اب ہم ڈالر کی قیمت کو کنٹرول نہیں کرسکتے، مشیر خزانہ نے ہاتھ کھڑے کردیئے،صاف صاف بتادیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کمزور معیشت ورثے میں ملی ہے۔موجودہ صورتحال میں روپے کی قدر کو سنبھالا نہیں جا سکتا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اس سال حکومت نے 2 ہزار ارب روپے سود دیا،آئندہ مالی سال سود 3 ہزار روپے ہو گا۔ایک سال میں مالیاتی خسارہ 3 ٹریلین ہو گا۔تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر ہے۔ہم سب کچھ امپورٹ کر رہے ہیں۔پاکستانی معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔میں نے 40 ملکوں کی معیشت پر کام کیا ہے۔حفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کبھی مسلسل معاشی ترقی حاصل نہیں کی۔ہم بیرونی دنیا کے ساتھ کاروبار کرنا پسند نہیں کرتے۔ہمارے کاروباری طبقے نے ملک سے باہر اچھے تعلقات

نہیں بنائے۔دس سالوں سے ہماری برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔جب کہ چین چالیس سال سے مسلسل ترقی کر رہا ہےہم نے 70 سال میں اپنی مصنوعات دنیا کو فروخت نہیں کی۔حفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں روپے کی قدر کو سنبھالا نہیں جا سکتا۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ہم ماضی کا قرضہ ادا کرنے کیلیے نیا قرضہ لے رہے ہیں، ہم نے سویلین حکومت کا خرچہ 50 ملین کم کیا ہے، ہم نے آرمڈ فورسز کے اخراجات میں اضافہ نہیں کیا ہے، ہم نے گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا ہے، یہ فیصلہ افواج کے افسران پر بھی لاگو ہوگا۔حفیظ شیخ نے کہا کہ اگر تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے، اگر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم نے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے بجٹ میں دو سو ارب روپے رکھے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی صورتحال بہت الارمنگ ہے، ترقی کا سنگ میل حاصل کرنے کے لیے آپ کو بہت کچھ کرنا ہے، ہم نے مشکل فیصلہ کیا ہے، ہمارے پاس دو چوائسز تھیں جیسے چل رہا ہے چلنے دیتے اور ہمیشہ کیلیے چلے جاتے، ہم اخراجات کم کرنے کی پالیسی پر جارحانہ انداز میں عمل کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 5 سالوں میں برآمدات میں اضافہ صفر فیصد ہے، ہمارے پاس استعداد ہی نہیں ہے کہ ہم ڈالر حاصل کرکے اپنا قرضہ ادا کریں۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سب پوچھتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کیوں گئے، ہم اس لیے گئے کہ آئی ایم ایف کم سود پر قرضہ دیتا ہے، آئی ایم ایف کے ذیلی اداروں سے مزید دو تین ارب ڈالر حاصل کرسکیں اور دنیا کو بتا سکیں کے ہم معاشی اصلاحات کرانا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ چند کمپنیاں

80 فیصد ٹیکس ادا کریں، 50 ملین بینک اکاؤنٹس میں سے صرف ایک ملین ٹیکس ادا کریں اب یہ ممکن نہیں ہے، ہم اپنے اخراجات اور آمدن کے گیپ کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم کاروباری طبقے کو برآمدات میں اضافے کے لیے مراعات دے رہے ہیں۔مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے 45 دن میں ریٹرن فائل نہیں کیا تو آپ خود بخود فائلر بن جائیں گے، اگر آپ کے پاس 25 لاکھ روپے کی گاڑی ہے تو آپ کو بتانا ہوگا آپ نے یہ گاڑی کہاں سے خریدی، ہم نان فائیلر کی کٹیگری ختم کررہے ہیں، ہم ایکسپورٹ پر کوئی ٹیکس نہیں لیں گے لیکن اگر آپ ملک میں اپنی مصنوعات فروخت کررہے ہیں تو آپ کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