دبنگ صحافی۔ سچے عاشق رسولﷺ۔۔ جناب رحمت علی رازیؒ۔۔۔ تحریر: محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

نو سال قبل سوشل میڈیا کیوجہ سے جناب رحمت علی رازی صاحب سے رابطہ ہوا۔ تو انتہائی شفقت فرماتے۔میرا کالم بطور خاص روزنامہ طاقت میں اُن کی وجہ سے ہی چھپنا شروع ہوا۔ یوں میری پہچان ہی روزنامہ طاقت بن گیا۔میرئے دوست احباب خاص طور پر میری روزنامہ طاقت کے ساتھ وابستگی کا ذکر فرماتے ۔ میرا جب بھی اُن سے رابطہ ہوتا تو میں کسی بھی آرٹیکل کو شائع کرنے کا کہتا تو فوراً کہتے کوئی بات نہیں ہو جائے گا اور اپنے سٹاف کو ہدایت دیتے۔ یوں میرا کالم کہیں اور شائع ہو یا نہ ہو روزنامہ طاقت میں لازمی شائع ہوتا۔رازی صاحب کے حکم کی بدولت میرا ایک تفصیلی انٹرویو اِن کے ہفتہ وار میگزین عزم میں شائع ہوا۔ تیرہ صفحات کے انٹرویو میں کلرآرٹ پیپر پر میری تصاویر شائع ہوئیں۔ میں نے جب اُن کا شکریہ ادا کیا تو کہنے لگے کوئی بات نہیں بس ہمارئے لیے دُعا کردیا کریں۔ یوں رازی صاحب کے

بیٹے اویس رازی کے ساتھ بھی محبت کا رشتہ برقرار ہے ابھی ایک دن پہلے ہی اویس رازی کو میں نے میسج کیا کہ میں نے ٹیکس کے نظام پر آرٹیکل بھیجا ہے تو اُنھوں کہا ٹھیک ہے۔اپریل میںیعنی تقریباً ڈیرھ ماہ قبل چینل فایئو خبریں گروپ کے پروگرام کے کالم نگار میں اُن کے ساتھ شرکاء میں مجھے بھی بیٹھنے کی سعادت ملی۔ میں نے اُن کے ہاتھو ں کو بوسہ دیا اور انھوں نے بھی مجھے شفقت سے نوازا۔یوں اُن کے ساتھ کالمنگار میں چند پروگراموں میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ ایک دبنگ صحافی، نفیس انسان، CPNE اور APNS کے روح رواں فیصل آباد سے واپسی پر راستے میں موٹروے پر انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ وہ اپنے بیٹے اویس رازی کے ہمراہ ممتاز صنعتکار میاں حنیف کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے کہ M3 پر ساہیانوالے کے قریب انہوں نے سانس لینے میں کچھ دشواری محسوس کی۔ بیٹے نے ڈرائیور اختر کو گاڑی روکنے کا کہا۔ پانی پیا، کچھ دیر ڈیپ بریتھنگ کی۔ اویس نے مشورہ دیا کہ واپس فیصل آباد جا کر کسی ڈاکٹر کو دکھا لیتے ہیں۔ کہنے لگے، نہیں لاہور پہنچ کر کسی کو دکھاتے ہیں۔ M2 پر آتے ہوئے رحمت علی رازی اپنا سر بیٹے کی گود میں رکھ کر لیٹ گئے، وہ زیرِ لب قرآن پڑھتے پڑھتے سو گئے۔۔۔ لاہور پہنچ کر بیٹے نے جگانے کی کوشش کی لیکن قلندر صحافی ہمیشہ کے لئے سو گیا تھا۔ اتفاق ہسپتال کے ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کر دی۔ ایسے رخصت ہوئے کہ یقین نہیں آ رہا۔ بیشک ہم سب اس اللہ کا مال ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ لوگ ایسی پرسکون موت کی تمنا کرتے ہیں۔اللہ رحمت علی رازی سے راضی ہو جائے اور مغفرت فرمائے۔ حضرت علی ہجویری علیہ الرحمہ سے بیحد عقیدت رکھتے، ان کی بک شیلف کشف المحجوب، غیتہ الطالبین، اور ضیاؑالقرآن جیسے

