ہندوستانیوں کی شنگھائی اجلاس میں عمران خان کے کھڑے نہ ہونے پر تنقید، پاکستانیوں نے توجہ روسی صدر اور عمران خان کی خوش گپیوں کی طرف دلائی تو بھارتی آپے سے باہر ہوگئے

بشکیک (نیوز ڈیسک) بشکیک ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں وزیراعظم عمران خان سربراہان کا استقبال کرنے کے بجائط بیٹھ گئے، جب تمام ممالک کے سربراہان کھڑے تھے تو عمران خان ہال میں آ کر بیٹھ گئے، دوسروں کو دیکھ کر کھڑے ہوئے، پھر بیٹھے اور پھر اٹھ کھڑے ہو ئے.بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے وزیراعظم عمران خان پر خوب تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان دنیا بھر میں اپنے ملک میں غربت کا رونا روتے ہیں لیکن کانفرنس میں استقبال کے لیے کھڑا ہونا ضروری نہ سمجھا۔بھارتیوں نے وزیراعظم کے رویے کو تکبرانہ قرار دے دیا۔اس تمام صورتحال میں بلا پاکستانی کیسے پیچھے رہتے۔پاکستانی صارفین نے جلتی پر تیل ڈالنے والا کام کیا اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ عمران خان اور روسی صدر کی تصاویر کی طرف دلادی۔ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر جیوپولیٹکس کو بدلنے اور ماحول کو تبدیل کرنے کے لئے عمران خان کے مؤثر نقطہ نظر کی عکاسی

کرتی ہیں۔ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ یہ دونوں اس وقت کیا بات کر رہے ہوں گے؟ایک صاراف نے کہا کہ نریندر مودی کا ڈپٹی وزیراعظم نے استقبال کیا جب کہ وزیراعظم عمران خان کا استقبال وزیراعظم نے کیا۔ایک صارف نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں دو نئے دوست بن گئے۔مضبوط تصویر کے ساتھ موثر پیغام بھی۔کوئی جل گیا کسی نے دعا دی۔ایک صارف نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں میڈیا کی کوریج کا آغاز بھی عمران خان اور روسی صدر پوٹن کی سے ہوا اور اختتام بھی جس سے پوریی دنیا کو ایک واضح پیغام مل گیا ہے۔ایک صارف نے دلچسپ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر میں روسی صدر پوٹن پوچھ رہے ہیں کہ مودی نظر نہیں آ رہے تو عمران خان نے کہا نریندر مودی بادلوں کی وجہ سے نظر نہیں آ رہے۔ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ عمران خان اور روسی صدر ساتھ کھڑے ہیں جب کہ مودی کو سائیڈ لائن کر دیا گیا اور وہ ہمارے وزیراعظم کو کیسی نظروں سے دیکھ رہے ہیں؟۔