کشمیر کا درد اور عید ۔۔۔ تحریر : انجینئر اصغر حیات

استاد محترم پروفیسر مرزا وارث جرال نہایت ہی نفیس انسان ہیں، دو ہزار نو سے لیکر دو ہزار تیرہ تک جب میں میرپور یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں زیر تعلیم تھا وہ اس ڈیپارٹنمٹ کے چیئرمین تھے، آجکل وہ میرپور یونیورسٹی کے رجسٹرار ہیں،مرزا وارث صاحب بہت سی صلاحیتوں کے مالک ہیں،اپنے موجودہ اور فارغ التحصیل ہونے والے طالبعلموں سے رابطے میں رہتے ہیں ، ہمیشہ نوجوان نسل کو امید دلاتے ہیں، یونیورسٹی کے چار سالوں میں اور بعد میں انہیں کبھی مایوس نہیں دیکھا ۔۔۔عید کے دن قربانی اور گوشت کی تقسیم سے فارغ ہی ہوا تھا کہ مرزا وارث صاحب کا فون آگیا، ان کے لہجے میں درد تھا۔۔ کشمیر

کا درد۔۔۔ بیٹا وادی میں سات روز سے کرفیو ہے، ہمارے کشمیری بھائی تڑپ رہے ہیں مدد کو پکار رہے ہیں اور ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہم سے کیا غلطی ہو گئی ہم کہاں پیچھے رہ گئے، ہم کیا کریں کہ انڈیا پر بھاری پڑ سکیں، صحافت کا ایک ادنی سا طالبعلم کیا جواب دیتا،عید کا دن بھی اسی کشمکش میں گزرا، قربانی کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا سکرول کرتا رہا، شاید مقبوضہ کشمیر سے کوئی خبر آئے، وارث صاحب کے سوال سے فوری طور پر ذہن میں آیا ، صدرآزاد کشمیر سردار مسعود سے جب بھی ملاقات ہوئی انہیں سوشل میڈٰیا کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کی، سردار مسعود آزاد کشمیر کی کم و پیش سات یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں، آزاد کشمیر کی یونیورسٹیوں کے نوجوان کشمیر کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، میری تجویز تھی کہ ایک یونیوسٹی سے ایک سو طلبہ و طالبات لیے جائیں تو سات یونیورسٹیوں سے سات سو نوجوان سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سیلکٹ کرسکتے ہیں، پھر انہیں سوشل میڈیا کی اچھی تربیت دے کر کشمیر میں ہونیوالے مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، سات سو آدمی ایک وقت میں ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ استعمال کرے تو چند منٹوں میں معاملہ اٹھ سکتا ہے، بعد میں پاکستان کی یونیورسٹیوں کو بھی ایک ایک کر کے شامل کیا جاسکتا ہے، صدر ریاست نے اتفاق تو کیا لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا، ابھی پاکستان میں کوئی سیاسی پیش رفت ہوجائے تو مین سٹریم میڈیا سے تو کشمیر غائب ہوتا ہی ہے سوشل میڈیا پر بھی نظر نہیں آتا، اس کیلئے ایسی فورس کی ضرورت تھی جو صرف اور صرف کشمیر کیلئے کام کرے، دوسرا آئیڈیا تھینک ٹینکس بنانے کا تھا، ہمارے ملک میں تھینک ٹینکس کی کمی ہے، اگر چند تھینک ٹینکس موجود ہیں بھی تو

وہ اس طرح سے کام نہیں کررہے جس طرح کرنا چاہیے، مودی گزشتہ پانچ سال سے کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور آرٹیکل تین سو ستر اور پینتیس اے ختم کرنے کی بات کررہا تھا، لیکن حکومت تو دور کی بات کسی تھینک ٹینک نے اس پر بات نہیں کی، غور نہیں کیا، تھینک ٹینکس کا کام ہوتا ہے حکومت کو تجاویز دینا، اگر ہمارے پاس اچھے تھینک ٹینکس ہوتے تو وہ پہلے سے ہی کام شروع کردیتے تاکہ انڈیا کو ایسا ردعمل دیا جاتا کہ وہ بھی حیران ہو جاتا، ایک اور بنیادی چیز جس میں ہم پیچھے ہیں وہ ہے میڈیا، ہمارے ہاں کوئی ایک بھی انگریزی چینل نہیں ہے، بھارت کے پاس درجنوں انگریزی چینل موجود ہیں،

