آدھا گھنٹہ اور ہمارا المیہ ۔۔۔ تحریر: شیر محمد اعوان

چند دن پہلے وزیر اعظم پاکستان نے مسلہ کشمیر کے حوالے سے قوم سے خطاب کیا۔انہوں نے قوم کو بتایا کہ وہ کس طرح کشمیر میں ہونے والےظلم و ستم کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں اور مودی کس طرح مودی گردی سے انتشار کا دامن تھامےہوئے ہے۔جذباتی پاکستانی قوم کے جذبات کے برعکس یہ شائستہ خطاب تھا جس میں انہوں نے پاکستانی،کشمیری اور بھارتی عوام کا درد ،تکالیف،انڈین حکومت کا اپنے ہی آئین سے انحراف،اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی اور مودی کے شدت پسندانہ تخریبی کردار کا ذکر کیا اور پھر آخر میں کشمیر کی حمایت میں عجیب وغریب قسم کا فیصلہ صادر کر دیا۔جسکی منطق توحکومتی فلاسفر شاید

آپکو سمجھا ہی دیں لیکن سوچ بچار سے عاری اور بغیر منصوبہ بندی کے کیے گئے اس اعلان پر اسی دن چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ ہم کشمیریوں سے یکجہتی دکھانے کی بجائے الٹا شرمندہ ہونگے۔پہلی بات یہ کہ اس سے کشمیریوں کو کیا فائدہ ہو گا؟ ہاں ایک پیغام جائے گاکہ پاکستانی قوم انکے ساتھ کھڑی ہے لیکن یہ تو کشمیر کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستانی قوم انکے ساتھ کھڑی ہے۔کرفیو زدہ کشمیر کے لیئے پاکستان کو بند کرنے سے انڈیا کو کیا فرق پڑے گا؟ اور پھر اگر یہ فارمولا اتنا مفید تھا تو جس دن کشمیر پر شب خون مارا گیا تب قوم کو کیوں باہر نہیں نکالا گیا۔حالانکہ اگر اس دن ساری قوم باہر نکلتی تو دنیا کو متوجہ کرنا آسان تھا۔عید قربان گزرنے کے بعد سو اونٹ بھی ذبح کیے جائیں تو وہ سنت ابراہیمی کا درجہ نہیں رکھتے۔دوسری بات اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے دنیا کو کوئی واضح پیغام جاتا ہے یا کشمیر کی تحریک میں جان آتی ہے توپھر اس جن کو بوتل سے نکالنے سے پہلے کم از کم منصوبہ بندی ہی کر لیں۔اظہار یکجہتی کے لیئے بارہ سے ساڑھے بارہ کا وقت دیا گیا۔وہ بھی بروز جمعہ۔۔اگر آپ تعلیمی اداروں پر نظر ڈالیں تو زیادہ تر غیر سرکاری سکول بارہ بجے چھٹی دیتے ہیں۔ وہ بچے بارہ سے ایک بجے تک سڑک یا وین میں ہوتے ہیں۔سرکاری اداروں کو آپ نے پہلے چھٹی کا حکم دے دیا۔حالانکہ سوشل میڈیا پر دیکھیں تو کشمیر میں کرفیو کے باوجود لوگ گھروں میں بچوں کو تعلیم دیتے نظر آئیں گے۔اس کے علاوہ تقریبا ایک بجے مساجد میں جمعہ شروع ہو جاتا ہے۔اب کچھ شہروں میں پہیہ جام کر کے لاکھوں بچوں کو الگ خوار کیا ۔گاڑیاں ،ایمبولینس اور دیگر ٹریفک سڑک پر ہارن کے نغمے سناتی رہیں۔اور یوں نہ زکر خدا ملا نہ

