پاکستان کے قیمتی خزانے نمک پر بھی ایک نظر۔۔۔ تحریر: وسیم اسلم

آج کل سوشل میڈیا پر نمک کے حوالے سے بہت زیادہ شور گل پایا جا رہا ہیں تو چلتے ہیں اس حقیقت کی طرف ، پاکستان اور انڈیا ء کے مابین دو بڑے معاہدے ہوئے جس میں ایک تو پانی کا تھا ،دوسرا نمک کا پہلا یہ تھا کہ جنگ ہو یا امن انڈیاء پاکستان کا پانی نہیں روکے گا نہ دریائوں پر ایکسٹرا ڈیم بنائے گا دوسرا معاہدہ بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ پاکستا ن جنگ یا امن دونوں صورتوں میں انڈیاء کو نمک کی سپلائی بند نہیں کر سکے گا پہلے معاہدے کا انجام جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہیں کہ انڈیاء نے ہمارا پانی روکا یا نہی وہ تو شائد جانتے ہی ہو نگے؟نہی جانتے چلیں آپکو بتاتا چلو ں ،انڈیاء آپکو چلو بھر پانی دینے کو بھی تیار نہیں ،پاکستان آنے والے تمام دریائوں پر سینکڑوں ڈیمز بنا چکا ہیں

اور جو پانی ان ڈیمز سے بچ جائے تو وہ پانی آپ کی طرف بھیج کر احسان کیا جاتا ہے ۔یہ تو تھا اس معاہدہ کا احوال جسکو نبھانے کا پابند انڈیاء تھا ۔اب بات کر تے ہیں دوسرے معاہدے کی جس کا پابند پاکستان تھا (وہ معاہدہ تھا نمک کا) پاکستان نمک سپلائی دیتا رہے گا یاد رہے اس معاہدہ پر ریٹ کے حوالے سے کو ئی شق موجود نہیں کہ پاکستان کتنا ریٹ لگاتا یا کس قیمت پر پر انڈیاء کو یہ نمک بچے گا۔ہمارا نمک ابھی بھی کوڑیوں کے بھائو انڈیاء جاتا ہیں او ر اسکے چارجز پاکستان اتنے بھی نہیں لگاتا جتنا اس نمک کو کھیوڑہ سے کراچی تک کا ٹرانسپورٹ کا خرچ آتا ہے کراچی میں مثال کے لیے بتا رہا ہوں اب انڈیاء یہ نمک ڈھلیوں کی شکل میں لیتا ہے اور کرتا کیا ہے ،صرف اسکو کرش کرکے پیستا ہے اور پیک کر دیتا ہے اور انتہائی مہنگے داموں پوری دینا کو سپلائی کر رہا ہیںکہ ہمارا ملک یہاں قرضوں آفاقوں میں اٹا پڑا ہیں اور ہم کیسے بے فکری سے معاہدے معاہدے کر کے خاموش بیھٹے ہیں کیا ہم خود اس نمک کو کرش کرکے پیک نہی کر سکتے؟اور دینا بھر میں بھی کہیں بھی پنک سالٹ موجود نہیں تو کیا ہم اس انڈسٹری کو نہیں اٹھا سکتے؟اب بات آگئی معاہدہ کی تو پہلا اقدام یہ ہے کہ ہم انڈیاء کو سپلائی دیتے رہے لیکن ہم صرف ان کی ضرورت کے لیے نہ کہ اتنا کہ وہ پوری دنیا میں بیچے ؟اب دوسرا اقدام یہ ہیں کہ ہم بھی انڈیاء کی ڈھٹائی پہ اُتر آئیں اور انڈیاء کو سپلائی کم سے کم کر دیں ،جیسے انکے پاس ہمارا پانی روکنے کے ایک سو ایک بہانے ہیں اسی طرح ہم بھی ایک سو ایک بہانے جانتے ہیں کہ کیوں سپلائی کم دی جا رہی ہے ،اب تیسرا اقدام یہ ہے کہ ہم انڈیاء کو صرف انکی ضرورت استعمال کانمک دیں اور اس سے زائد نا دیں دینا بھر کو سپلائی اپنے برانڈز سے دیں ،اس سے انڈیاء کے پاس کوئی قانونی اختیار نہ ہو گا ،کہ

وہ آپکو فورس کر سکے کہ یہ معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کیونکہ معاہدہ ہے انڈیا ء کو سپلائی دینے کا تو وہ ہم دے رہے ہیں ۔اب چوتھا اقدام یہ ہے کہ ہم انڈیاء کو بھی یہ نمک زیادہ قیمتوں پر دیں کیونکے ابھی جو پیسے ہم انڈیاء سے لے رہے ہیں وہ کوڑیوں کے برابر بھی نہیں ہیں یہ وہ دور نہیں کہ حکمرانوں تک رسائی نہ ہو بلکہ ایک منٹ میں ملک میں ڈالر کے ریٹ بھی کم ہونا شروع ہو جائیگیاور پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سونے کی کان جیسی نمک کی کان دی ہیں اس سے پورا پورا فائدہ لیا جائے آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جو نمک ہم انڈیاء کو کوڑیوں کے دام د یتے ہیں وہ کس کس پیکنگ میں دوسرے ممالک میں ڈالروٗں کی صورت میں بیچ کر ہمارے ملک کے خزانے کا پرافٹ اپنے ملک میں منتقل کر رہا ہیں اور امیر سے امیر ہوتا جا رہا ہیں جبکہ ہم ترقی کی بجائے قرضوں کے بوجھوں سے نہیں نکل رہے ؟