آرمی چیف نے نئی تاریخ رقم کردی، پہلی مرتبہ دفاعی بجٹ میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا، دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019ء کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس ہوا۔ موجودہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے وزیرِ مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اپنی حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کیا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے بجٹ کا حجم 7 کھرب 22 ارب روپے رکھا گیا ہے۔بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 550 ارب رکھا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560ارب روپے ہوگا۔ حالیہ بجٹ میں دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار ہے۔ بجٹ تقریر کے دوران وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ سول و عسکری حکام نے اپنے اخراجات میں مثالی کمی کا اعلان کیا۔یاد رہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے پاک فوج نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس مرتبہ رضا کارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے اور موجودہ الاؤنسز میں کٹوتی کرنے کا

فیصلہ کیا تھا ۔فوج نے راشن، سفری الاؤنس، انتظامی اخراجات میں کمی اور دفاعی ترقیاتی اخراجات مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بچ جانے والی رقم کو قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے گا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےعید الفطر کے موقع پر کہا تھا کہ امسال پاک فوج نے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ نہ لینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قوم پر احسان نہیں ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقدام قوم پر احسان نہیں ہے، ہم ہر قسم کے حالات میں ایک ہیں، بجٹ کٹوتی کو دفاعی صلاحیت اور جوانوں کے معیار زندگی پر اثرانداز کئے بغیر آنے والے مالی سال میں دیگر امور میں ایڈجسٹمنٹ سے پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ بھی صرف افسران کا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ جس کے بعد حالیہ بجٹ میں دفاعی بجٹ میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ برس دفاعی بجٹ 11 کھرب روپے مختص کیے گئے تھے جو امسال بھی 11 کھرب ہی برقرار ہے۔