چوہدری انوار الحق اپنے حلقے کو سنبھال نہیں سکتے،آزادکشمیر کے 41حلقوں کو کیسے سنبھالیں گے،ڈاکٹر انعام الحق چوہدری

بھمبھر(پی کے نیوز)پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی رہنماء و سابق امیدوار اسمبلی حلقہ 7 ڈاکٹر انعام الحق چوہدری نے بھمبر میں پرُ ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر ا راستہ روکنے کے لیے سابق اسپیکر اسمبلی پی ٹی آئی کا صدر بننے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں میں نے مشکل دور میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی چوہدری انوار الحق اپنے حلقہ کو سنبھال نہیں سکتے وہ آزادکشمیر کے 41 حلقوں کو کیسے سنبھال سکتے ہیں وہ صدارت کے اہل نہیں، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری جماعت کے استحکام کے لیے خطہ کے 41 حلقوں میں جارہے ہیں اور جماعت کو ایک

مضبوط قوت بنا دیا و ہی صدارت کے اصل حقدار ہیں سابق اسپیکر اسمبلی کرپشن کے خلاف ہیں تو رینٹل پاور کرپشن منصوبہ جس میں موصوف کا قریبی ساتھی ملوث ہے کے خلاف بھی آواز بلند کریں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ٹکٹ لینے کے لیے چاپلوسی کرنے والے سابق اسپیکر اسمبلی اب کس منہ سے ان کی مخالفت کررہے ہیں انکی اور تمام لوگوں نے والد محترم کی وجہ سے ووٹ دئیے تو چند سو ووٹروں سے الیکشن جیت سکا، 5 سال لوگوں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا اور اگلے الیکشن 2011 میں عوام نے اسے مستر د کردیا، پیپلز مسلم لیگ کا ٹکٹ لے کر ممبر اسمبلی بننے والا انوار الحق چند ماہ بعد ہی اسے چھوڑ کر سردار یعقوب خان کے ساتھ مل گیا وزیر ہاوسنگ بنا لاکھوں روپے کمیشن حاصل کی چیئرمین معائنہ کمیشن بن کر ایم ڈی اے میرپور گئے اور وہاں بھی ملی بھگت کرنے کی کوشش کی، 2 ماہ قبل پی ٹی آئی کی تنظیموں کی توڑ کر نئی تنظیم ساز ی کا فیصلہ ہوا اب جبکہ تنظیم سازی کا عمل شروع ہے تو میرا بھائی انوار الحق بھی پی ٹی آئی کی صدارت کا امیدوار بن رہا ہے وہ اس جماعت کا ممبر نہیں بنا شامل نہیں ہوا تو صدر کیسے بن سکتا ہے پی ٹی آئی میں نقب لگانا اور میرا راستہ روکنا چاہتا ہے انوار الحق نے اپنا کیرئیر 1990 میں بطور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر شروع کیا 9 ما ہ بعد اسے ملازمت چھوڑنا پڑی والد محترم چوہدری صحبت علی سنیئر وزیر تھے ان کو آٹا سمگلنگ کی شکایات ملیں والد محترم نے انہیں کہا کہ نوکر ی چھوڑ دو، 1996ء میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بطو ر وزیراعظم انوار الحق کو ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل بھمبر تعینات کیا، برنالہ سماہنی کے وزراء اس بات کے مخالف تھے پھر بھی کمال شفقت کا مظاہر ہ

کرتے ہوئے اسے ایڈمنسٹریٹر لگا دیا گیامقتدر حلقوں نے اسے وارننگ دی کہ جعلی ترقیاتی سکیموں سے باز آجاؤوہ فائل آج بھی موجود ہے 2001 ء میں والد محترم نے فیصلہ کیا کہ وہ سماہنی حلقہ سے الیکشن لڑیں گے اس نے دونوں بزرگوں کے فیصلے کی نفی کی اور بھا گ گیا راجہ ذوالقرنین کے ساتھ الیکشن میں نہیں چلا بہت بعد تھوڑا سا چلا الیکشن دونوں بزرگ ہا ر گئے پھر دوبارہ بازی لگائی اور سردار عتیق کے ساتھ مل گیا ا اور اسپیکر اسمبلی بن کر اقر باء پروری کرتے ہوئے تھرڈ ڈویثرنل شخص کو سیکرٹری اسمبلی لگا دیا اس کے بعد راجپوت فیملی سے اپنے برادری نسبتی کو محکمہ خوار ک میں فوڈ انسپکٹر لگوایا، ایسے

لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں چل سکتے نہ ہی کوئی اس شفاف پارٹی میں گنجائش بنتی ہے پھر زرداری کے ساتھ مل بھگت کرکے مجید دور میں چیئرمین گڈگورننس بن گئے کہ حکومت کی غلطیوں کو درست کیا جائے گا کئی ماہ تک چیئر مین بن گئے چیئرمین رہنے کے باوجود کوئی غلطی درست نہ کرسکے نہ ہی کوئی نشاندہی کی خود کرپٹ شخص کرپشن کیسے دور کرسکتا ہے 2016 ء کے الیکشن میں 11 کروڑ روپے کی سکیمیں لے کر حلقہ میں پیسے تقسیم کئے پھر بھی الیکشن ہار گئے عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے اس کردار کے ساتھ یہ حلقہ سے ممبر اسمبلی نہیں بن سکتا میری زندگی میں ایسے خواب دیکھنا چھوڑ دے ڈاکٹر

انعام کو نہیں اس نے بیرسٹر سلطان محمود کو چھیڑا ہے ا سمیں ایسی اہلیت نہیں ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کو چلاسکے اسکے ڈیرہ پر منشیات سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں اسکی پشت پناہی منشیات کے فروشوں کو حاصل ہے قاتل بھی ہے بھمبر رجانی میں رفیق نامی شخص قتل ہوا قتل کے اس مقدمہ میں نامزد ہے اس حلقہ میں سیاست چوہدری صحبت علی کی تھی وہ مظلوم کے ساتھی تھے جبکہ موصوف ظالم کا ساتھی ہے اسکو یہاں تک پہنچانے میں یوسف درائیاں کا ہاتھ ہے جب تک موجود ہوں چوہدری صحبت علی کا سیاسی پیروکار بن کر ظلم کا راستہ روکتا رہوں گا پی ٹی آئی کا آئند ہ ٹکٹ میرا ہے سیٹ جیت کرپارٹی

قیادت کو تحفہ میں دوں گا ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں گزشتہ روز ڈاکٹر انعام الحق چوہدری نے کہا کہ انوار الحق کا سیاسی پارٹنر علی ذوالقرنین نیب زدہ ہے اور ڈیڑھ ارب روپے کی کرپشن اس کے کھاتہ میں ڈالی جارہی ہے موصوف اگر کرپشن کے خلاف ہیں تو سب سے پہلے اس کیس کے خلا ف آواز اٹھائیں تو پتہ چلے گا کہ موصوف واقعی کرپشن کے خلاف ہیں اس موقع سابق ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل بھمبر ضلعی صدر پی ٹی آئی چوہدری ریاض احمد کسگمہ، راجہ عدنان پرویز، چوہدری ارشد غازی و دیگر بھی موجود تھے۔