اہلیان کراچی کی دعائیں رنگ لے آئیں،حکومت نے کراچی کے بڑے منصوبوں کیلئے اربوں نچھاور کردیئے،شہری خوشی سے نہال

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بجٹ تقریر میں وزیر مملکت حماد اظہرنے کہاقرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں۔جاری کھاتوں کا خزانہ بلند سطح پر تھا۔تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔5سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔سرکلر ڈیٹ 1200ارب روپے تک پہنچ گیا۔مالی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا۔گردشی قرضے 38ارب روپے ماہانہ بڑھ رہے ہیں۔سرکاری اداروں کی کارکردگی 1300ارب روپے خسارے سے زائد تھی۔انہوں نے کہا فوری خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے۔کوششوں سے تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کم ہوا۔ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر اضافہ ہوا۔بجلی کا قرضہ 38 سے کم ہو کر 26 ارب روپے پر آگیا۔چین سے 313 اشیا کی ڈیوٹی فری تجارت کا معاہدہ کیا۔آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر پروگرام کا معاہدہ ہوگیا۔ سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر3.2ارب ڈالر کا تیل حاصل

کرنے کی سہولت حاصل کی۔اسلامی ترقیاتی بینک سے 1.1 ارب ڈالر لیے۔انہوں نے کہا اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم پر عمل جاری ہے۔95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لئے فنڈز جاری کئے۔اسٹیٹ بینک کو خودمختاردی دی گئی ہے۔افراط زر کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے۔145ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئے۔ملین ٹری سونامی اور کلین اینڈ گرین پاکستان پروگرام شروع کئے گئے۔حماد اظہر نے کہابجٹ کا مقصد عوامی فلاح ہے۔درآمد میں کمی کے لئے بیرونی خسارے کو کم کیا جائے گا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 6 ارب 50 کروڑ ڈالر تک محدود کیا جائے گا۔ایف بی آر کا ٹیکس ٹارگٹ 5550 ارب روپے ہے۔بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہوگا۔ صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ کل 3 لاکھ 39 ہزار بجلی اور گیس کے کنکشن ہیں۔صرف 40 ہزار کنکشن رجسٹرڈ ہیں۔پیسے والے افراد ٹیکس میں حصہ نہیں ڈالتے۔قرضوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے۔دفاع کا بجٹ 1150 ارب روپے پر برقرار رہے گا۔300یونٹ سے کم بجلی استمعال کرنے والوں کے لئے 200ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔60 لاکھ خواتین کو وظائف اور موبائل فون تک رسائی دی جائے گی۔معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے آلات فراہم کئے جائیں گے۔احساس پروگرام کے تحت 57 لاکھ غریب گھرانوں کی مدد کی جائے گی۔تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ میں صحت، تعلیم وغیرہ کے لئے 93 ارب روپے مختص کرے گی۔ کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں کم سے کم اضافہ ہو۔80ہزار افراد کو بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ بی آئی ایس پی کو 10اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے۔قومی ترقیاتی بجٹ کے لئے 1800ارب روپے رکھے ہیں۔وفاق کا ترقیاتی پروگرام 950 ارب روپے ہے۔ترقیاتی بجٹ میں پانی کی تقسیم

وغیرہ کے منصوبے شامل ہیں۔وزیر مملکت نے تقریر میں کہانکاسی آب کے لئے 70 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔مہمند ڈیم کے لئے 15 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔اہم منصوبوں میں حویلیاں، پشاور کراچی موٹر وے وغیرہ شامل ہیں۔دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین کی خریداری کے لئے 26 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔توانائی کے لئے 80 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔انسانی ترقی کے لئے 60 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔اعلیٰ تعلیم کے لئے 43 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔زراعت کے لئے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لئے 45 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔50 لاکھ گھروں کی تعمیر سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔کم آمدنی والوں کو چھت میسر آئے گی۔پہلے مرحلے میں راولپنڈی اسلام آباد کے 25 ہزار ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کیا۔

یوتھ پروگرام کے تحت 100ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے۔لانگ ٹریڈ فنانسنگ کی سہولت برقرار رکھی جائے گی۔تقریر میں انہوں نے یہ بتایا280ارب روپے کا 5 سالہ زرعی پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔44.8ارب روپے سے کپاس اور چاول کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا۔چھوٹے کسانوں کے لئے مرغبانی اور بھینس کے بچہ پالنے کے لئے 5 ارب 60 کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے۔بلوچستان کے کسانوں کے لئے اسکیم شروع کی ہے۔چھوٹے کسان کے لئے انشورنس اسکیم مہیا کی جارہی ہے۔2.5ارب روپے سے فصلوں کی انشورنس کی جائے گی۔حماد اظہر نے کہاایل این جی سے چلنے والے 2 بجلی گھروں کی نجکاری کی جائے گی۔اسٹیل مل کے لئے بیرونی سرمایہ کاروں ے بات کی جارہی ہے۔بجلی کے بل ادا نہ کرنے کرنے والوں کے لئے منظم مہم شروع کی ہے۔مہم سے 80 ارب روپے وصول ہوئے ۔نئے

