نئے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ناچ گانا نہیں چلے گا، خلاف ورزی کرنیوالےاداروں کیخلاف رجسٹریشن منسوخی سمیت کیا کاروائی کی جائے گی، جانئے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کا معاملہ پنجاب اسمبلی تک پہنچ گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما کنول پرویز چوہدری نے کہا ہے کہ طلبہ و طالبات سے عربی اور دیگر گانوں پر رکھ کر ان افسوسناک ہے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے اعلی تعلیم سبطین رضا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پہلے ہی ناچ گانے پر پابندی ہے۔تاہم اب مزید سختی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو ادارہ اب ناچ گانا کرائے گا اس کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی۔اور اس ادارے پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا اور تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی۔سبطین رضا نے مزید کہا کہ غیر نصابی سرگرمیوں اور پڑھائی کے نام پر فحاشی نہیں چلے گی۔تاہم ن لیگ کی رہنما کنول پرویز چوہدری اس

جواب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے غلط بیانی قرار دے دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں پنجاب اسمبلی میں قرار داد بھی منظور کی گئی تھی جس میں صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں رات گئے ہونے والے رقص کی محفلوں اور ڈی جے نائٹس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ پنجاب سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں میں میں تعلیمی اداروں میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں پڑھائی کی غرض سے سکول جانے والے بچوں سے رقص بھی کروایا جاتا ہے۔اس حوالے سے کئی تعلیمی اداروں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں جس میں بچوں کو رقص کرتے ہوئے دیکھا گیا۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تعلیمی اداروں کے سربراہان پر خاصی تنقید کی گئی اور حکومت سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی تھی۔