاری کردیں

لاہور(نیوز ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو لیک ہونے پر سابق وزیراعلیٰ اور ن لیگ کے صدر شہبازشریف کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف نے پارٹی کو چئیرمین نیب کے معاملے سے الگ رہنے کی ہدایت کی ہے۔شہاز شریف کا اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیب کے حوالے سے ہمارا اصولی موقف اپنی جگہ برقرار ہے۔اپنے اصولی موقف کو متعلقہ فورم پر اٹھائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کا کسی کی ذاتی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ پارٹی کو چئیرمین نیب کے ایشو سے الگ رہنا چاہئیے۔واضح رہے نجی ٹی وی چینل نیوز ون نے اپنے چینل پر ایک وڈیو

چلائی جس تھی جس میں چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی تصویر کے ساتھ ایک فون کال کی ریکارڈنگ چلائی گئی تھی جس میں کوئی شخص جس کی شخص عورت کو جنسی طور پر ہراساں کر رہا تھا۔نیوز ون نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ آواز نیب نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ہے اور انہوں نے خاتون کو ہراساں کیا ہے،چئیرمین نیب کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہے۔قومی احتساب بیورو نے نیوز ون ٹی وی پر چیئر مین نیب کے حوالے سے نشر ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی، من گھڑت ، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بلیک میلرز کا گروپ ہے۔جس کا مقصد نیب اور چیئر مین نیب کی ساکھ کو مجروع کرنا مقصود ہے نیب نے تمام دباؤ اور بلیک میلنگ کو پش پشت رکھتے ہوئے اس بلیک میلر گروہ کے دو افراد کو نہ صرف گرفتار کیا ہے بلکہ ریفرنس کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس بلیک میلر گروپ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں 42 ایف آئی آر درج ہیں جن میں بلیک میلنگ ، اغواہ برائے تعاون ، عوام کو بڑے پیمانے پر لوٹنے اور نیب اور ایف آئی اے کے جعلی افر بن کر سرکاری اور پرائیویٹ افراد کو بلیک میل کر کے کروڑوں روپے لوٹنے کے ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں موجودہ خبر بھی بلیک میلنگ کر کے نیب کے ریفرنس سے فرار کا راستہ ہے۔