قبائلی اضلاع کے لئے 152 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔حماد اظہر نے کوئٹہ کے لئے 10.4ارب روپے کے پروگرام کا اعلان کیا۔وزیر مملکت نے کہا وفاقی وزرا کی تنخواں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔کم از کم تنخواہ میں 1500روپے اضافے کا اعلان۔ بجٹ کا کل تخمینہ 7022ارب روپے ہے۔آئندہ بجٹ کا حجم رواں مالی سال سے 30 فیصد زائد ہے۔آمدنی کا کل تخمینہ 6717 ارب روپے ہے۔ایف بی آر کے تحت ٹیکس وصولی کا اندازہ 5550 ارب روپے ہے۔انہوں نے کہا ساتویں این ایف سی کے تحت صوبوں کو3255 ارب روپے دیئے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ 3560 ارب روپے ہوگا۔ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کا 20 فیصد ہونا ضروری ہے۔ٹیکس اصلاحات کے لئے سخت فیصلے کئے جائیں گے۔972ارب 40 کروڑ روپے کی ٹیکس رعایتیں بوجھ ہیں۔ٹیکس چھوٹ میں مرحلہ وار کمی کی جارہی ہے۔حقیقی آمدنی

پر ٹیکس کی تجویز ہے۔ٹیکس بیس میں اضافے کے لئے معیشت کو دستاویزی شکل دینا سب سے اہم ہوگا۔آئندہ مالی سال مالیاتی خسارہ 3137 ارب روپے ہوگا۔ماد اظہر نے کہا 1600خام مال پر ڈیوٹی کی چھوٹ دی جارہی ہے۔غیرملکی کپڑے کی درامد ڈیوٹی کم کی جارہی ہے۔کاغذ کی پیداوار کے لئے خام مال کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دی جارہی ہے۔پرنٹنگ، سولر، کیمکل انڈسٹری کی لاگت کم کرنے کے لئے کم کرنے کی تجویز ہے۔تیل صاف کرنے والے پلانٹ کو ڈیوٹی سے چھوٹ کی تجویز ہے۔ٹائر، وارنش، خوراک کی صنعت پر ڈیوٹی کا ڈھانچہ بہتر بنایا جائے گا۔ادویات کی قیمتوں میں کمی کے لئے 19 خام مال کی اشیا پر ڈیوٹی میں چھوٹ کی تجویز ہے۔برآمدکنندگان کو 124 ارب روپے کی رعایتیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہا منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے نیا نظام وضع کیا جارہا ہے۔حکومت کو اخراجات کم کرنے کے لئے

بعض سخت فیصلے کرنا پڑے۔اضافی کسٹم ڈیوٹی ک یشرح 2 سے 4 فیصد کی جارہی ہے۔ایل این جی کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنٰی کیا جارہاہے۔کاغذ کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی نہیں ہوگی۔بیکری آئٹم پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 سے کم کر کے 4.5 فیصد کرنے کی تجویزدی گئی۔انہوں نے کہا بغیر فلیور دودھ پر 10 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے۔سالانہ 6 لاکھ روپے تنخواہ پر ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ۔موبائل فون کی درآمد پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ٹیکس میں چھوٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مقامی سپلائی پر سیلز ٹیکس 17 فیصد کیا جارہا ہے ۔وزیر مملکت نے مزید کہاسی این جی ڈیلرز کے لئے اقدام سے سی این جی کچھ مہنگی ہوگی۔چینی پر 8 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔چینی پر سیلز ٹیکس 17 فیصد کرنے کی

تجویز ہے۔چینی کی قیمت میں 3.50روپے فی کلو اضافہ ہوسکتا ہے۔سونے چاندی ہیرے کی مقامی بنوائی پر ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کو سادہ بنایا جارہا ہے۔پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد برقرار رکھنے کی،چینی والے مشروبات کولڈنگ پر ایکسائز ڈیوٹی 13.2 فیصد کرنے کی ،کوکنگ آئل اور گھی پر ایکسائزڈیوٹی 17 فیصد کرنے کی، سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھاکر 2 روپے فی کلو کرنے کی،ایل این جی کی درآمد پر ڈیوٹی 10 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز دی ہے۔ایک ہزار سگریٹس پر5200 روپے ٹیکس لگایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا ری فنڈ بانڈز کا اجرا کرنے کی تجویز ہے۔ری فنڈ کلیم جمع کروانے والے کی تفصیلات طلب کی جائیں گی۔ نان فائلر اب جائیداد خرید سکے گا۔ قابل ٹیکس آمدنی کی حد 6 لاکھ روپے اور غیرتنخواہ دار طبقے کے لئے 4 لاکھ کرنے، 6لاکھ سے زائد تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس کے 11سلیب بنانے،2ہزار سے زائد سی سی گاڑیوں پر 7.5فیصد ڈیوٹی عائد کرنے،1ہزار سی سی سے زائد گاڑی پر 5 فیصد ٹیکس، ایک ہزار سی سی تک گاڑی پر 2.5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز دی ہے۔