کتابوں سے مزین رہتی۔سیکرٹریٹ کی بیٹ کرتے انہون نے ”درونِ خانہ” کا آغاز کیا، نوائے وقت میں مرحوم مجید نظامی کے بہت قریب رہے، پھر جنگ میں میر شکیل الرحمٰن کا اعتماد ان کو حاصل رہا۔ اے اللہ اپنے اس وضعدار، نیک طینت، خوددار، انسان دوست بندے رحمت علی رازی سے راضی ہو جا۔ کوتاہیوں سے درگزر فرما اور نیکیوں کو قبول فرما کر ان کا بہترین اجر جنت الفردوس کی صورت عطا فرماَ۔رحمت علی رازی نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز 1974ء میں روز نامہ’’وفاق‘‘ کے سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے کیا۔ 1978ء میں وہ ’’پنجاب یونین آف جرنلسٹس‘‘کی ’’مجلس ِ عاملہ‘‘ کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوئے اور 1979 میں اس کے جوائنٹ سیکرٹری چن لئے گئے جبکہ 1981ء میں ’’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘‘ کی ’’مجلس عاملہ‘‘ کے رکن منتخب ہوئے۔ 1980 سے 1982 تک روزنامہ’جرات‘‘ کے

ایگزیکٹوایڈیٹر رہے۔ 1988ء میں ’’آئی ایس پی آر‘‘ کی جانب سے ’’دفاعی نامہ نگار‘‘ کی تربیت حاصل کی۔ 1989 میں پاکستان آرمی کی مشقِ اعظم’’ضربِ مومن‘‘ میں شمولیت اختیارکر کے فوج کے مختلف یونٹوں کے ساتھ رہے اور اس جنگی مشق کی بہترین رپورٹنگ پر انہیں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ’’تعریفی سند‘‘ عطا کی گئی۔ پھروہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ بطور ’’فیچر رائٹر‘‘ اور انٹرویو نگار منسلک ہوگئے اور 1984ء سے مارچ 1994ء تک سینئر سٹاف رپورٹر کے طور پر کام کیا۔ بعدازاں رحمت علی رازی مارچ 1994ء میں ہی روزنامہ ’’جنگ لاہور‘‘ کے ساتھ ’’خصوصی نامہ نگار‘‘ کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے اور ان کی قابلیت اور غیر معمولی کارکردگی کی بنا پر 1997ء میں انہیں ایڈیٹر گریڈ میں ترقی دے کر’’جنگ گروپ آف نیوز پیپرز‘‘ کا ’’ایڈیٹر انویسٹی گیشن‘‘ مقرر کر دیا گیا۔

روزنامہ جنگ میں ’’درونِ پردہ‘‘کے نام سے شائع ہونے والا ان کاکالم قومی اوربین الاقوامی سطح پر ہر مکتبہ فکر کی توجہ کا مرکز بن گیاجو آجکل روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘، روزنامہ’’طاقت‘‘ اور ہفت روزہ ’’عزم‘‘ کے صفحات کی زینت بن رہا تھا۔حالات پر گہری نظر رکھنے والے رحمت علی رازی پاکستان کے واحد صحافی ہیں جنہوں نے 1987 سے 1996 کے دوران تحقیقی رپورٹنگ میں سات ’’اے پی این ایس‘‘ایوارڈز حاصل کر کے صحافت کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا۔ شعبہ صحافت میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں 23 مارچ2000ء کو ’’صدارتی تمغہ برائے حسن ِ کارکردگی‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ جناب رحمت علی رازی ایک شجر سایہ دار تھے اور نبی پاک ﷺ کے سچے عاشق تھے۔ پاکستانی کی نظریاتی سرحدوں کے مجاہد تھے۔ اُن کی تحریروں نے معاشرئے پہ انمٹ نقوش چھوڑئے۔ رازی صاحب ایک بہادر صحافی تھے۔ وہ میرئے وہ روحانی اُستاد تھے۔