کشمیر اور ہمارا وارداتی لائحمہ عمل ۔۔۔ تحریر: شیر محمد اعوان

میں نے کافی عرصہ پہلے گاؤں کے ایک بزرگ سے پوچھا مرچیں کب لگتی ہیں تو وہ جھٹ سے بولے “جب سچ بولیں”میں اس جواب سے وقتی طور پر سکتے میں آیا کیونکہ میں نے مرچوں کی فصل کا موسم پوچھا اور انہوں نے زمانے کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔اور یہ بات اس وقت مزید جاندار نظر آتی ہے جب کسی بڑے لیڈر ،حکومتی یا حزب اختلاف سے جڑے سیاستدان اور کسی سرمایادار سے متعلق ہو۔لیکن جب سچ کا تعلق ہمارے جذبات اور توقعات سے ہو تو پھر بات مرچوں سے کوسوں آگے نکل جاتی ہے۔حق یہ ہے کہ نتائج سے قطع نظر سچ کا پرچار ہونا چاہیے۔کیونکہ اسے نہ یاد رکھنا پڑتا ہے نہ یہ چھپتا ہے ہاں وقتی طور پر جھوٹ اور پراپیگنڈا سے اس پر پردا ڈالنے کی مذموم کوشش کی جاسکتی ہے اگر آپ غیر جانبدارانہ

اور حقیقت پر مبنی تجزیہ کریں تو آپکو پتہ چلے گا کہ کشمیر کے درینہ اور حالیہ مسلئہ پر کئی سچ ہمارا منہ چڑا رہے ہیں۔کشمیر کی علیحدہ حیثیت کی شناخت پر انڈیا کی حالیہ ڈاکہ زنی اور بربریت کے پہاڑ کے جواب میں ہم مٹی کا ڈھیلا بھی نہیں لا سکے لیکن وطن عزیز میں ہم نے یہ ثابت کرنے کی کچھ کامیاب اور کچھ ناکام کوشش کی ہے کہ مودی کے دانت کٹھے کر دیے گئے ہیں۔وہ شرم کے مارے مرنے کو چلو بھر پانی ڈھونڈ رہا ہے لیکن پانی شاید اس لیے میسر نہیں کہ سارا پانی پاکستان کی فصلوں اور مکانات کو زیر آب لانے میں صرف ہو گیا۔جب انڈیا نے کشمیریوں کی شناخت پر شب خون مارنے کی واردات کی تو حکومت اور اپوزیشن دونوں سینٹ کے تندور میں اپنی اپنی روٹی لگانے میں مصروف تھے۔جس وقت ہماری شہ رگ کاٹ دی گئی تو پھر ہمیں جان کے لالے پڑے مگر ہم نے سیکھا کچھ بھی نہیں۔وزیراعظم صاحب کا انتہائی متحرک ٹویٹر ڈیڑھ دن خواب خرگوش رہا۔حزب اختلاف بھی حکومت پر بیانات اور تنقید کے نشتر چلا کر اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوتی نظر آئی۔حکومت تھا تھی تھے اور اپوزیشن گا گی گے سے باہر نہ نکل سکی۔اور اتنے بڑے سانحہ پر سیاسی لچ تلا جاتا رہا۔گالی گلوچ اور تو تو میں میں کی نظر ہوتے پارلیمنٹ کے سیشن میں بالآخر درجن بھر جوشیلی تقاریر سے عوام پر ثابت کیا گیا کہ جو درد ہمیں کشمیر کا ہے اتنا شاید شہداء وادی کے لواحقین کو بھی نہیں۔اور اسکے بعد پھر سے ہلڑ بازی اور سیاسی نوک جھونک شروع ہوئی۔حزب اختلاف نے حکومت کو کشمیر فروش ثابت کرنے کے لیے کمر کسی تو حکومت نے سارا ملبہ سابقہ حکمرانوں پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ پکڑ دھکڑ تیز کر دی۔نتیجتا ساری بحث کا مرکز بدل جانے سے ہم نے اپنی شہ رگ

