پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال ۔۔۔ تحریر: سعد عمر

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قومی مفاد کے تقدس کا احترام کرتے ہوئے صدق دل سے خود کو یقین دلاؤں کہ وطن عزیز میں اقلیتوں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرا¿ت نہیں کرسکتا۔ نہ انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایاجاسکتا ہے اور نہ ہی ان کے جان و مال اور عزت و آبرو پر آج تک کوئی آنچ آنے دی گئی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ میں صحافی بھی ہوں ، لہٰذا قومی مفاد کی دو دھاری تلوار سے بچتے بچاتے تھوڑا بہت سچ جاننے اور اسے خلق خداتک پہنچانے کی کوتاہی اکثر و بیشتر سرزد ہو ہی جاتی ہے۔ریاست بلاشبہ اس بات پر کامل یقین رکھتی ہے

کہ ملک کا آئین اگر تمام شہریوں کو بلالحاظ جنس، رنگت، نسل اور عقیدہ برابر کا شہری قرار دیتاہے تو پھر ایسا ہی ہوگا، علاوہ ازیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی فرمادیاتھا کہ کاروبار مملکت سے متذکرہ بالا خصوصیات کا کوئی تعلق نہیںاور لوگ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزاد ہیںتو لازماً ان کا یہی مطلب ہوگا کہ ایک پرامن اور مہذب معاشرے کا قیام ان اصولوں پر عمل کئے بغیر ممکن نہیں، تو پھرالجھن کیسی ؟بظاہر سب اچھا اور ریاست کی نیت پر شک کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں لیکن اکثریتی بالادستی کا فارمولا سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اقلیت کامطلب کیا ہے، آئین کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جس میں اکثریتی آبادی کا مذہب اسلام ہے اور اس کے غیرمسلم شہری عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی، بہائی اور قادیانی اقلیت شمار ہوتے ہیں، اکثریتی فارمولے کی رو سے سنی عقیدہ رکھنے والوں کے مقابلے میں اہل تشیع کو کیا کہاجائے گا جبکہ وہ بھی دین اسلام ہی کے پیروکار ہیں!ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی متعدد رپورٹس میں اس بات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاست اقلیتوں کے حقوق کا مناسب تحفظ نہیں کرپائی، وسطی پنجاب میں عیسائیوں پر حملوں کے درجنوں واقعات میں بےگناہ مارے جانے والوں کے قاتلوں کو سزا کے بجائے محفوظ راستہ دیا جاتا رہا، اس منصفی اور غیرذمہ دارانہ رویے سے شدت پسند مذہبی عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی ، سندھ میں ہندو آبادی کے ساتھ جو امتیازی اور غیرانسانی سلوک اب تک روا رکھا جارہاہے وہ ہرگز لائق ستائش نہیں، ہندو لڑکیوں کو اغواءکرکے زبردستی تبدیلی مذہب اور جبری نکاح کے واقعات میں رنکل کماری کیس کے بعد تیزی آئی جس میں سابق پی سی او

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے قانون و انصاف کے تقاضوں کو بری طرح پامال کیا۔ قادیانی بھی الگ اپنا مقدمہ لئے پھر رہے ہیں، بعقول شخصے کسی قادیانی کی جان لے لینا تقریباً ثواب کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ریاست شاید اس بات سے بھی باخبر نہیں کہ اس اقلیت کا معاشی بائیکاٹ کیا جارہا ہے جس کی گنجائش نہ تو اسلام میں ہے اور نہ ہی ملکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے، دہشت گردی کے عفریت سے سربرپیکار ریاست کو معاشرے کی سوچ بدلنے کیلئے بھی کوئی مربوط اور جامع حکمت عملی وضع کرنی چاہئے ، امتیازی قوانین کا خاتمہ کئے بغیر مثبت

تبدیلی ممکن نہیں، لگے ہاتھوں اس پہلو پر بھی بات کرلی جائے کہ جس ملک میں مسلکی اختلافات پر فرقہ وارانہ کشیدگی کی چنگاری وقتاً فوقتاً اچانک بھڑک کر شعلہ بن جاتی ہو اور شاعر اس کو یوں بیان کریں جانے کب ، کون، کسے ماردے کافر کہہ کر۔۔شہر کا شہر مسلمان ہواپھرتا ہے۔۔وہاں اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کتنا آسان ہوگا اور اگر عبادت گاہوں کو اضافی سکیورٹی کی فراہمی کو معیار تسلیم کرلیا جائے تو نمازکے اوقات میںپہرہ مساجد پر بھی دیاجاتاہے، کیا یہ صورتحال تشویشناک نہیں؟مناسب یہ ہوگا کہ اقلیتوں کے ساتھ اب تک روا رکھے گئے غلط سلوک، رونما ہونے والے پرتشدد واقعات میں جانی و مالی نقصان، اغواءہونے والی ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرکے جبری شادی پر مجبور کئے جانے کے اعداد و شمار سمیت تمام معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لئے ایک بااختیار پارلیمانی کمیشن مقرر کیاجائے، جو شکایات کا ازالہ اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے نہ صرف قانون سازی کرے بلکہ اس پر پوری طاقت کے ساتھ عملدرآمد بھی ممکن بنائے۔