حکومت اور نوازشریف میں ڈیل نہیں ہوسکتی کیونکہ۔۔۔ معروف صحافی نے دلچسپ بات بتادی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرتجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ حکومت اور نوازشریف میں ڈیل نہیں ہوسکتی، اگر ڈیل ہوئی توعمران خان اور نوازشریف دونوں میں ایک کی عزت اور سیاست خراب ہوگی، لیکن دونوں چاہتے کہ عزت بھی برقرار رہے اورسیاسی نقصان بھی نہ اٹھانا پڑے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک حکومت گرانے والی نہیں ہے، یہ تحریک کی ابتدا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس تحریک میں عوام کتنے شامل ہوتے ہیں۔میرے خیال میں اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک میں جلدی کردی ہے، اگر تحریک ستمبر میں چلائی جاتی تو عوام بھی اپوزیشن کے ساتھ باہر سڑکوں

پر نکل آتے۔جب لوگوں کو ٹیکس نوٹس مل چکے ہوتے، مہنگائی کا بوجھ بڑھ چکا ہوتا۔کیونکہ سیاسی جماعتوں کے ورکرز توچند ہزارہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کی تحریک ستمبر تک چلے گی تو پھر عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھ چکا ہوگا جس کا حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ حکومت سے عوام ڈلیور کرنے کی توقع کرتے ہیں، حکومت نے احتساب کی پٹاری توبھر دی ہے ۔ لیکن ابھی تک ڈلیور کچھ نہیں کیا جارہا ہے۔یہ سوال ضرور پیدا ہوں گے۔ رواں سال کے آخر میں سوال ہوں گے اگلے سال بڑھ جائیں گے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ دونوں اطراف کی توقعات غلط ہیں۔ میاں صاحب یا ن لیگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت ان کو کسی نرم شرط پر رہا کردے گی، تو یہ توقع غلط ہے۔اسی طر ح اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ پیسے دے دیں گے،اور پیسوں کے ذریعے ڈیل ہوجائے گی، یہ خیال بھی غلط یہ اس طرح یہ دونوں ڈیل نہیں ہوسکتیں۔ڈیل اس صورت میں قابل قبول ہوسکتی ہے کہ نوازشریف پر پیسوں کا الزام بھی نہ آئے اور سیاست میں ان رہیں، جبکہ عمران خان کو بھی سیاسی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔فی الحال تو مجھے دونوں میں ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ عزت برقرار رہے، اگر ڈیل ہوگی تودونوں میں ایک کی عزت اور سیاست خراب ہوگی،اس لیے یہ ڈیل نہیں ہوگی۔