ظالموں سونامی آرہاہے ۔۔۔ تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ

کسی بھی قوم میں اچانک تبدیلی نہیں آتی نہ ہی آزادی نصب ہوتی ہے ۔آزادی پاکستان کے لیے بے شمار ہمارے بزرگوں نے ہمارے لئے اپنی جانوں قربان کیں جس کی بدولت آج ہم آزادزندگی گزررہے ہیں۔اور آج بھی سکیورٹی فورسز کے جوان اور قومی ہیرو وطن کی حفاظت کے لیے جانیں قربان کررہے ہیں۔محب وطن پاکستانی اپنے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کے بعد یہ بات زد عام ہے کہ ’’ ظالموں سونامی آرہاہے ‘‘ کیونکہ کرپٹ افراد کے لئے سخت پیغام دیا گیا ہے ۔بتایاجارہاہے کہ 30جون کے بعد ملک سے اربوں ڈالر لوٹنے والوں کی شامت آئے گی۔جن میں بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں ۔ حکومت کو اہم ثبوت بھی مل گئے ہیں، دوسری جانب وزیراعظم عمران خان قوم سے وعدہ بھی کیا ہے کہ میں مہنگائی کو ختم کروں گا۔ کس کس جگہ سے ڈوریں ہلائی جا رہی ہیں ۔ تحریک

انصاف حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں۔میں اللہ کا حاضر و ناظر جان کر عمل پیرا ہوں۔میں لوٹ مار کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا چاہے وہ میری قریبی شخصیت کیوں نہ ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت اور آمریت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جمہوریت میں حکومت عام لوگوں کے مشورے سے قائم ہوتی ہے ۔ انہی سے مشورے سے ختم ہوتی ہے۔ حکومت اپنے عوام کے سامنے اپنے ہر فعل کے لئے جواب دہ ہوتی ہے۔ آمریت اس کے برعکس کسی فرد، خاندان یا گروہ کی طاقت کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہے ۔ آمر اپنے افعال کے لئے قوم کو جواب دہ نہیں ہوتا۔دور جدید میں اہل مغرب نے سیاسی میدان میں جمہوریت کی روایت قائم کر دی ہے۔ مسلم ممالک میں اس روایت کو بالعموم اختیار نہیں کیا گیا ۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں بادشاہت یا فوجی آمریت کا نظام قائم ہے۔ حالیہ تبدیلیوں کے نتیجے میں دنیا میں سیاسی بیداری پیدا ہو رہی ہے ۔ مسلم ممالک آہستہ آہستہ جمہوری نظام کی طرف جا رہے ہیں۔ بہت سے مسلم ممالک میں لولی لنگڑی جمہوریت قائم ہو چکی ہے۔ بعض مسلم ممالک جیسے ملائشیا میں جمہوری نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ بعض اہم ترین سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان میں بہت سے تبدیلیاں نظریاتی اور بہت سے عملی سیاست میں میدان میں رونما ہوئی ہیں۔اہم تبدیلی عالمگیریت کی تحریک ہے۔ دنیا بھر میں یہ تحریک جاری ہے ۔جس سے پوری دنیا کی سیاست، معیشت اور معاشرت کو ایک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ معاشی میدان میں اس تحریک کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی صورت میں کافی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ معاشرت کے میدان میں بھی اس تحریک کو کسی قدر کامیابی حاصل ہوئی ہے مگر کسی حد تک ایک ملٹی نیشنل کلچر وجود پذیر ہو رہا ہے۔ سیاسی میدان میں اس تحریک کو اب تک کوئی قابل ذکر کامیابی

