کوئی جیت گیا، کوئی ہار گیا ۔۔۔ مظہر بر لاس

کرکٹ کا عالمی کپ اپنی تمام حیرتوں اور سنسنی خیزی کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ اس عالمی کپ میں سب سے بڑی حیرت یہ تھی کہ پاکستان سے ہارنے والی دونوں ٹیمیں فائنل کھیل رہی تھیں اور پاکستان پانچویں پوزیشن پر تھا۔ رہی سنسنی خیزی تو وہ فائنل میں بھرپور تھی۔ پہلی مرتبہ فائنل کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا، پہلی مرتبہ برطانیہ نے ورلڈ کپ جیتا حالانکہ کرکٹ کی پیدائش انگلینڈ میں ہوئی تھی اور انگلستان کا قومی کھیل بھی کرکٹ ہی ہے۔ مصروفیات کے باعث مجھے اس میچ کی آخری چار بالز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے سندس فائونڈیشن کے صدر یاسین خان نے پوچھا کس کو جیتنا چاہئے۔ میں نے عرض کیا کہ

انگلینڈ۔ بس پھر یاسین خان نے ایسی دعا کی کہ جوفرا نے اگلی بالوں پر کوئی بائونڈری نہ لگنے دی۔ انگلینڈ بائونڈریز کے باعث ہی جیتا ورنہ نیوزی لینڈ والوں نے رنز تو برابر کر دیئے تھے۔ اس روز میں نے یاسین خان کی پھونکوں میں اثر دیکھا، ہمیں یہ تو پتا تھا کہ وہ ایک عرصے سے تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کی دعائیں لے رہے ہیں مگر یہ پتا نہیں تھا کہ دعائیں لیتے لیتے ان کی اپنی دعائوں میں اتنا اثر آ چکا ہے کہ ان کی ایک دعا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ دو بالوں پر تین رنز چاہئے تھے، کوئی بائونڈری بھی لگ سکتی تھی، جوفرا کے چہرے پر بائولنگ کے دوران پریشانی تھی مگر یہ کام بٹلر نے اور آسان کر دیا، رن آئوٹ کر کے کام ختم کر دیا۔ پچھلے تین کالموں سے لکھ رہا ہوں کہ آخری فیصلہ قسمت کا ہوتا ہے، قسمت کی دیوی مہربان ہو تو باقی سب ہیچ ہو جاتا ہے۔ جسے مقدر جتواتا ہے، اسے کون ہرا سکتا ہے۔ بھارت کی سازشوں نے اسے پریشانی کے عالم میں پچھاڑ دیا۔ بھارتی ٹیم پاکستانی ٹیم سے کمزور نکلی، پاکستان نے عام میچوں میں ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کو ہرایا تھا جبکہ بھارتی ٹیم، برطانوی ٹیم سے بڑے آرام سے ہار گئی تھی۔ اس تمام تر سنسنی خیزی سے ایک ہی سبق برآمد ہوتا ہے کہ قسمت کو ہرانا مشکل ہے، سازش اور محنت دھوکہ دے سکتے ہیں، قسمت ساتھ ہو تو مخالفین کی تمام سازشیں اور محنتیں ہار جاتی ہیں، آخری فتح مقدر کی ہوتی ہے، اس مرتبہ قسمت نے انگلینڈ کا بھرپور ساتھ دیا ورنہ ابتدائی سفر میں تو اندھیروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔جس دن لارڈز میں کرکٹ کا فائنل ہو رہا تھا اس دن پاکستانی سیاست میں بھی برطانیہ زیر بحث تھا۔ ایک برطانوی اخبار نے میاں شہباز شریف کی خوردبرد کی ایسی داستان رقم کی کہ ہماری پوری سیاست میں

ہلچل مچ گئی۔ ٹی وی چینلز کو میچ سے پہلے ہی بحث کے لئے موضوع مل گیا۔ ایک دوسرے کے ترجمانوں نے خوب میچ کھیلا۔ اس میچ میں حکومتی ٹیم جیت گئی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر شہباز گل، فیاض الحسن چوہان اور بیرسٹر شہزاد اکبر نے خوب لتے لئے۔ ویسے اس خبر نے شہباز شریف کا چھوڑا کچھ نہیں کیونکہ خبر کے مطابق اس جرم میں ان کے داماد بھی شریک ہیں۔ دولت کی ہوس انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور مجھے ان سیاستدانوںکے اندھے پن پر حیرت ہے کہ یہ لوگ ہوس کی ان حدوں کو بھی چھو گئے جنہیں چھوتے ہوئے انسانوں کے جسم کانپ جاتے ہیں۔ آپ زلزلہ زدگان کے پیسے کھا گئے۔ اس کا مطلب یہ

