جعلی بینک اکاؤنٹس کیس، آصف زرداری بُری طرح پھنس گئے،تین شوگر ملوں کے منیجرز کو گرفتار کر لیا گیا

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے بیان کے بعد تین شوگر ملوں کے مینجرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب راولپنڈی کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ نیب راولپنڈی نے سابق صدر آصف زرداری کے بیان کے بعد تین شوگر ملوں کے مینجرز کو گرفتار کر لیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق فنانس منیجر شوگر ملز ٹنڈو محمد کاظم علی کو گرفتار کیا۔ ملزم نے اومنی گروپ کے ساتھ مل کر 846 ملین روپے کی خورد برد کی۔ اس کے علاوہ فیصل اور امان اللہ بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ فنانس منیجر چیمبر شوگر ملز فیصل ندیم نے 4 کروڑ روپے جعلی دستاویزات کے ذریعے سندھ حکومت سے وصول کیے جبکہ جعلی کاغذات کے ذریعے اربوں روپے کے قرض بھی لئے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کو

27 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ تیسرا ملزم امان اللہ فنانس منیجر خوشکی شوگر ملز نے جعلی فرم بنا کر سندھ حکومت سے دو کروڑ کی سبسڈی لی اور کسانوں کے 18 ملین بھی ڈیفالٹ کیے۔ 9 ملازمین کے نام پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر بیس ملین کا نقصان پہنچایا گیا۔ تینوں ملزمان کے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے وارنٹ جاری کیے تھے۔ملزمان کو آج منگل کے روز احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان کے ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔ خیال رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اس وقت نیب کی حراست میں اور 21 جون تک جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ نیب کی ٹیم سابق صدر آصف علی زرداری سے تحقیقات کر رہی ہے۔ نیب کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