گھلبوشن یادیوکیس کے فیصلے کے روز یہ کمی بڑی شدت سے محسوس ہوئی، ہمارے ادروں چینلز نے انگریزی میں بریکنگ پھٹے مارے، کیا اردو چینلز پر انگریزی ٹکرز چلانے یا بریکنگ پھٹے مارنے سے وہ دنیا میں مانیٹر ہونا شروع ہو جائیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا، رمضان کے مہینے میں تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی پاکستان آئے، حریت رہنما الطاف بٹ نے ان کے اعزاز میں تقاریب رکھیں، فہیم کیانی برطانیہ اور یورپ میں کشمیر کے حوالے سے کافی متحرک ہیں، کشمیریوں کے حق میں ایک منظم تحریک چلا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر ہم متاثرین ہیں اور بھارت ہم ہر ظلم کررہا ہے پھر بھی دنیا میں

بھارت کا جھوٹ کامیابی سے بک رہا ہے اورکوئی ہمارا سچ سننے کیلئے تیار نہیں، اس کی ایک وجہ طاقتور بھارتی میڈیا ہے، وہ اپنا جھوٹ اس طریقے سے پیش کرتے ہیں کہ دنیا اسے سچ ماننے کیلئے تیار ہو جاتی ہے، اور ہم جنہوں نے ایک لاکھ سے زائد قربانیاں دیں، پیلٹ گن سے ہزاروں بینائی سے محروم ہوئے ، املاک کو نقصان پہنچا، لیکن ہم اپنا سچ اس طریقے سے پیش نہیں کرسکتے، کیونکہ ہمارا میڈیا کمزور ہے، فہیم کیانی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان آکر صحافیوں کےحالات دیکھے ہیں تو اپنے پیچھے رہنے کی وجہ سامنے آگئی، دنیا بھر میں اپنے بیانیے کی ترویج کیلئے ممالک میڈیا پر پیسہ لگا رہے ہیں لیکن پاکستانی میڈیا

پر کٹ لگ رہے ہیں، امریکہ نے پانچ سو ملین ڈالر صرف طالبان کی جعلی ویڈیوز بنانے پر لگائے اور افعانستان کے خلاف اپنا بیانیہ مظبوط کیا، فہیم کیانی نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ خدا کے واسطے میڈیا کو مظبوط کرو، اس پر انوسٹ کرو، اسے اپنا بیانیہ پیش کرنے پر لگائو نہ کہ اس کے بجٹ پر کٹ لگائو، اگر میڈیا مزید کمزور ہوگیا تو ہمارا بیانیہ کون پیش کرے گا۔بہت سی وجوہات اور بھی ہیں جن کی وجہ سے ہم پیچھے ہیں، ماضی کی حکومتوں سے ضرور غلطیاں ہوئی ہونگی، لیکن اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے، بھارت نے آخری پتہ کھیل دیا ہے، اگر وہ اس میں کامیاب ہو گیا تو کشمیری ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے، مقبوضہ

کشمیر میں کرفیو کو آٹھ سے نو روز ہو چکے ہیں، یہ کرفیو کتنے روز جاری رہے گا نہیں معلوم، ہر آنے والا دن گزشتہ سے بھیانک نقشہ پیش کررہا ہے، کرفیو کے باعث کشمیریوں کے پاس راشن ختم ہو رہا ہے، بھارت کا منصوبہ ہے کہ کشمیریوں کو پہلے بھول سے مارا جائے اور پھر آر ایس ایس کے غنڈے ان پر چھوڑے جائیں جو کشمیریوں کے املاک لوٹیں، خواتین کی عصمت دری کریں، گھروں کو آگ لگائیں اور گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیں، ایسے میں ہمیں ماضی کی روایات کے برعکس کام کرنا ہوگا، بھارت کو بے نقاب کرنے کیلئے ہر طریقہ استعمال کرنا ہوگا، صرف حکومت کو ہی نہیں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق

رکھنے والے افراد کو کردار ادا کرنا ہوگا، مرزا وراث صاحب نے اتفاق کیا ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم اپنے طالبعلموں سے رابطہ کریں گہ اور انہیں متحرک کریں گے کہ وہ ان ممالک میں کشمیریوں کے حق میں مہم چلائیں، آپ کا اور میرا بھی فرض ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھیں، اپنی بساط کے مطابق کشمیریوں کیلئے کام کریں۔