فیصلے کی گھڑی آن پہنچی،آزاد کشمیر پاکستان کا۔۔۔ مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا، اگر دونوں ممالک نے یہ فیصلہ قبول نہ کیا تو دوسرا آپشن کیا ہوگا،بڑی خبر دیدی گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کالم نگار و صحافی جاوید چودھری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور منموہن سنگھ کے مابین مسئلہ کشمیر سے متعلق معاملات کافی حد تک آگے بڑھ چکے تھے۔ اُس کے بعد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بھی 1999ء میں واجپائی اور 2017ء میں مودی کو مسئلہ کشمیر سے متعلق فارمولے پر لے آئے تھے ۔عمران خان بھی تیزی سے اس حل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جنرل قمر جاوید باجوہ بھی افغانستان اور کشمیر کا مسئلہ حل کر کے معیشت پر توجہ کے حامی ہیں بس جماعت اسلامی اور کچھ چھوٹے گروپس بچے ہیں ، یہ بھی بہت جلد صورتحال کو سمجھ جائیں گے۔ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ مسئلہ کشمیر بڑی تیزی سے سیٹلمنٹ کی طرف بڑھ رہا ہے بس ایک رکاوٹ ہے

اور وہ رکاوٹ مقبوضہ کشمیر کے نوجوان ہیں۔یہ کرفیو کے بعد کیا کرتے ہیں ، یہ فیصلہ آنے والے تمام فیصلوں کا مقدر طے کرے گا۔ بہرحال آج نہیں تو کل سہی فیصلہ یہی ہو گا۔ آزاد کشمیر پاکستان کا اور مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا اور یہ فیصلہ اگر نہ ہو سکا تو پھر ایٹمی جنگ فیصلہ کرے گی اور وہ فیصلہ کتنا خوفناک ہو گا ہم اور آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہماری حماقت حشر کو زمین پر لے آئے گی ، زمین کے اندر سوراخ ہو جائے گا اور آدھی دنیا بخارات بن کر فضا میں تحلیل ہو جائے گی۔خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پاکستان بھرپور طریقے سے ہر فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی برادری نے بھی کئی مرتبہ تشویش کا اظہار کیا ہے جس سے بھارت کو سفارتی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