کی ایسی مرہم پٹی کی کہ تاریخ رقم ہو گئی۔ اسی دوران ادھر وادی میں کرفیو لگ گیا۔ادھر پاکستان میں وزیر خارجہ یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کشمیر کے لیے انکی تگ و دو بے نظیر ہے۔حج کیے بغیر واپس آنا۔چند وزراء خارجہ سے ٹیلی فون پر بات چیت،چائنہ کا دورہ اور اقوام متحدہ کو خط انکی انتھک تگ ودو کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔اور پھر لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ انکی روح کو جھنجھوڑ دینے والی تحریر نے سلامتی کونسل کے دروازے کی زنجیر ہلا دی۔اور 16 اگست بروز جمعہ کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ھے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی حکومت کی بھی بلے بلے ھوئی لوگوں کی امید دیکھ کر ھم نے بھی اں میں ھاں ملائی کیونکہ جب امید ٹوٹتی ھے تو انسان کہیں کا نہیں رھتا۔ حالانکہ سچ کا تقاضا تھا کہ بتا دیا

جائے کہ یہ اجلاس جولائی میں ھی طے پا گیا تھا کشمیر کی حیثیت پر ابھی انڈیا نے نقب زنی نہیں کی تھی لیکن چونکہ مقصد عوام کے جذبات اور کشمیر کے حل پر توجہ سے زیادہ اپنی سیاسی برتری ثابت کرنا ھےاس لیے اس بات کا بھرپور کریڈٹ لیا گیا۔اگر آپ ماضی میں نظر دوڑائیں تو برہان وانی کی شہادت کے بعدکشمیر میں تاریخی تحریک شروع ہوئی لیکن ھماری سفارتی پھرتیاں صرف چورن بیچنے تک محدود رھی ۔جب دشمن شاطر کم ظرف اور جلاد صفت ھو توآنکھیں اور کان کھلے رکھنے ضروری ہیں خاص طور پر جب آپ سیاسی اور معاشی طور پر بھی غیر مستحکم ھو۔مودی کے الیکشن پر وزیر اعظم نے جذبہ خیر سگالی کا سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پر بھرپور اظہار کیا شاید اچھی بات ھو مگر مودی کی الیکشن کمپین

میں کشمیر کی حیثیت ختم کرنے اور پاک دشمنی کا پر چار ھوتا رھا۔اور ھم گونگے بہرے بنے امن کی آشاکے پلو سے لپٹے رھےامن کی خواہش اور امن کا پرچار کرنابرا نہیں لیکن جب آپکی شہہ رگ کچل دی جائے آپکے بارڈر دہک رھے ھوں آپکو ایٹمی حملے کی کھلی دھمکی دی جائے تو آپکو زیادہ نہیں تو اپنے تیور ھی بدل لینے چاہیےاور نہیں تو جو کئی درجن ترجمان ھیں جنکو لوگوں کی پگڑی اچھالنے اور بال کی کھال اتارنے کے علاوہ کچھ نہیں آتاان سے ایک بیان ھی دلوا دیں کہ ھم نے ایٹم بم شب برات پر پٹاخوں کے لیے نہیں رکھا۔ سفارت کاری کا یہ عالم ھے کہ او آئی سی نے سوائے مذمت کے کوئی عملی کام نہیں کیاعرب ممالک نہ صرف اسے انڈیا کا اندرونی معاملہ گردانتے ھیں بلکہ جنکے ہم ڈرائیور بنےوہ مودی کو

