گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر نے طلبا پر ذہنی تشدد معمول بنا لیا، والدین پریشان، اصلاح احوال کا مطالبہ!!

لاہور(نمائندہ خصوصی)گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر کا طلبا پرمبینہ ذہنی تشدد ، تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) کے پروفیسر جمشیدالرحمن نے طلبا و طالبات پر ذہنی تشدد معمول بنا لیا ہے،جامعہ میں زیر تعلیم ایک طالبعلم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ پروفیسراپنے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے متعدد بار طلبا و طالبات کو نفسیاتی و ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا رہا ہے اور اسی وجہ سے ان کی اہلیہ بھی ان سے تنگ آکر گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کےٹیچر جمشیدالرحمن نے اپنے شدت پسند نفسیاتی رویے کے سبب گزشتہ کئی سالوں سےطلبا و طالبات کیلئے تعلیم کا حصول عذاب بنایا ہوا ہے۔ذرائع کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ مذکورہ پروفیسر ہفتوں غائب رہتا ہے اور نہ ہی توجہ سے پڑھانےکی ذمہ داری پوری کرتا ہے جس کے باعث پوری یونیورسٹی میں جمشیدالرحمن کے مضمون میں سٹوڈنٹس کی ناکامی کا گراف سب سے اونچا ہے جسے یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت سے چھپایا جارہاہے ۔

سٹوڈنٹس کے بارہا توجہ دلانے کے باوجود انتظامیہ جمشید الرحمن کی حاضری ممکن نہیں بناسکی بلکہ درخواست گزار طلباء کو فیل کرنا اور دھمکیاں دینا وطیرہ بنا لیاگیا ہے ۔ سٹوڈنٹس اور ان کے والدین نے میڈیا کےتوسط سے گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم سے جمشیدالرحمان کے خلاف کارروائی کرنے اور معاملے کی انکوائری کروانے کی گزارش کی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پروفیسر کے نفسیاتی شدت پسندانہ رویے کے باعث طلبا کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔طلبا و طالبات کے والدین کا کہنا ہے کہ ارباب اختیار فوری انکوائری کروائیں تاکہ مذکورہ پروفیسر کے ذہنی تشدد کا شکار کوئی بھی طالبعلم خود کو نقصان نہ پہنچا لےمزید برآںوالدین نے اس خدشے کا بھیاظہار کیا ہے کہ کوئی سٹوڈنٹ جمشید الرحمان کے ہاتھوں اپنا مستقبل خراب کیے جانے پر ٹیچر کے خلاف کوئی انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے ۔ جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ ایسے کسی بھی حادثے کے واقع ہوجانے سے پہلے کسی قسم کا انتظامی فیصلہ کرنے میں ناکام ہے ۔