وصال صنم۔اسکی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ایک یہ کہ منصوبہ بندی صفر تھی دوسرا دیگر پارٹیوں نےبھی کم ظرفی دکھائی۔اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ لوگ نہیں نکلے بڑی تعداد میں لوگ نکلے لیکن بائیس کڑورلوگ جن میں سے ہر ایک کشمیر کا درد رکھتا ہے انکی تعداد اتنی بحر طور نہیں تھی جتنی اس معاملے میں ہونی چاہیے ۔اسلام آباد میں ہونے والے سیاسی جلسوں کی تعداد اور شہ رگ کے لیئے نکلنے والوں کی تعداد آپکے سامنے ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس سے دنیا کو اچھا تاثر ملا یا برا۔کشمیریوں کو حوصلہ ملا یا حوصلہ شکنی۔آپ کا کنٹرولڈ اور دباو زدہ میڈیا تو لاکھ کو کڑوڑ دکھا سکتا ہے لیکن چونکہ

اعلان پاکستانی وزر اعظم کی طرف سے تھا اس لیئے دنیا بھر کے صحافی پاکستان کی سڑکیں ناپ رہے تھے اور کیمرے مناظر محفوظ کر رہے تھے۔سٹیج پر کشمیری پرچم پکڑنے پر گو مگو کا شکار وزیراعظم صاحب خود بائیس منٹ بعد اوجھل ہوئے اور وزیر خارجہ نے اک سیاسی جلسے میں پنہچنے کو ترجیح دی اس سے ہماری سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ہمارا لمیہ یہ بھی ہے کہ ہر پارٹی اور پاکستانی کی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔اپنے اپنے امام ہیں۔قومی نظریے اور قومی اہداف کا فقدان تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ ہم قومی ایشوز پر اکٹھے نہیں ہوتے۔اگر وزیراعظم نے عجلت کا مظاہرہ کر ہی دیا تھا تو کم از کم قوم اسے قومی

مسلہ گردانتی اور سڑکوں پر ہوتی۔طاقت، اتفاق اور یکجہتی کی مثال قائم کرتی۔چاہیے تو یہ تھا کہ حزب اختلاف ،جج،بیورکریٹس ،جرنیل ساری کابینہ اور تمام ارکان ایوان زیریں و بالا ایک ساتھ نظر آتے۔دنیا کو دکھاتے کہ ہم تمام تر سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں۔اگرچہ حکومت نے اپوزیشن کی گردن میں نمدا کسا ہوا ہے۔نیب حکومتی پراجیکٹ پر خاموش تماشائی اور حزب اختلاف کے کیسز میں چیتا بنا ہواہے۔عدلیہ واٹس ایپ پر کنٹرول کر کے خط و کتابت کا خرچ بچایا جا رہا ہے لیکن ان سب کے باوجود اگر ہم قومی مسائل پر اکٹھے نہیں ہونگے تو یاد رکھیں کہ ذلت اور بربادی

کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔حکومت یہی پھکی بیچتی رہے لیکن اس پر نظر ثانی ضرور فرمائے۔کم از کم وقت تبدیل کر دے تاکہ زیادہ عوام اکٹھی ہو سکے۔لیکن اس سے کہیں بہتر ہے کہ حکومت سفارتی محاذ پر اپنے مورچے سنبھالے۔وزیراعظم صاحب ذاتی حیثیت میں دوسرے ممالک کے سربرایان سے ملیں۔انکو کشمیر کی مخدوش صورت حال اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا ادراک کروائیں۔اپنی ٹیم کے ساتھ وزیراعظم اپنی اور وزیر خارجہ کی سربراہی میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے دورے کریں اورکشمیر پر انڈیا کے غاصبانہ قبضے ،قتل وغارت گری اور کشمیر کی الگ ریاستی حیثیت بحال کرنے میں مدد پر آمادہ کریں۔مودی پچھلے اٹھائیس دن میں درجنوں اور بھارتی وزیر خارجہ بیسیوں سربرایان اور وزراء خارجہ سے مل کر اپنی واردات کو درست عمل ثابت کرنے کی کوشش کر چکے ہیں اور ہم یہ تکیہ کیے ہوئے ہیں کہ جھنڈوں کے سائے اور چوکوں میں ڈیک پر جذباتی ملی نغموں میں کشمیر کی آزادی پنہاں ہے۔