یہ نریندر مودی کا دوسرا جنم ہےوہ اپنےپہلے جنم میں سرسید احمد خان تھے، بھارتی میڈیا کا مضحکہ خیز دعویٰ

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارتی میڈیا اپنے مضحکہ خیز دعووں کی وجہ سے اکثر ہی خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔ تاہم اب بھارتی میڈیا نے تاریخ کا سب سے زیادہ مضحکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے جبکہ وہ پہلے جنم میں سر سید احمد خان تھے۔ یہی نہیں بھارتی میڈیا نے اس حوالے سے ایک مکمل رپورٹ بھی تیار کر لی جس میں کہا گیا کہ سر سید احمد خان دوسرے جنم میں نریندر مودی بن کر آئے ہیں۔بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ بات صرف بھارت کا کوئی نظریہ سازش نہیں بلکہ اس میں امریکی رائے بھی شامل ہے۔ بظاہر امریکی شہر سان فرانسسکو میں ایک ریسرچ سینٹر ہے جو از سر نو تجسم اور مرنے کے بعد

روح کے دوسرے جسم میں منتقل ہونے سے متعلق ریسرچ کرتا ہے۔اس ریسرچ سینٹر نے دنیا بھر سے 2 سو ملین لوگوں پر ریسرچ کی اور پتہ لگایا کہ یہ لوگ اپنے پچھلے جنم میں کیا اور کون تھے۔یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ از سر نو تجسم بھارت میں ایک عقیدے کے طور پر سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ہندو مذہب کا بھی اہم حصہ ہے۔ ہندو مذہب رکھنے والوں کا عقیدہ ہے کہ ایک شخص کی موت کے بعد اس کی روح زندہ رہتی ہے جبکہ جسم مُردہ ہوجاتا ہے۔ روح مختلف جسموں میں جاتی اور اپنا لائف سائیکل پورا کرتی ہے۔روح جسم سے الگ ہونے کے بعد ہر مرتبہ کچھ نیا سیکھنے کے لیے کسی دوسرے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اور اس سائیکل کی وجہ سے مکافات عمل بھی ہوتا ہے۔ اس ریسرچ سینٹر کے مطابق نریندر مودی اپنے پچھلے جنم میں سر سید احمد خان تھے۔ ریسرچ سینٹر کا دعویٰ ہے کہ پچھلے جنم میں مشہور رہنے والا بندہ اپنے اگلے جنم میں بھی کافی معروف ہوتا ہے۔ سرسید احمد خان اور مودی کا داڑھی کا اسٹائل بھی ملتا ہے اور ان کے چہروں میں بھی کافی تشبیہہ ہے۔لیکن ان کی ریسرچ میں یہ اس بات کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جا سکی کہ پہلے جنم میں اسلام کے دلدادہ رہنے والا ایک شخص اپنے اگلے جنم میں اسلام مخالف کیوں ہوا۔ بھارتی میڈیا کی اس رپورٹ کو سوشل میڈیا پر بھی مضحکہ خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا ہر مرتبہ ہی ایسی کوئی مضحکہ خیز دعوے والی ویڈیو سامنے لے آتا ہے جو ہر مرتبہ بھارت کی جگ ہنسائی کا سبب بنتا ہے۔