مصری حکومت کا وفات کے بعد بھی محمد مرسی کیساتھ توہین آمیز سلوک، میت کو غسل دینے اورنماز جنازہ کیلئے کس جگہ کا انتخاب کیا گیا، افسوسناک تفصیلات

مصر (مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کے سابق صدر محمد مرسی گذشتہ روز عدالت میں پیشی کے دوران انتقال کر گئے تھے جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی میت کو جیل میں غسل دیا گیا جبکہ ان کی نماز جنازہ بھی چند افراد کی موجودگی میں جیل میں ہی پڑھائی گئی۔محمد مرسی کی نماز جنازہ میں صرف اہل خانہ کوشرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ محمد مرسی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے محمد مرسی کی تدفین آبائی شہرشرقیہ میں کرنےسے روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مصر کی حکومت اس حوالے سے خوفزدہ ہے کہ اگر محمد مرسی کی میت کو باہر نکالا گیا تو ان

کے لیے عوامی حمایت اُجاگر ہو جائے گی اور ایسے میں حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ محمد مرسی کو انتقال کے بعد بھی جیل سے باہر نہیں لایا گیا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں پیشی کے دوران انتقال کر گئے تھے۔ مصر کے سابق صدر محمد مرسی پر قطر کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت ختم ہونے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود محمد مرسی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ بے ہوش ہو جانے کے بعد محمد مرسی کو فوری اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا۔واضح رہےکہ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر مرسی 2012 میں صدر حسنی مبارک کے بعد برسرِ اقتدار آئے تھے ۔ محمد مرسی باقاعدہ انتخابات کے بعد جمہوری طریقے سے حکومت میں آئے تھے اور اسطرح حسنی مبارک کا 30 سالہ اقتدار ختم ہوگیا تھا ۔حسنی مبارک کے خلاف 2011 میں مصر میں پرتشدد مظاہرے اور احتجاج شروع ہوا تھا جسے ’بہارِ عرب‘ یا عرب اسپرنگ سے تعبیر کیا گیا تھا جس کےبعد انتخابات ہوئے اور 2012 میں محمد مرسی کو اقتدار ملا تھا ۔ اس کے بعد جولائی 2013 میں فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا اور ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔اس طرح محمد مرسی اپنے چارسالہ دورِ اقتدار میں سے صرف ایک سال ہی حکومت کرسکے اور اسی دوران ان کی مشہور سیاسی اسلامی جماعت اخوان المسلمون پربھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس کےبعد حال ہی میں امریکا نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دیا ہے۔محمد مرسی مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے جمہوری صدر بھی تھے جو آج 67 سال کی عمر میں فوت ہوگئے ہیں۔ آج عدالت میں پیشی پر انہوں نے جج سے 20 منٹ تک بات کی اور وہ بہت پرجوش دکھائی دے رہے تھے کہ اسی دوران وہ بے ہوش ہوکر گر پڑے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا ۔ ہسپتال میں ان کی جان بچانے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جان نہیں بچائی جاسکی۔جولائی 2013 میں مصر کے فوجی جنرل عبدالفتح السیسی نے ان کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کرلیا تھا اور خود مصر کے صدر بن گئے تھے۔ ان پر مخالف مظاہرن کے قتل کا الزام تھا جس پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