ہوا کہ اُنہوں نے زندگی کا کوئی شعبہ نہیں چھوڑا۔ شاید اُنہیں یاد نہ رہا ہو کہ کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں، قبر میں رجسٹریاں اور چیک بکس کام نہیں آتیں۔دو روز پہلے تین مسلم لیگی رہنمائوں سے کسی جگہ ملاقات ہوئی۔ ایک بولا ’’ہمیں نکال کر خوش ہیں‘‘ میں نے عرض کیا کہ اپنی قیادت کو سمجھائیں۔ دوسرا ویسے ہی ارسطو تھا، اس نے آئین اور قانون کے احترام کے چکر میں فوج پر تنقید شروع کی، تنقید کرتے کرتے موصوف کے منہ سے یہ پھول جھڑنا شروع ہوئے ’’دیکھیں آج بنگلہ دیش اور افغانستان بھی ہم سے آگے ہیں۔ افغانستان میں جنگی حالات ہیں مگر پھر بھی وہاں حکومت اپنا وقت پورا کرتی ہے۔ بنگلہ دیش ہم سے

الگ ہو کر کہیں آگے نکل گیا ہے، وہاں جمہوریت ہے، یہاں عجیب و غریب صورتحال ہے‘‘۔ ان کی خدمت میں صرف اتنی عرض کی کہ حضور! جب آپ کے ’’نیک سیرت‘‘ قائدین فوجی چھتری تلے پاکستانی سیاست میں داخل ہوئے تھے تو اس وقت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان تو کیا آپ کے محبوب ملک بھارت سے بھی آگے تھا پھر آپ کی ’’اعلیٰ‘‘ قیادت میں پاکستان نے ایسا سفر شروع کیا کہ آج پاکستان ان تینوں ملکوں سے پیچھے ہے۔ اس کے ذمہ دار عمران خان تو نہیں ہیں، عمران خان کا دور حکومت تو ابھی شروع ہوا ہے، پچھلے پینتیس برس تو آپ کی حکمرانی رہی ہے، آپ کی حکمرانی کا ثمر ہے کہ ہم نہ صرف ان

تین ملکوں سے پیچھے ہیں بلکہ مقروض ہیں۔ آپ کی ’’اعلیٰ‘‘ قیادت نے اس ملک میں کرپشن کا وہ کھیل کھیلا کہ ایسا تو دشمن بھی نہیں کھیلتے۔ آپ لوگوں نے پورے معاشرے کو کرپٹ کیا، پورے معاشرے کا رخ کرپشن کی طرف موڑ دیا، آپ نے اس ملک کے ساتھ کھلواڑ ہی نہیں ظلم کیا ہے۔ بے شک آپ کا شمار ظالموں میں ہوتا ہے۔ آپ نے بستیاں اجاڑ دیں، آپ نے ایک جیتے جاگتے معاشرے کو لاغر بنا دیا، آپ نے جنوبی ایشیا کے ایک مضبوط ملک کو کمزور کیا، آپ نے خوشیوں کو آہوں اور سسکیوں میں بدلا۔ خدا ایک خاص وقت تک ڈور ڈھیلی رکھتا ہے، اب آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب آپ کے لئے صرف رسوائی ہی رسوائی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے سابق صدر ممنون حسین کی یادگار تقریر کے الفاظ کئی مرتبہ یاد

آتے ہیں جس میں اس خاموش طبع انسان نے بڑے آرام سے کہہ دیا تھا کہ ان کے چہروں پر نحوست برس رہی ہے، کوئی آج پکڑا جائے گا تو کوئی چھ مہینے بعد اور کسی کی باری سال بعد آئے گی، قدرت کا اپنا ایک نظام ہے۔اس ملک پر پینتیس برس حکومت کرنے والوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے ہمدرد پیدا کئے، ان ہمدردوں کی کرپشن کے قصے الگ ہیں، اسی لئے ہر شعبے میں مافیا بن گیا۔ آج کل یہ سب مافیاز حکومت اور ریاست کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ یہ سب ہار جائیں گے، ملک جیت جائے گا کیونکہ پاکستان جیتنے کے لئے بنا ہے، ہارنے کے لئے نہیں۔ بقول خالد شریف ؎دلچسپ واقعہ ہے کہ کل اک عزیز دوست۔۔اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا(بشکریہ روزنامہ جنگ)