انسداد منشیات مہم۔ ملک و قوم کی ترقی ،مستقبل کی ضامن ۔۔۔ تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ

انسداد منشیات سے شعور و آگاہی کے مقصد کے تحت دنیا بھر میں ہر سال 26 جون کو منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جو نشے میں مبتلا اپنے بچوں کے مستقبل سے نااْمید ہو چکے ہیں۔ہمارے نوجوان اکثر و بیشتر معاشرتی ردعمل اور نامناسب رہنمائی کی وجہ سے نشے جیسی لعنت کو اپنا لیتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل منشیات، شراب، جوے اور دیگر علتوں میں مبتلا ہو کر نا صر ف اپنی زندگی تباہ کر رہی ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان والوں کے لیے بھی اذیت اور ذلت و رسوائی کا سبب بن رہی ہے۔ ملک و قوم کی ترقی اور مستقبل کے ضامن یہ نوجوان جرائم پیشہ ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ نشہ جسم کے ساتھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی سلب کر کے رکھ دیتا ہے۔بیسویں صدی تاریخ کی سب سے زیادہ پر تشدد صدی تھی۔اکیسویں صدی

کے شانوں پر اسی روایت کا بوجھ ہے۔جسمانی تشدد سے قطع نظر ،بیسویں صدی نے انسان کو تشدد کے نت نئے راستوں پر لگا دیا۔نوجوان نسل میں ذہنی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ بے روز گاری اور ٹیکنالوجی کو بڑھتا ہو امنفی رحجان جیسے عوامل شامل ہیں۔نوجوانوں میں چرس کے بے جا استعمال کی وجہ سے ذہنی امراض جس میں منشیات کا عادی ہونے کے ساتھ ساتھ نشی افراد میں مینٹل ڈیس آڈر میں اضافہ ہورہا ہے۔تہذیبی ،لسانی ،سیاسی ،جذباتی تشدد کے کیسے کیسے مظہر اس صدی کی تہہ سے نمودار ہوئے۔حد تو یہ ہے کہ اس صدی کی اجتماعی زندگی کے عام اسالیب تک تشدد کی گرفت سے بچ نہ سکے۔اس عہد کی رفتار، اس کی آواز،اس کے آہنگ اور فکر ، ہر سطح پر تشدد کے آثار نمایاں ہیں۔منشیات کے طوفان نے ایک بے قابو اور بے لگام معاشرے میں جو اپنی رفتار ،اپنی آواز، اپنے اعصاب اور حواس کو سنبھالنے کی طاقت سے محروم ہوچکا ہو،اس میں کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقار حسین ایک طرح کے دفاعی مورچے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ہمیں فکر کا ایک گہرا ،بامعنی ،مثبت اور انسانی زاویہ اختیار کرنا ہے تو لامحالہ ہمیں دو باتوں پر انحصار کرنا ہوگا ایک تو یہ کہ زندگی بالآخر ہمارے اندر ایک طرح کا المیاتی احساس پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی تمام فکری اور مادّی کامرانیوں کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ ہمیں بہرحال انسان دوستی کے تصور کا سہارا لینا ہوگا کیونکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم نے اپنا سفر کہاں سے شروع کیا تھا اور ہم بالآخر کہاں پہنچنا چاہتے ہیں۔گویا کہ انسان دوستی کا احساس تخلیقی تجربے کی بنیاد میں شامل ہے،ملک میں سافٹ اور ہارڈ ڈرگز کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور منشیات کے استعمال میں نئے نئے رحجانات

میں اضافہ ہو رہا ہے مردوں کی نسبت خواتین منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلا سکتی ہیں وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ خاتون اول بشرہ عمران ملک میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رحجان کے خلاف ملک گیر سطح پر مہم کا آغاز کریں ، سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیو ں میں منشیات کے خلاف ہمیں مہم کو آسان سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہئے۔پاکستانی قوم کے بارے میں مختلف ممالک کے دوست کا کہنا ہے آپ سب کے سب انتہائی ذہین اور باکمال انسان ہیں، اللہ تعالی نے آپ سب کو انتہائی شاندار شخصیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آپ کو بے انتہا خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔ آپ کسی بھی قسم کی مشکل سے یا دن رات محنت کرنے سے نہیں گھبراتے۔ آ پ نہایت ایماندار ہیں۔ آ پ عزم اور ارادے کے پکے ہیں۔ آپ حوصلہ مند اور بہادر ہیں۔آپ ہمیشہ دوسروں کے ہر اچھے اقدام کو تحسین و تعریف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔آپ مشکل سے

مشکل حالات میں بھی سچ بولتے ہیں۔ آپ بہت با اخلاق اوراعلی ظرف شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ بہت منکسر المزاج ہیں اور دوسروں کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ اپنے دوستوں کی ہر مشکل وقت میں مدد کرتے ہیں۔ آپ اپنی نوکری نہایت ایمانداری کے ساتھ کر رہے ہیں۔ آپ سے ایک بار ملنے کے بعد لوگ آپ سے دوبارہ ملنا پسند کرتے ہیں۔ آپ جس محفل میں بھی جائیں وہاں لوگ آپ کو بہت زیادہ عزت دیتے ہیں کیونکہ آپ لوگوں کو بھی بے پناہ عزت دیتے ہیں۔ جو لوگ مشکل حالات میں آپ سے مدد مانگتے ہیں آپ ان سے خندہ پیشانی سے بات کرتے ہیں اور مسکراتے ہوئے ان کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ یہ معاشرہ آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی اتنا خوشحال اور ترقی یافتہ ہورہا ہے۔ قومی وبین الاقومی سطح پر انسداد منشیات آگاہی مہم میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقار حسین کا کہناہے کہ میں نے گزشتہ

31سال سے اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کر رکھی ہے جوانسداد منشیات مہم میں بے شمار خدمات سرانجام دیں اور سفر جاری ہے۔ پاکستان کے لوگ میرے اس کام کو تسلیم کرتے ہیں جو میں نے اب تک کیا ہے اور خدا کے فضل سے وہ مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ انشااللہ، منشیات کا پاکستان سے خاتمہ ہو کر رہے گا، لیکن اس کے لئے ہم سب کو لگن اور ایمان داری سے کام جاری رکھنا ہو گا۔آج کے نفسا نفسی کے عالم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو کسی کے کام آئے ، سیاست دان جن کا کام عوام کو امیدیں دلا کر ، ان کے جزباتوں کے ساتھ کھیلنا ہے ، اگر اسکو دکانداری کا نام دیا جائے تو یقیناًغلط نہ ہوگا۔کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقار حسین کی خدمت کا سفر روک نہیں سکتا کیونکہ دکھی انسانیت کے کام آنا انسان کی زندگی کا خاصہ ہے ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر سیاست دان اور اہم عہدوں پر فائز افسران کو دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین