بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔۔ احسن اقبال کےبھائی کی مبینہ کرپشن کے ثبوت سامنے آگئے

لاہور(نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ایک اور مرکزی مسلم لیگی رہنما کے بھائی کے گرد شکنجہ کسنے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ میڈیا ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مبینہ طور پر اپنے دورِ حکومت میں احسن اقبال کے بھائی پر بے جا نوازشات کی بارش کی جن کی تمام تفصیلات اس وقت وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کے پاس ہیں۔جو شہباز شریف کی جانب سے ان خلاف ضابطہ ٹھیکوں سے متعلق دستاویزات وزیرا عظم کے خصوصی کمیشن کو جلد ہی بھجوا دیں گے۔ ان دستاویزات کے مطابق شہباز شریف نے احسن اقبال کے بھائی مصطفی کو پانچ ٹھیکے خلافِ ضابطہ دیئے۔ شہباز شریف نے اختیارات کا غلط استعمال کر کے میٹرو بس کا ٹھیکہ

بھی مصطفی اقبال کو دلوایا۔اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کا ایک ٹھیکہ بھی شہباز شریف کے کہنے پر ہی مصطفی کو دیا گیا۔مصطفی اقبال کو یہ ٹھیکے میرٹ پر نہیں دیئے گئے اور ان ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کے وقت پیپرا رولز کی واضح خلاف ورزی کی گئی۔ شہباز شریف کی جانب سے مصطفی کو ہارٹیکلچرکی ٹاسک فورس کا چیئرمین بھی تعینات کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مصطفی اس عہدے کے لیے مطلوبہ اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ان دستاویزات کی روشنی میں تحقیقات کی گئیں تو واضح امکان ہے کہ شہباز شریف کے گرد نیب کا گھیرا مزید تنگ ہو سکتا ہے اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال بھی اس مبینہ سکینڈل کے باعث بڑی مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