اپوزیشن شور شرابا کرتے رہی وزیراعظم سکون سے بیٹھے رہے، عمران خان کابجٹ تقریر کےد وران دلچسپ انداز سب کی توجہ کا مرکز بن گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ روز مالی سال 20-2019ء کا بجٹ پیش کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس ہوا۔ موجودہ وفاقی حکومت کے وزیرِ مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اپنی حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کیا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے بجٹ کا حجم 7 کھرب 22 ارب روپے رکھا گیا ہے۔بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 550 ارب رکھا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560 ارب روپے ہوگا۔ ایک طرف جہاں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ تقریر کر رہے تھے تو دوسری جانب اپوزیشن رہنما ہاتھوں میں پلے

کارڈز اُٹھائے نعرے بازی اور شور وغل کرنےمیں مصروف تھے۔لیکن اپوزیشن کے اس احتجاج کے باوجود ایوان میں موجود وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا ۔اس سارے وقت میں وزیراعظم عمران خان کانوں میں ائیر فون لگا کر بجٹ تقریر سنتے رہے اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کو داد دینے کے لیے ڈائس بجاتے رہے یہی نہیں بجٹ تقریر کے دوران وزیراعظم عمران خان مسلسل تسبیح بھی پڑھتے رہے۔ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھے جس پر تحریر تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔بجٹ اجلاس کے دوران احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ہم یہ بجٹ مسترد کرتے ہیں۔ اپوزیشن رہنما بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاجاً بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے بھی رہے۔ اپوزیشن کا احتجاج مزید بڑھا تو حکومتی ارکان بھی اپوزیشن کے سامنے آ گئے اور ہاتھوں کی زنجیر بنا لی۔ جبکہ حماد اظہر شور شرابے اور نعرے بازی کے باوجود ایوان میں بجٹ تقریر کرتے رہے۔بجٹ تقریر کے اختتام پر وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں کو فاتحانہ انداز میں اشارے کیے۔ اس وقت وزیراعظم عمران خان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مُسکراہٹ بھی تھی گویا وہ کہہ رہے ہوں کہ اپوزیشن کا اتنا زیادہ احتجاج کسی کام نہ آیا، ہم نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود کامیابی سے ایوان میں بجٹ پیش کر دیا ہے۔