نواز شریف کی سزا معطل کروانےکیلئے ہاتھ پائوں مارنے والی(ن) لیگ کو لینے کے دینے پڑگئے، سزاپر اثر انداز ہونے پر کتنے سال قید کی سزاہوسکتی ہے،ن لیگی پریشان ہوگئے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کیس پر اثرانداز ہونے کی سزا 10سال ہوتی ہے، قوانین کے مطابق کوئی شخص فیصلے پراثراندازہوتو اسے سزا ہوسکتی ہے، عدالتوں کو دباؤ میں لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، بیان حلفی اورپریس ریلیز سے لگتا ہے کہ جج نے فیصلہ میرٹ پر کیا ہے۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ بیان حلفی اورپریس ریلیزکی وجہ سے ارشد ملک کو ہٹانے کا کہا گیا۔ارشد ملک نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کسی دباؤ کے بغیر دیا۔ فیصلہ جج نے میرٹ پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو

دباؤ میں لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ جج کو دھمکی دینے کی بھی سزائیں ہیں۔ججز پر دباؤ ڈالنے والوں پرسیکشن31اے اپلائی ہوگا۔ ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھا گیا اور فوری طور پر جج ارشد ملک کو مزید کام کرنے سے روک دیا ہے اور انہیں محکمہ قانون کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پریس ریلیز اور بیان حلفی دیکھنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارشد ملک کہتے ہیں کہ انہیں کو کسی سیاہ سفید کو دیکھے بغیر فیصلہ کیا، مجھے رشوت دینے اور دھمکیاں دینے کی کوشش کی گئی اور اگر اس بیان کو دیکھیں تو پھر تو جج ارشد ملک نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔بیان حلفی کے بارے میں وزیر قانون نے بتایا کہ اس کے مطابق جج ارشد ملک پر ہر قسم کا دباؤ تھا لیکن پاکستان اور نیب کے قانون کے تحت کوئی بھی شخص کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کی سزا الگ ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 31 اے کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص انصاف کی راہ، تحقیقات، عدالتی فیصلے میں رکاوٹ بنتا ہے تو اس پر 10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ یہ کیس اس حکومت نے تو نہیں بنایا اور نہ ہی اس کی تحقیقات اس حکومت نے نہیں کی، نواز شریف کے کیس میں اگر اتنا دباؤ تھا تو پھر تو انہیں دونوں کیسز میں سزا ہوجاتی لیکن جج نے انہیں ایک کیس میں بری کردیا جبکہ ایک میں سزا سنائی۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف اپیل کو اسلام آباد ہائی کورٹ دیکھ رہا ہے اور جب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک وزارت قانون، نیب یا کوئی بھی کیس کے بارے میں مزید کارروائی نہیں

کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرنا ہے، اس دوران کوئی سزا بڑھائی یا کم نہیں کی جاسکتی، لہٰذا یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا احتساب عدالت کے جج نے فیصلہ کسی دباؤ میں دیا۔پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کے مطابق انہوں نے کوئی دباؤ میں فیصلہ نہیں دیا لیکن ویڈیوز کو بھی اسی تناثر میں دیکھا جائے گا، تاہم کسی کو عدالتوں پر دباؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوران گفتگو ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں واضح کہا ہے کہ مجھے نہیں پتا تھا کہ میری تقرری کس وجہ

سے کی جارہی ہے۔نواز شریف کے خلاف کیس کے میرٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں لندن کے فلیٹس کی منی ٹریل مانگی گئی ہے، جج کے اقدام سے لندن کے فلیٹ ختم نہیں ہوجاتے، یہ کیس ایسا نہیں جو جج کے ویڈیو یا بیان پر منحصر ہو۔دوسری جانب معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک کا بیان حلفی ایک ہی طرف اشارہ کرتی ہے، اس میں وہی لفظ لکھا ہوا ہے جو پاناما کے فیصلے میں تھا اور وہ لفظ ’مافیا ‘ کا تھا۔انہوں نے کہا کہ بیان حلفی کے مطابق جج ارشد ملک سے 2 مواقع پر رابطے کیے جاتے ہیں، ایک اس وقت جب نواز شریف کے خلاف کیس چل رہا تھا تو ناصر

جنجوعہ، ماہر جیلانی اور ناصر بٹ رابطہ کرتے ہیں، یہ لوگ لالچ اور دھمکیاں بھی دیتے ہیں جبکہ دوسرا موقع فیصلے کے بعد کا ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ جج کا تقرر بھی اپنے مقاصد کے لیے کروایا جاتا ہے، لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ تقرر کیسا ہوا اور اس میں کون ملوث تھے کیونکہ اس عدالت کے لیے تقرر میں وزیر قانون، سیکریٹری قانون، وزیر اعظم کا دفتر بھی شامل ہوتا ہے۔