پی ٹی آئی حکومت کا پہلا بجٹ، موبائل فون کی قیمتوں میں کتنی کمی کردی گئی، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے مالی سال 20-2019ء کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس ہوا۔ بجٹ اجلاس میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے موبائل فون پر عائد ٹیکس میں 3 فیصد کمی کرنے کا اعلان کر دیا۔ بجٹ تقریر کے دوران حماد اظہر نے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔دودھ کریم اور فلیورڈ دودھ پر 10 فی صد ٹیکس عائد ہوگا ۔ بھٹے کی اینٹوں پر 17 فی صد سیلز ٹیکس کم کرنے کی تجویز ہے۔ بھٹے کی اینٹوں پر سیلز ٹیکس کی شرح علاقائی بنیاد پر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون پر عاید ٹیکس میں 3 فی

صد کمی کر رہے ہیں۔چینی پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 فی صد سے بڑھا کر 17 فی صد کر دی گئی ہے۔ اُمید ہے کہ چینی پر صرف ساڑھے 3 روپے فی کلو اضافہ ہوگا۔تمام ایس آر اوز کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ خشک دودھ پر سیلز ٹیکس کی شرح کم کر کے 10 فی صد کر دی گئی۔ 17 فی صد کی معیاری شرح کو بحال کر دیا گیا ہے، چمڑے کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں 17 فی صد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ریسٹورنٹ، بیکرز، کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے والوں پر سیلز ٹیکس میں کمی کر دی گئی۔ ان پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فی صد سے کم کر کے ساڑھے 7 فی صد کر دی گئی ہے۔اسٹیل میں استعمال اسکریپ پر 5600 فی صد میٹرک ٹن سیلز ٹیکس بحال کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سونا، چاندی، ہیرے اور زیورات پر ٹیکس لگایا جائے گا۔ سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کے عمل کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔ ماربل کی صنعت کو ملنے والی بجلی پر ایک روپے 25 پیسے فی یونٹ ٹیکس کی تجویز ہے۔ کمپنیوں پر 29 فی صد ٹیکس ریٹ 2 سال کے لیے منجمد کرنے کی تجویز ہے۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس اس وقت بھی جاری ہے جس میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ وفاقی بجٹ کے دوران اپوزیشن کے رہنماؤں کی جانب سے ایوان میں حکومت کے خلاف نعرے بازی جاری ہے ۔ اپوزیشن اراکین نے ایوان میں گو نیازی گو کے بھی نعرے لگائے۔ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھے جس پر تحریر تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ہم یہ بجٹ مسترد کرتے ہیں۔ اپوزیشن رہنما احتجاجاً بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے۔ احتجاج کے دوران حکومتی ارکان بھی اپوزیشن کے سامنے آ گئے اور ہاتھوں کی زنجیر بنا لی۔ جبکہ حماد اظہر شور شرابے اور نعرے بازی کے باوجود ایوان میں بجٹ تقریر کر رہے ہیں۔