نواز منڈیلا ۔۔۔ تحریر : ملک شفقت اللہ

زندگی کے کچھ فیصلے ، اصول بدلنے پڑتے ہیں کیونکہ وہ محض اپنی ذات سے منسوب ہوتے ہیں ، لیکن وہ فیصلے جن کے ساتھ معاشرتی سوچ جڑ جائے ان پر قائم رہنا پڑتا ہے۔ ’’ لفظ نکلنے سے پہلے غلام ہوتے ہیں ، مگر ادا ہوجانے کے بعد انسان لفظوں کا غلام ہوجاتا ہے‘‘ کے مصداق انسان کو اپنی معاشرت ،سماجت اور عوامی فیصلوں سے پہلے اپنی ذات میں اچھی طرح تانک جھانک کر لینی چاہئے کہ آیا جس معاشرے میں وہ رہتا ہے وہ معاشرہ ان فیصلوں کو قبول کر سکتا ہے؟ اس فیصلے کے رد عمل میں کیا کچھ جھیلنا پڑ سکتا ہے؟ جو چند لو گ آمین کہہ رہے ہیں وہ کتنے آپ کے ساتھ مخلص ہیں؟ اور کیا وہ اتنی ہمت رکھتا ہے کہ اس معاشرے کو اپنی طرز پر ، اپنے فیصلوں کے مطابق ڈھال سکے؟۔ اگر یہی سب ایک بڑی سطح

پر ہو جس میں غرباء ، مزدور ، مظلوم اور ناچار لوگ آپ کی باتوں پر یقین کر کے آپ سے امیدیں لگا بیٹھیں تو آپ پر ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے بزرگوں کے اس قول پر عمل پیرا رہنا چاہئے کہ ’’پہلے تولو ، پھر بولو‘‘۔ پاکستان کے سیاسی ستون کو سیاہ سیوں نے گدلا اور گھن آلود کر دیا ہے۔ عوام میں سیاست کے بارے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے اور ایسے حالات میں حکومت کا بے بس نظر آنا قابل تشویش ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سابقہ ادوار میں بے وجہ قرضے لئے گئے جس کی وجہ سے ملک معاشی بحران کا شکار ہے لیکن وہیں جو قرضہ پاکستانی قوم پر ہے اس سے کہیں زیادہ سیاہ سیوں نے لوٹ کھسوٹ کی ہے۔ اس میں ایک بڑا حصہ عوام کا بھی ہے جو اپنے قانونی کام بھی غیر قانونی طریقے سے کروانے کے عادی ہو چکے ہیں ۔ چپڑاسی سے لے کر ادارے کے مشیروں، وزیروں سب کو اس مکروہ دھندے پر لگا رکھا ہے۔ اور اشراف و مقتدر طبقہ نے ہمیشہ اس لاشعوری قوم کی معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے اپنی تقریروں سے پاکستان کے بچوں ، جوانوں ، ہر عاقل و بالغ شخص کے دل موہ لئے ۔ کیونکہ خان کے خطابات میں سچائی نظر آتی تھی اور اس کے جواب میں اپوزیشن کی جانب سے ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے ، نے بھی عمران خان کے صادق ہونے کی گواہی دی ۔لیکن قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمان کے عین مطابق کہ استحصال ایک ناسور ہے اور اسے جڑ سے نکالنا پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے ، کرپٹ شدہ بیورو کریٹ معاشرہ اور پارٹی بدل کر نیک پارسا ہو جانے والے عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ذاتی

طور پر ایک مخلص شخص ہیں ، جس خطے سے وہ تعلق رکھتے ہیں اس پانی میں محبت اور وفاداری ہے ، لیکن اس خطے سے آگے، پیچھے اور دائیں ، بائیں بھی دنیا بس رہی ہے، کسی کے ایمان کی گواہی کوئی نہیں دے سکتا ، یہاں اپنا ایمان بچانا مشکل ہوا پڑا ہے ۔ یہی وجہ ہوئی کہ عمران خان اس دنیا میں گھر چکے ہیں اور پنپنا محال ہو چکا ہے۔ بہت سے کام عمران خان نے کئے ، زیادہ قرضے سے بچایا ، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کی تیاری ہوچکی ہے، کافی حد تک سہولیات کی فراہمی کی کوشش جاری ہے ، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ خان جو مرضی کر لے ، جس حد تک مرضی چلا جائے ، لیکن جب تک عوام کے ساتھ کیا وعدہ وفا نہیں ہوگا تب تک عوام کے سامنے سرخرو ہونا ناممکن ہے ۔اور وہ وعدہ

ہے معاشی دہشتگردوں کو پکڑ میں لانا، ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینا اور قرار واقعی سزا دلوانا۔ معاشی دہشتگردوں کو قانون کی گرفت میں تو لایا گیا مگر ان سے نہ تو خزانہ واپس لیا گیا اور نہ ہی قرار واقعی سزا دلوائی گئی، بلکہ قانون کی گرفت میں انہیں پہلے سے زیادہ عیش و عشرت مل رہی ہے۔معروف صحافی اور کالم نگار منصور آفاق نے یہ خبر بتائی تھی کہ معروف قلم کار و تجزیہ کار ہارون الرشید نے بتا یا کہ عمران خان مستعفی ہو رہے تھے اس ڈیل پر کہ نواز شریف کو معقول رقم لے کر چھوڑ دیا جائے گا! لیکن عین موقع پر جہانگیر ترین آن پہنچے اور انہوں نے عمران خان کو اس عمل سے باز رکھا ۔ اس کے بعد اب یہ خبر مل رہی ہے کہ قطری شہزادے نے میثاق معیشت کے نام کی ڈیل کی ہے جس کے مطابق نواز شریف

کو نواز منڈیلا بنا کر چھوڑا جائے گا! یاد آیا کہ یہ مہینہ بھی نیلسن منڈیلا کا ہے جو حوالات میں رہا اور رہا ہوتے ہی ایک ریاست کا حکمران بن گیا! اسی مہینہ میں نواز شریف کو نواز منڈیلا بنا کر چھوڑے جانے کے امکانات روشن ہوتے جا رہے ہیں ۔ اس عمل کی پہلی سیڑھی اس جج کی ویڈیو ٹیپ ہے جو مریم نواز نے ملک بھر میں وائرل کی ہے۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ مریم نواز کو یہ ٹیپ کس نے دی ، کیونکہ اگر مریم کے پاس یہ ٹیپ پہلے ہوتی تو وہ اب تک یہ پتہ کھیل چکی ہوتی ! ایک بات سوچنے کی یہ بھی ہے کہ چئیرمین نیب کے خلاف جو آڈیو ٹیپ سکینڈل اچھالا گیا تھا اس پر تو کوئی سزا نہیں دی گئی لیکن ارشد ملک کی فوری معطلی کیوں؟ عمران خان کے مقتدر ہونے کے فوری بعد ہی ایک سازش پاک فوج کے خلاف رچائی گئی اور عمران خان کو سیلیکٹڈ کہا! لیکن میرے نذدیک یہ چند ماہ اس لحاظ سے تاریخ کے سنہرے ہیں جہاں سول و ملٹری قیادت ایک پیج پر کام کر رہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود نواز شریف کی رہائی عمران خان کی دیانت اور ایمانداری پر سوالیہ نشان بن جائے گی۔