مسئلہ کشمیر، امت مسلمہ اور عالمی میڈیا ۔۔۔تحریر: سلمان احمد قریشی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افوا ج کے مظالم کی داستان اتنی ہی طویل ہے جتنا عرصہ سے یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ عالمی حالات، علاقائی تنازعات، حکومتوں کی ترجیحات ان تمام عوامل کے نتیجہ میں مسئلہ کشمیر کبھی زیر بحث آیا تو کبھی نظرانداز ہوتا چلا آیا ہے۔ آزادی کے متوالے ہزارو ں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جسکے نتیجہ میں تحریک آزادی کشمیر آج پورے زور شور سے جاری ہے۔ حالیہ چند سالوں میں برہان وانی کی شہادت سے اس تحریک میں شدت آئی، خبروں میں آنا شروع ہوا کشمیر میں حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں خطے میں تناؤ ہے صورتحال پیچیدہ ہے۔ مودی سرکار کا موقف رہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، کچھ لوگ پر تشدد کاروائیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد5اگست کو وزیر

اعظم مودی نے بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370کو ختم کر دیا۔ آرٹیکل 370کی منسوخی کے اعلان کے بعد سے آج تک فوج نے وادی کشمیر کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے اور کشمیریوں کو بھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کیلئے لاکھوں بھارتی فوجی بدستور تعینات ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5اگست سے شروع ہونے والے اس محاصرے کے نتیجہ میں کشمیریوں کو اس وقت غذا اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت بنیادی اشیاء ضرورت کی قلت کا شدید سامنا ہے اور مقبوضہ وادی انسانی بحران کی تصویر پیش کر رہی ہے۔مسئلہ کشمیر جو سالہا سال سے اوجھل تھا سینٹرل سٹیج پر آ گیا، پوری دنیا میں کشمیر کے حوالہ سے بھارت کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔ سفارتی سطح پر حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے اپنی بھرپور کوششیں کیں۔پاکستانی عوام متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے واضح موقف کی حمایت نہ کرنے پر سخت مایوسی ہوئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا موقف تھا جب حقائق سامنے آئیں گے تو خلیجی ممالک ہمارا ساتھ دیں گے عوام کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کی رائے سوچ بدل دیتی ہے جیسے جیسے حقائق سامنے آئیں گے ان حکمرانوں کی رائے بدلے گی۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے کشمیر کے مسئلہ پر حمایت کب حاصل ہوتی ہے یہ تو آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا، لیکن عالمی ضمیر مسئلہ کشمیر پر ضرور جا گنے کے قریب ہے۔ عوامی سطح پر دنیا بھر میں کشمیریوں کی حمایت جاری ہے جبکہ کچھ حکومتیں اپنے تجارتی مفادات کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ایک طرف ایسے حکمران ہیں تو دوسری

جانب حکومت ایران، جس نے سب سے پہلے بھارت کے خلاف عملی قدم اٹھا لیا-ایران کی مجلس شوریٰ اسلامی کے رکن علی طہری کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے ایران سمیت تمام مسلمان ممالک پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ہم مسلمانان عالم کی تقدیر سے لا تعلق نہیں رہ سکتے مجلس شوریٰ اسلامی کے جاری اجلاس میں کشمیر کی حمایت میں ایک یاداشت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کشمیر کی عوام مظلوم اور بھارتی حکومت ظالم ہے۔ اسلامی اخوت ہم سے اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ہم دیگر مسلمانوں کے مسائل و مشکلات سے لا تعلق نہ رہیں۔ مسئلہ کشمیر حل کرانا ایران کی ذمہ داری ہے۔عرب ممالک کے حکمرانوں کے خیالات کب بدلتے ہیں اور وہ حقائق سے کب آشنا ہوں گے اس کا بہتر جواب تو شاہ محمود

قریشی ہی دے سکتے ہیں، کشمیر کے حوالہ سے بھارت سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں۔ بھارتی اداکارہ اور کانگرس کی رہنما ارمیلا ما ٹونڈکر بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات پر بول پڑی انہوں نے آرٹیکل 370ہٹانے کے اقدام کو غیر انسانی قرار دے دیا ان کا کہنا ہے کہ میرے ساس او ر سسر کشمیر میں رہتے ہیں او ر ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ میرے شوہر نے اپنے والدین سے 22دنوں سے بات نہیں کی، بھارتی کانگرس کی رہنما نے کہا ساس اور سسر بلڈ پریشر، زیابیطس کے مریض ہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس عرصہ میں انہیں ادویات بھی ملی ہیں یا نہیں۔ وادی میں مسلسل کرفیو ہے،اس سے قبل کانگرس کے رہنما منیس تیواڑی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا اگر کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو حکومت مواصلات کو بحال