حاصل نہیں ہو سکی۔پاکستان میں بھی اب تبدیلی نظر آرہی ہے ۔وزیراعظم عمران خان کو کرپٹ لوگوں کے حوالے سے جو رپورٹس پیش کی گئی تھیں ان میں کئی خوفناک انکشافات ہیں۔ ایسی چیزیں سامنے آئی ہیں جس میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیرونی ممالک سے لئے گئے قرضے سے سابقہ حکمران خاندان، تگڑے وزرا اور کئی سرکاری افسران کو نوازا گیا۔ اربوں روپے کی ایسی رقوم جو حقیقت میں پاکستان میں مختلف پراجیکٹس میں خرچ ہو رہی تھیں۔ رقوم کو مختلف افراد نے مختلف ذرائع سے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کروایا بلکہ ایسی ایسی کمپنیز کو بھی ادائیگیاں کی گئیں۔1122 جیسے بڑے پراجیکٹس بھی شامل ہیں جن پر رقوم کی ادائیگی تو ہو چکی لیکن وہ پراجیکٹ حقیقت میں نظر نہیں آ رہے جبکہ 27 ایسے پراجیکٹ بھی ہیں جن کے لئے بیرونی قرضے کے ساتھ ساتھ کئی غیر ملکی این جی اوز سے بھاری فنڈنگ بھی کروائی

گئی،قرضے کی رقم سے حکومتی، سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی افراد نے بھی حصہ وصول کیا۔ 3 سابق وزیر و مشیر خزانہ، 22 اہم سرکاری شخصیات ، چار بڑے سیاسی خاندان اس میں ملوث پائے گئے۔انکوائری کمیشن کو نئے سرے سے ان تمام شواہد کو دیکھنے اور میرٹ پر اس حوالے سے کام کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔ وزیر اعظم سمیت اہم ترین ذمہ داران میں یہ بات بھی طے ہو چکی ہے کہ جو بھی ملوث ہو گا، چاہے اس کا تعلق حکومتی پارٹی سے کیوں نہ ہو، اس کو ہرگز کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی ،نہ ہی کمیشن پر کوئی دباؤ ڈالا جائے گا۔قانونی ٹیم کو جلد از جلد کام مکمل کرنے ، رپورٹ کو جلد از جلد پبلک کرنے اور رپورٹ مکمل ہونے پر جن جن افراد نے غلط استعمال کیا اور کرپشن میں ملوث رہے، اْن کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے قانونی نقطہ نظر سے کیا ایکشن کیا جا سکتا

ہے ، اس پر بھی کام کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔دوسری جانب میڈیا کی بڑھتی ہوئی آزادی کے باعث آمرانہ قوتوں کی معاشرے پر گرفت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ حکمرانوں کے احتساب کی روایت بھی آہستہ آہستہ طاقت پکڑ رہی ہے۔ اس سب کے باوجود اس معاملے میں مسلم ممالک ابھی مغربی ممالک سے سالوں پیچھے ہیں ۔ انہیں مغربی ممالک کے جمہوری نظام تک پہنچنے کے لئے کئی عشرے درکار ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تبدیلی ’’ ظالموں سونامی آرہاہے ‘‘ وقت کی ضرورت ہے لیکن موجودہ دور میں تکنیکی اعتبار سے جنگ نہ صرف شکست خوردہ قوم کے لئے تباہی کا باعث ہے بلکہ اکثر اوقات فتح حاصل کرنے والی اقوام کے لئے بھی جنگ تباہی کا پیغام ہی لے کر آتی ہے۔ صورتحال سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ملک بھر میں امن کی اہمیت اجاگر کی جائے ۔ انہیں تصادم سے روکا جائے ۔ تصادم

دونوں کے لئے ہی مہلک ثابت ہو گا۔سیاسی میدان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں مثبت اور منفی دونوں رجحانات پائے جاتے ہیں۔ بعض تبدیلیاں منفی نوعیت کی ہیں جبکہ بعض مثبت نوعیت کی۔علماء اکرام ، اساتذہ کی رائے میں دینی اور اخلاقی نقطہ نظر سے یہ ایک نہایت ہی مثبت تبدیلی ہے۔ اسلام نے معاشرے میں اجتماعیت کی جو بنیاد پیش کی ہے وہ صرف اور صرف شورائیت ہے یعنی معاشرے کا پورا نظام مشورے سے چلایا جائے۔