جھنگ کی پسماندگی اور چند گزارشات ۔۔۔ تحریر: ملک شفقت اللہ

میرا تعلق ضلع جھنگ کے شہری علاقے سے ہے۔ یہ ضلع تہذیب و تمدن اور ثقافت کے اعتبار سے دنیا بھر میں جداگانہ حیثیت کا حامل ہے یا یوں کہہ لیں کہ موہنجوداڑو، ہڑپہ،دیبل وغیرہ جیسی تہذیبوں کی طرح تاریخ میںجھنگ کی تہذیب بھی نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔یہاں پر لگ بھگ ستر فیصد کے قریب لوگوں کا مشغلہ کھیتی باڑی جبکہ باقی لوگ کاروبار، ملازمت وغیرہ سے وابستہ ہیں۔یہاں کے لوگوں کا رہن سہن انتہائی سادہ ہے اور معصومیت کی انتہا یہ ہے کہ اب تک جاگیر داروں ، وڈیروں کے ڈیرے آباد ، اور غریب کیلئے زمین تنگ ہے ۔کہتے ہیں جھنگ کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں لیکن جو میں نے دیکھا وہ محبت صرف، نام ، دولت اور مقام سے ہے انسانیت سے نہیں۔ انگریزوں نے اسے ضلع بنایا تھا ، جسے 170 سال

بیت گئے ، کئی شہر اور تحصیلیں جو اس ضلع کا حصہ تھیں کٹ کر آباد ہوگئے ، کچھ اضلاع اور کچھ ڈویژن میں بدل گئے لیکن ضلع جھنگ ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہوتا رہا ہے۔ایران انقلاب کے بعد ضلع جھنگ بھی ان چند اضلاع میں سے تھا جسے شیعہ سنی تعصب کی آگ نے لپیٹا تھا ۔ آگ لگانے والے تو جھنگ کو چھوڑ کر نکل گئے لیکن اس آگ میں بے قصور ، بے ہیمانہ جلنے والے آج بھی یہیں بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یہ نہیں کہ اس سر زمین نے ملک پاکستان کو سپوت نہیں دئیے ، یہاں سے قابل ترین اور جانباز نوجوانوں نے ملک و قوم کی خدمت کی ہے اور آج بھی مگن ہیں ، یہاں سے ولی اللہ بھی ہیں، ڈاکٹرز اور انجینئرز بھی ہیں ، کسان اور کاروباری بھی ہیں ، فوجی جوان اور قلم کار بھی ہیں ، بڑے بڑے قلمی نام اس سرزمین سے تھے اور ہیں ، ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے کیپٹن جعفر طاہر،شیر افضل جعفری اور مجید امجد دنیا ئے ادب کا بڑا نام ہیں ، نذیر ناجی پاکستان کے اعلیٰ سطحی دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں ، سب سے زیادہ سی ایس پی آفیسرز ضلع جھنگ سے ہیں، لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے اپنی جنم بھومی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ شیعہ سنی فساد کوئی مذہبی تفرقہ نہیں تھا بلکہ اسے سیاہ سیوں کی طرف سے مذہبی رنگ دے کر یہاں کے مکینوں کے دماغوں میں مولوی کی محبت اور قرآن وسنت کا نعرہ مٹانے کیلئے ایک بڑی سازش رچائی گئی تھی۔ تیس سال جھنگ سمیت پورا پاکستان اس آگ کی لپیٹ میں رہا اور پھر جھنگ پر فرعونوں نے حکومت کی۔ شیخ گروپ نے اقتدار ہاتھ آتے ہی انجمن افزائش نسل کو بڑھوتری دینے کے ساتھ ساتھ ملکی ساکھ کو ذاتی مفادات اور شیلٹر کیلئے دائو پر لگا دیا ، وہ آج تک دندناتے پھرتے ہیں

اور انتخابات میں شکست ہوتے ہی بھاگ گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے ووٹروں سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ان کی ہار کے پیچھے نوجوان نسل میں اضافہ اور ان میں شعوری سوجھ بوجھ کا پیدا ہونا ہے ۔حقیقی طور پر یہ ممکن نہ تھا اگر نوجوان نسل اپنی طاقت کو نہ پہچانتی۔ لیکن دوبارہ بد قسمتی سے ان کے ووٹ سکے کے دوسرے رخ میں چلے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ وہی طبقہ ہے جو سالوں سے مقتدر ہے لیکن وہ عوام الناس کو کچھ دینے کی بجائے ہمیشہ عوام سے چھینتے آئے ہیں، حالانکہ جھنگوی اتنے پر امن اور ملک پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں کہ انہوں نے صدر ایوب خان کو چھوڑ کر فاطمہ جناح کو الیکشن میں کامیابی دلوائی تھی ۔فاطمہ جناح 1964 میں جھنگ آئیں تھیں۔ لوگوں نے نہ صرف ان کا والہا نہ استقبال کیا بلکہ انہیں اپنی

بیٹی بنایا اور بے پناہ محبتوں کے ساتھ رخصت کیا۔جھنگ کی پسماندگی کے پیچھے اگر دیکھا جائے تو سیاہ سی طبقہ ہی نظر آتا ہے جو جمہوریت کی آڑ میں ملوکیت کا متحمل ہوا ۔جنہوں نے جھنگ میں اپوزیشن کبھی پیدا نہیں ہونے دی، یا تو خرید لیا گیا ، بھگا دیا گیا یا مار دیا گیا۔ کئی کاروباری لوگ جھنگ چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ وہ ان غنڈٖوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، اور کچھ نے خوشامد کر کے ، بھتہ دے کر جان بچائی۔مگر پچھلے دو ادوار سے جھنگ میں بھی حکومتی نمائندوں کے خلاف شورش برپا ہونا شروع ہوئی ، جب شہر میں مختلف لوگوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اس سرزمین کا ان پر بھی کوئی قرض ہے۔ جھنگ میں اس وقت مختلف تحریکوں نے جنم لے لیا ہے ، کئی نوجوان جھنگ کی فلاح و ترقی کیلئے اپنے تئیں

