ایک اور لیگی رہنما کو گرفتار کرلیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق رکن صوبائی اسمبلی افتخار بلوچ کو متنازع تقریر کرنے پر حراست میں لے لیا گیا ہے اور جیل منتقل کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی رانا شہباز کو “رانا ببلو” کا خطاب دے دیا جس پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔سابق ن لیگی ایم پی اے افتخار بلوچ نے کارنر میٹنگ میں پولیس اور پی ٹی آئی کو چیلنج کیا تھا۔پولیس کے مطابق افتخار بلوچ کو جیل میں عدالتی حراست میں ضلعی انتظامیہ کی ہدایت

پر منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار افتخار بلوچ پندرہ دن کے لئے نظر بند کیا گیا ہے۔واضح رہے مسلم لیگ ن کے کئی رہنما متنازع تقریر کرنے پر جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔مسلم لیگ ن کی قیادت اور رہنما اکثر اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی بھی کرتے نظر آتے تھے۔ایسا ہی ایک واقعہ سرگودھا میں پیش آیا تھا ۔اس واقعے میں لیگی رہنما اور رکن اسمبلی حامد حمید اور انکے ساتھیوں نے کارکنان کو بھڑکا کر ان کو ملکی اداروں کے خلاف نعرے بازی پر مجبور کیا تھا ۔ جس پر بعد میں لیگی رہنما حامد حمید پر مقدمہ درج کر دیا گیا تاہم لیگی رہنما ذولفقار علی بھٹی نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی تھی ۔کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج نے چوہدری حامد حمید سمیت 240 کارکنوں میں سے 34 افراد کی درخواست ضمانت خارج کی تھی ۔گذشتہ سال بھی ایم این اے حامد حمید اور ان کے ساتھی اس ضمانت منسوخی کے بعد احاطہ عدالت سے گرفتار ہو گئے تھے ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے ہی ایک رہنما ذولفقار بھٹی اسی قسم کے کیس میں انسداد دہشتگردی کی عدالت سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد فرار ہو گئے تھے۔