کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کا نتیجہ ہے کہ پوری وادی میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے،امریکی اخبار بھی کشمیریوں کی بہادری کے گن گانے لگا، بھارتی مظالم کو سرورق پر شہہ سرخی بنادیا

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ بھی بھارتی مظالم کیخلاف بول اٹھا ہے۔ اخبار نے سرورق پر شہہ سرخی لگائی ہے کہ ’’کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کا نتیجہ ہے کہ پوری وادی میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں‘‘۔ امریکی اخبار نے مقبوضہ وادی میں احتجاج کی نئی لہر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد پوری وادی میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں اور یہ کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کا نتیجہ ہے۔امریکی روزنامے نے سری نگر میں خواتین کے احتجاج کی تصاویر کو بھی سرورق پر جگہ دی۔ ذرائع مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ

کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے اور ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں جبکہ کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہو رہے ہیں۔بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔7 اگست کو کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا تھا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ کی جبکہ پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی جس سے 6 کشمیری شہید اور 100 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے 8 اگست کو کشمیر میں احتجاج کرنے والے تقریباً 500 کشمیریوں کو بھی حراست میں لے لیا جبکہ حریت قیادت سمیت بھارت کے حامی رہنما محموبہ مفتی اور دیگر بھی اس وقت نظر بند ہیں۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ڈر ہے کہ نازی آریائی بالادستی کی طرح آر ایس ایس کا ہندو بالادستی کا نظریہ مقبوضہ کشمیر میں نہیں رکے گا۔ وزیراعظم نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’مقبوضہ جموں کشمیرمیں کرفیو، کریک ڈاؤن اور کشمیریوں کی آنے والی نسلوں کی نسل کشی نازی نظریے سے متاثر آر ایس ایس کے نظریہ کو عیاں کرتی ہے۔ انکی کوشش ہے کہ نسلی کشی کے ذریعہ کشمیر کے آبادیاتی ںطام کو تبدیل کیا جائے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اسے بھی ایسے ہی دیکھے گی جیسے ہٹلر کو میونخ میں دیکھتی رہی؟‘‘