پوری لگن کے ساتھ محنت کر رہے ہیں ۔ 2008 میں سب سے پہلے ایک نعرہ جھنگ ڈویژن بنائو کا لگایا گیا ، یہ نعرہ ایک اساتذہ یونین کے عہدیدار رمضان انقلابی نے لگایا تھا ، جس کے بعد جھنگ کی عوام کی جانب سے بھرپور رد عمل ملا ، لیکن نعرہ لگانے والے اور ساتھ دینے والے سبھی 2013 کے عام انتخابات میں اپنے مفادات کو ترجیح دینے لگے اور نعرہ سیاست کی نظر ہوگیا ، یہ بھی سیاستدانوں کی سازش تھی کہ کیسے نعرے کا مفاد اٹھایا جائے اور اس کے بعد اسے دبا دیا جائے۔ بہر کیف ، تحریک کی صورت اختیار کر نے والا اکٹھ بکھر گیا ، لیکن 2016میں ایک بار پھر سے نوجوانوں نے اسی نعرے کو اٹھایا او ر آگے بڑھے ، لیکن مفاد پرست طبقہ دوبارہ آڑے آیا اور تحریک کو اپنی ملکیت ظاہر کروایا۔ حالانکہ تحریک کسی

کی ملکیت نہیں ہوتی ، نعرہ لگانے والی سبھی خود تحریک ہوتے ہیں ، نعرہ دینے والے چھوڑ بھی جاتے ہیں، ڈر بھی جاتے ہیں اور بک بھی جاتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک ہمیشہ کیلئے ان کا اثاثہ ہوگئی ہے۔ رمضان انقلابی جس نے کبھی سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کیلئے اساتذہ کو میسر نہیں آنے دیا ، نوجوان استانیوں کو سڑکوں پر نچایا اور نعرے لگوائے ہیں وہ بھلا کیا نوجوان نسل کے مستقبل کو روشن بنائے گا۔ جو لوگ اپنے کاروباری شیلٹر کیلئے نعرے کو استعمال کرتے ہوں وہ بھلا کہاں تحریک کے ساتھ مخلص ہوسکتے ہیں اور جو لوگ صرف سستی شہرت پانے کیلئے نام نہاد عہدیدار بنے پھرتے ہوں ان سے بھلے کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن کچھ نوجوانوں نے جن کا لیڈر شیر بہادر نول ہے اس نعرے کو

بلا شبہ پوری لگن سے بلند کیا ہے اور انہی کی بدولت آج نومنتخب نمائندے مجبور ہوئے کہ انہوں نے جھنگ کیلئے اسمبلی میں آواز اٹھائی۔ جھنگ ، چنیوٹ اور بھکر پر مشتمل ڈویژن کی ایک سمری بھی موجودہ ڈی سی طاہر وٹو کی جانب سے بھجوائی جا چکی ہے ، لیکن اس سے پہلے ان نوجوانوں کو کرنے کے کاموں پر توجہ دینی چاہئے۔ سب سے پہلے جھنگ کو کارپوریشن بنوانے کیلئے آواز اٹھانی چاہئے ، شیر بہادر نول کے دھرنے نے سب سے پہلے مجھے احساس دلایا کہ قلم کے علاوہ عملی طور پر بھی جھنگ میں اپوزیشن کی جاسکتی ہے۔ ایک کزنز اتحاد موومنٹ بھی جھنگ میں سر گرم عمل ہے جو بہت مختصر عرصے میں پانچ بڑی نوعیت کے مفت طبی کیمپ لگا چکے ہیں ، اس کے چئیرمین وقار احمد کی دن رات محنت کا نتیجہ

ہے کہ کزنز اتحاد موومنٹ کے کام کو نہ صرف شہر میں بلکہ شہر سے باہر بھی سراہا جاتا ہے، میں انہیں بھی کہوں گا کہ شیربہادر کے ساتھ جھنگ کیلئے آواز اٹھائیں ۔پورے ضلع کے نوجوانوں ،دانشوروں، بیوروکریٹس، وکلاء،سماجی اور صحافتی طبقوں سے بھی میں کہوں گا کہ وہ متحد ہو کر سیاستدانوں کی چالاکیوں کا جواب دیں ، وہ ابھی بھی یونیورسٹی، میڈیکل کالج اور دیگر دعووں کی مد میں ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مت بھولیں کہ جھنگ کے فنڈز اٹھا کر دوسرے اضلاع کو دے دئیے گئے، ائیر پورٹ چھین لیا گیا، جھنگ کا درجہ فیصل آباد کو دے دیا گیا، ایسی کئی مثالیں ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ایک باقاعدہ لائحہ عمل کے ذریعے جھنگ کو پسماندہ بنایا گیا۔ جھنگ کے تمام زندہ دل رکھنے والوں سے یہ بھی کہوں گا کہ وہ نقالوں سے ہوشیار رہیں اور جھنگ ڈویژن بنائو تحریک کے نعرے کی آڑ میں مفادی ٹولے سے دور رہیں۔