اعلی ایوارڈ سے نوازتے ھیں چائینہ پاکستان دوستی اور لداخ کی وجہ سےھماری صف میں نظر آ رھا ھےسلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد بھی کرفیو نا صرف جاری بلکہ تیسرے ھفتے میں داخل ھو گیا ھے اگر آپ معاملہ سچ کے معیار پر پرکھیں تو یہ ھوناھی تھا مودی اس واردات کے بعد درجنوں ملکوں کے دورے کر چکا ھے ایوارڈ لے چکا ھے ایٹمی دھماکوں کی دھمکیاں دیتا وزیر خارجہ چالیس ممالک کے وزرائے خارجہ سے مل چکا ھےلیکن ھم ٹویٹر کے پروں سے اس آگ کو بجھانے کی کوشش میں مصروف ھیں اور جتنے ملکوں کا مودی نے دورہ کیا لگ بھگ اتنے ٹویٹ وزیر اعظم نے ضرور داغے ھیں اور عوام کو سمجھانے کے لیے انکا اردو ترجمہ بھی کیا ھےاب بھی اگر لوگوں کو اعتراض ھے کہ کوشش نہیں کی

تو پھر کیا کیا جا سکتا ھے اور تو اور پاکستان نے جنیوا کنونشن میں بھی یہ مسئلہ پیش کر دیا اب پتہ نہیں اس درخواست میں “70 سال میں پہلی بار” کا جادوئی فقرہ شامل ھے یا نہیں۔ اور ساتھ ھی حکومت نے ایک عارضی قاصدہ بھی تعینات کی ھے کیونکہ پچھلے آٹھ ماہ سے وہ سیٹ خالی تھی اور ھمیں چونکہ مودی سے اچھی امید تھی اس لیے اس طرف توجہ ھی نہیں دی۔ لیکن پھر بھی ھم اقوام عالم پر زور دے رھے ہیں کہ انڈیا سے تعلقات ختم کری ۔ اگرچہ ھم اپنے ختم کرنے کی طرف نہیں جا رھے انکے ڈیلیگیشن پروٹوکول کے ساتھ وطن عزیز میں گھوم رھے ھیں فضائی حدود اور کرتار پورہ کھول کر مثال قائم کی جا رھی ھے ویسے تو بیرسٹر سلطان کا مشورہ بہت اچھا ہے تھا کہ ساری پارٹیاں اپنے ورکرز کے ساتھ کنٹرول لائن کی طرف

مارچ کریں۔لیکن یہ شاید ممکن نہ ہو۔حکومت کو چاہیے کہ سفارت کاری بہتر انداز میں کرے صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں۔وزیر خارجہ اور وزراعظم ذاتی حیثیت میں دوسرے ممالک( بالخصوص جو انڈیا پر دباو بڑھا سکتے ہیں) کے سربراہان سے ملیں۔ہفتہ وار سفارتی سطح پر مسلہ کے حل کےلیے تحریری درخواست کی جاے۔ایران اور چائنہ کے زریعے روس کی حمایت حاصل کی جائے۔افغانستان سے امریکی انخلاء کے معاملے میں اپنی اہمیت کے پیش نظر امریکہ کو لے دے کی پالیسی پر راضی کیا جائے۔اور ایک رائے جس سے بہت سے لوگ اتفاق نہیں کریں گے لیکن وہ کارگر ہے۔بارڈر پر منہ توڑ جواب دینے کے ساتھ ساتھ ہمارا بیان بھی جارحانہ ہونا چاہیے جب دو ایٹمی طاقتوں میں تناو دونوں طرف سےبڑھے گا تو اقوام عالم خود بخود

فریق بنیں گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ..لگے گی آگ تو آئیں گے گھر سبھی زد میں۔۔شہر میں صرف میرا مکان تھوڑی ہے۔۔یہ جو آدھا گھنٹہ گھر سے باہر نکلنے والا کام وہ بھی بغیر منصوبہ بندی اور ہدف کے اس سے بہتر ہے کہ میڈیا یا کسی بھی ذریعے سے دنیا میں رہنے والے کشمیری اور کشمیر کی حمایت کرنے والے لوگوں کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے زریعے باہر نکالیں۔اور اگر ایک ہفتہ پوری دنیا میں کشمیر کے حمایتی سراپا احتجاج ہوں تو اقوام عالم کوئی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ یہ انڈیا یا پاکستان نہیں جہاں دھرنے اور احتجاج سے فرق نہیں پڑتا۔