فراہمی انصاف میں تاخیر اور چند تجاویز۔۔۔ تحر یر : محمود مولوی

کسی بھی ریاست کا مقصد اور اس کا وجود ہی عدل وانصاف کی فراہمی کر نا ہوتاہے ،قیام پاکستان سے لیکر اب تک وقتا فوقتا عدالتی نظام میں اصلاحات لانے کی کوششوں پر کام ہوتارہاہے چیف جسٹس آف پاکستان کاحالیہ بیان نہایت خوش آئند ہے کہ وہ عدالتی نظام میں اصلاحات لانے کے خواہش مند ہیں ہمارے چیف جسٹس آف پاکستان کے متعلق یہ بات بھی بہت مشہور ہے کہ وہ مقدمے پر سماعت ملتوی کرنے کے حامی نہیں ہیں ،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم خان کے بقول مقدمے کو غیر ضروری طوپر ملتوی کرناجسٹس آصف سعید کھوسہ کی ڈکشنری میں نہیں ہے ،جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیاتھاوہ اپنی چار کتابیں بھی تصنیف کرچکے ہیں ان

تمام خوبیوں اور اپنی تعلیمی قابلیت اور سب سے زیادہ فیصلے تحریر کرنے کے حوالے سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام دوسرے ملکوں کی نسبت قابل رشک ہے لیکن کسی بھی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں،اور ہماری عدلیہ نے بھی وقت کے تقاضوں کو پورا کیاہے ،پاکستان میں سستے اور جلد انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک مسئلہ جو لوگوں کودر پیش آتاہے وہ یہ ہے کہ مقدمات طویل عرصے تک چلتے رہتے ہیں اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ججوں اور عدالتوں کی تعداد میں کمی کا ہوناہے اس سلسلے میں نئے ججز کو مقررکیا جاسکتاہے ،لیکن یہ تعیناتیاں ایک دم سے بڑی تعداد میں نہیں ہوسکتی ،کیونکہ تقرری کے خواہش مند جج صاحبان کی تقرری کے وقت معیار اور تجربے کا بھی خیال رکھنا پڑتاہے ،یعنی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ متعلقہ شخص اس عہدے کی قابلیت اور تجربہ رکھتا ہے کہ نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ججوں کی تقرری کا وقت آہستہ ہوتاہے اس مسئلے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ پھر عدالتی نظام رات بارہ بجے تک کام کرتارہے مطلب جو عدالتیں اپنے موجودہ وقت کے مطابق کام کرتی رہے باقی شام اور رات کوبھی اس عمل کو جار ی رکھا جاسکتاہے اس طرح زیادہ سے زیادہ مقدمات کو نمٹایا جاسکتاہے بہت سے ممالک میں شام اور رات کی عدالتوں پر تجربہ کیا گیاہے جو عموماً کسی حد تک کامیاب رہاہے لہذا ہماری عدالتی نظام میں ڈسٹرکٹ لیول اور ہائی کورٹ لیول پر یہ تجربہ کیا جاسکتاہے یعنی اگر اس عمل کے نتائج خاطر خواں نکلیں تو پھر اس عمل کو مستقل کیا جاسکتاہے ،مجھے قوی یقین ہے کہ شام اور رات کی عدالتوں کا یہ نظام ضرور کامیاب

ہوسکتاہے کیونکہ اس عمل سے مقدمات جلد ازجلد نمٹانے کے امکانات بڑھ جائینگے بہت سے ایسے مقدمات ہوتے ہیں کہ جو دادانے شروع کیئے ہوتو وہ پوتے کے زمانے میں جاکر ختم ہوتے ہیں ،مقدمات میں طوالت انصاف کے حصولوں کی نفی کرتی ہے کیونکہ خود قانون ہی کہتاہے کہ انصاف قانون کے مطابق اور جلد ازجلد ملنا چاہئے تاکہ کوئی بھی مقدمہ سالوں پر نہ لٹک سکے،ایک رپورٹ کے مطابق اٹھارہ لاکھ سے زائد کیسزپاکستانی کورٹس میں بند پڑے ہوئے ہیں ،مقدمات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے جس کی وجہ سے ججوں پر بھی کام کا بوجھ بڑھ چکاہے ایک جج کو روزانہ سینکڑوں کیسوں کی سماعت کرناپڑتی ہے ،جس کی وجہ سے پریشانی پھرہر ایک کو ہی اٹھانا پڑتی ہے ایک چھوٹی سی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ

