ہندوستان کی جمہوریت داغدار، مودی نے کشمیریوں کے غیظ وغضب کو ہوا دیدی، امریکی میڈیا نے آرٹیکل 370 کاخاتمہ غیرقانونی قراردیدیا

نیویارک(نیوز ڈیسک) امریکہ کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کشمیر بارے اجلاس کو نمایاں کوریج دی ہے ۔ ہفتے کے روز واشنگٹن پوسٹ سمیت موقر امریکی اخبارات نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کی “غیر قانونی” کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے کشمیریوں کے غیظ و غضب کو ہوا دی ہے اور ہندوستان کی جمہوریت کو داغدار کیا ہے۔”جمعہ کو 15 رکنی کونسل کی “بند مشاورت” کے بارے میں زیادہ تر اطلاعات نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ 50 سال سے زیادہ کے وقفے کے بعد یہ کشمیر کے بارے

میں پہلا اجلاس تھا ، جبکہ چین نے پاکستان کی مکمل حمایت کا عندیہ بھی دیا ہے۔ جمعہ کے روز ، چین کے اقوام متحدہ کے سفیر جانگ جون نے اس صورتحال پر سنگین تشویش کو بیان کرتے ہوئے ، کونسل کے مباحثوں کا خلاصہ پیش کیا۔جانگ نے کہا ، “انہیں وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں بھی تشویش ہے اور یہ بھی ارکان کا عمومی نظریہ ہے کہ متعلقہ فریقوں کو کسی بھی یکطرفہ اقدام اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے جو تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے کیونکہ تناؤ پہلے ہی انتہائی کشیدہ اور انتہائی خطرناک ہے۔” .کونسل کے چیمبر کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ، پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اس اجلاس سے “مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز” کو “دنیا کے اعلی سفارتی فورم میں”سنی گئی ہے انہوں نے دلیل دی کہ سلامتی کونسل کا اجلاس ہونا اس حقیقت کی گواہی ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے۔”سفیر لودھی نے کہا ، جہاں تک میرے ملک کا تعلق ہے ، ہم ریاست جموں و کشمیر کے پرامن تصفیہ کے لئے تیار ہیں۔ میرے خیال میں آج کا اجلاس ہندوستان کے اس دعوے کو کالعدم کرتا ہے کہ جموں وکشمیر ہندوستان کے لئے ایک داخلی معاملہ ہے۔ آج پوری دنیا میں مقبوضہ ریاست اور وہاں کی صورتحال پر گفتگو ہو رہی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے آج کیاداریہ میں بھی مودی کے حالیہ اقدام پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