موبائل ڈیوائس کی جعلی رجسٹریشن پر 10ملین جرمانہ اور کتنےسال قید کی سزا ہوگی،ایف آئی اے نے شکنجہ کس لیا، عوام کو خبردار کردیا گیا

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستانی مارکیٹ میں ایک بڑی تعداد اسمگلڈ موبائل کی فروخت ہوتی تھی۔جرائم پیشہ عناصر بیرون ملک سے چوری شدہ اور دیگر موبائل منگواتے تھے جنہیں یہاں ان لاک کر کے سستے داموں فروخت کیا جاتا تھا۔اس کے علاوہ دیار غیر میں بسنے والے بھی اپنے پیاروں کے لیے موبائل تحفے میں لایا کرتے تھے۔مگر تبدیلی حکومت نے آتے ہی بیرون ممالک سے آنے والے موبائل پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کے بعد اسمگلڈ موبائل کو پاکستان لانے پر پابندی عائد کر دی۔پی ٹی اے نے غیر رجسٹرڈ موبائلوں کو بلاک کرنا شروع کیااور یوں اسمگلڈ موبائل آنا بند ہو گئے۔مگر دونمبر ذرائع سے پیسہ کمانے والے بھی کہاں باز آنے والے تھے انہوں نے ایجنٹوں اور کسٹم حکام کے علاوہ متعلقہ افراد سے بیرون ممالک سے آنے والوں کا ڈیٹا خڑیدااور ان کے نام پر اسمگلڈ فون رجسٹرڈ کرنا شروع کردیے۔راولپنڈی سے لے کر

لاہور اور کراچی تک یہ دھندہ پوری شدومد سے جاری تھا جہاں پر ایک موبائل کو ان لاک کرنے کے دو ہزار سے پانچ ہزار روپے وصول کیے جا رہے تھے۔تاہم یہ خبر بھی متعلقہہ اداروں کو موصول ہو گئی اور اس پر کابینہ کی میٹنگ بھی کی گئی۔ کابینہ کی میٹنگ میں ایف آئی اے کو اس دھوکہ دہی اور فراڈ کو روکنے کی ہر صورت میں ہدایت کی گئی۔جس کے لیے ایف آئی اے نے قانون سازی کرتے ہوئے ایسے کام میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص بھی جعلی طریقے سے موبائل رجسٹرڈ کرے گا اسے سات سال کی قید بامشقت یا پھر دس ملین جرمانہ اد کرنا پڑے گا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو ان دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ دیکھتے ہیں ایف آئی اے کی اس نئی حکمت عملی اور قانون سازی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے کیا وہ جعلسازی کرنے والے فراڈیوں کو روک پائیں گے یا نہیں یہ وقت بتائے گا۔