جب شیخ وحید نامی ایک شخص نے لاہور میں 11نومبر 1956کو ایک کمرشل پلاٹ خریداتو اس کو اندازہ نہیں تھاکہ کبھی اس کو قبضہ نہیں ملے گا۔اس نے کئی عشروںتک اس پلاٹ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے سپریم کورٹ میں اس کیس کو اٹھایاعبدالوحید ان لاکھوں لوگوں میں سے ایک ایسا کردار ہے جن کاکیسز سیشن کورٹ ،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پھنسے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری کی بحالی کے بعد عبدالوحیدکو کو ایک امید ہوئی ہے کہ کورٹس سے انہیں اب کچھ ریلیف ملے گا مگر ایسا نہ ہواکیونکہ عبدالوحید کی طرح کئی سائلین ایسے ہیں جن کے کیسوں کی سنوائی کوکئی عشرے بیت چکے ہیں،عبدالوحید کی طرح پاکستان میں ایسے سینکڑوں مقدمات ایسے ہیں جن کو اگر لکھنے بیٹھے تو لکھتے ہی چلے جائینگے

، جن کے سائلین کی اندرونی کہانیاں سن سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتاہے ،کسی کیس کا فیصلہ ہوجائے تو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں یہ ہی کیس اپیل کی شکل میں دوبارہ نئے سرے سے شروع ہوجاتاہے ،یعنی ملزموں کو سزائوں سے گزرنا پڑتاہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ورثاء کو بھی سخت ازیت سے دوچار ہونا پڑتاہے ،اس طرح ملک کے چاروں صوبوں میں زیر التواکیسوں کی تعداد ہزاروں کی تعداد سے بڑھتی چلی جار ہی ہے ۔اس طوالت کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو تمام تر ظلم اور زیادتیاں سہہ لیتے ہیں مگر اس کے باوجود عدالتوں کا رخ نہیں کرتے ،کیونکہ وہ انصاف کے حصول میں تاخیری اور دشواری ک خوف میں مبتلا ہوتے ہیں،اس عمل سے خود سوزی اور خودکشیوں کے واقعات بھی جنم لے لیے

ہیں اور یہ سب کچھ کسی بھی انسان میں مایوسیوں کے بڑھنے سے ممکن ہوتاہے ،مگر اس میں یہ بات نہیں ہے کہ انصاف نہیں ملے گا پاکستان کے عدالتی نظام میں کوئی کمی نہیں مگر معاملہ صرف اس طوالت کا ہے جس سے لوگوں کا عدالتوں میں چکر لگالگاکر سب کچھ ہی بک جاتاہے اس کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑتاہے اور مقدمے کی طوالت سے مقدمے کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں یعنی انصاف کا حصول مہنگا ہوجاتاہے۔جلد فیصلوں سے نہ صرف قانون کا بول بالا ہوگا بلکہ شہری بھی قانون اپنے ہاتھوں میں لینے سے گریز کرینگے ،جبکہ کورٹ کچہری کے معاملات تو ویسے بھی بہت پیچیدہ ہوتے ہیں مگر دیوانی مقدمات کا معاملہ تو تیسری پیڑھیوں میں جاپہنچتاہے کبھی مدعی نہیں ہوتا توکبھی ملزم

نہیں پہنچ پاتا۔جو شروع ہونے کے بعد ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوجاتاہے ،ایسے کیسز میں بعض اوقات فریقین بھی غیر ضروری تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں ،ان جھمیلوں کی وجہ سے مقدمات کی طوالت کی وجہ سے گھر کے گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود انصاف کا واحد نظام عدالتی نظام ہی ہے اور ہمیں اسی کو مزید بہتر کرناہے کیونکہ اس عدالتی نظام کا کوئی متبادل نہیں ہے ۔اپنے عدالتی نظام میں بہتری کے لیے دبئی کے وزیراعظم اور وائس پریزیڈنٹ اور دیگر حکمرانوں کے درمیان ایگزیکٹیوکونسل کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں یہ فیصلہ کیا گیاکہ عدالتی کیسز کو ایک دن میں ہی نمٹایاجائے ان کا خیال تھا کہ اس طرح انصاف کے حصول میں تیزی لانے کے ساتھ سالانہ ہم چالیس ملین درھم بھی بچاسکیں گے ۔

بلکل اس طرح میری اس تجویز پر یعنی شام اور رات کو بھی عدالتیں چلائیں تو ان تمام معاملات کا حل کسی حد تک نکل آتاہے جس سے بہت سے لوگوں کی تکالیف اور پریشانیوں دور ہوسکتی ہیں ہمارے پاکستان کے چیف جسٹس صاحب نے مقدمات کو جلد ازجلد نمٹانے کے لیے جہاں اہم اقدمات کیے ہیں وہاں مزید اقدمات اٹھانے کی بھی بات کی ہے لہذا ان کی خدمت میں گزارش ہے میری اس تجویز پر بھی توجہ دیں کہ شام اور رات کو عدالتیں چلائی جائیں، ابتداًیہ کام تجرباتی بنیادوں پر بھی کیا جاسکتاہے اور اگر اس کے اچھے نتائج نکلیں تواس نظام کو مستقل بنیادوں پرقائم کیا جاسکتاہے ۔mahmoodbaqimoulvi@gmail.com