اور لاک ڈاؤن کو ختم کیوں نہیں کر دیتی۔کانگرس رہنما راہول گاندھی نے بھی سری نگر داخلے پر روکے جانے کے بعد کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ کشمیر میں صورتحا ل ٹھیک نہیں ہے۔ خیال رہے دس کے قریب درخواستیں بھارتی سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں جن میں آئین کے آرٹیکل 370کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے وہیں خظے میں جاری کرفیو کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہونے کی بات بھی کی گئی ہے۔تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے فوری طور پر کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کردیا۔ ترک ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں لگائے گئے بدترین کرفیو کا چوتھا ہفتہ شروع ہو چکا ہے، اس دوران بھارتی افواج نے معمولی سی بھی رعایت نہیں دی جس کی وجہ سے خطر

ناک امراض میں مبتلا بزرگ مریضوں کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہو چکی ہے تو معصوم بچے دیگر ضروری اشیاء کی عدم دستیابی کے باعث بلک بلک کر ہلکان ہو رہے ہیں مگر ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔ پوری وادی میں قحط جیسی صورتحال ہے کاروبار زندگی مکمل طور پر بند ہے لوگ گھروں میں محصور ہیں بھارتی فوج سرکاری عمارتوں سے کشمیری جھنڈے ہٹا رہی ہے۔ امریکہ کے دفتر خارجہ حکام نے انادولوایجنسی کو تحریری بیا ن میں اس جانب توجہ مبذول کروائی ہے کہ کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات میں خطے میں عدم استحکا م کے ماحول کو شہ دی ہے، بھارت کے کشمیر میں اقدامات باعث تشویش ہیں۔بی بی سی بھارت نے سمیر ہاشمی کے حوالہ سے رپورٹ کیا ہے جس کے مطابق مقامی افراد پر شدید تشدد کے

الزامات سامنے آئے۔ کشمیری بھارتی فوج سے یہ کہتے دیکھے گئے ہم پر تشدد نہ کریں بس ہمیں گولی مار دیں۔ عالمی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اہم خبروں اور شہ سرخیوں میں کشمیر کی صورتحال پر رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ عالمی میڈیا غیر جانبداری سے بھارتی افواج کے مظالم کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔عالمی میڈیا کی طرف سے بھارتی پراپیگنڈ ہ کے باوجود بھارتی قابض افواج کے مظالم کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق مودی سرکار کا جھوٹ دنیا کے سامنے ہے سری نگر کے کئی علاقوں میں صورتحال مخدوش ہے وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں، لوگ محصور ہیں اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے۔ نیو یارک ٹائم نے اپنی رپورٹ بھارتی حکومت کے ظلم کے پہاڑوں کو بے نقاب کرتے

ہوئے لکھا مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندیوں میں سب سے زیادہ سختی کی ہے کیونکہ خطے کی اکثریت پاکستان کے ساتھ انضمام کے حق میں ہے۔ کشمیریوں اور قابض فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ فورسز رات کو گھروں میں گھس کر کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق خصوصی حیثیت کے خاتمے کہ بعد کشمیریوں کو زبردستی گھروں میں گھستے ہوئے حراست میں لیا گیا اور بد ترین تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ بجلی کے جھٹکے دیے اور الٹا لٹکایا گیا، الجزیرہ چینل کے مطابق مقبوضہ وادی میں جھوٹ کے پردے کے عقب میں کشمیری عوام پیلٹ گنز اور سخت پابندیوں سے لڑ رہے ہیں، نوجوانوں کے ساتھ ساتھ کمسن بچوں کو بھی حراست میں لیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی

حیثیت ختم ہونے کے بعد اب تک 3ہزار بے گناہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جس میں زیاد ہ تعداد بچوں اور کم عمر لڑکوں کی ہے۔ بی بی سی، سی این این، نیو یارک ٹائمز سمیت متعدد عالمی خبر رساں ادارے بھارتی افواج کے مظالم کو دنیا کے سامنے غیر جانبداری سے پیش کر رہے ہیں، عالمی میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی کو ایک مکمل فوجی چھاؤنی اور بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔لوگوں کو مذموم بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج سے روکنے کیلئے بھارتی فوج تعینات ہے اس کے باوجود کرفیو اور دیگر پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کشمیری سڑکوں پر آ کر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں 5اگست سے اب تک 500مظاہرے ہو چکے ہیں جن پر بھارتی فوج پیلٹ گن اور آنسو گیس

کے گولے بر سا رہی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کے صدر کو کشمیرکی صورتحال پر ایک اور خط لکھ دیا ہے اور بھارت سے مذاکرات کیلئے کرفیو کا خاتمہ، انسانی حقوق کی بحالی اور کشمیری رہنماؤ ں کی رہائی کی پیشگی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔عالمی میڈیا سلامتی کونسل اور عالمی رہنماؤں کے سامنے کشمیر کی صورتحال واضح ہے، پاکستان کشمیر کی اخلاقی حمایت کیلئے متحرک بھی ہے، خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کا ضمیر کب جاگتا ہے اور وہ کاروباری مفادات پر انسانیت اور انسانی حقوق کو ترجیح دیتے ہوئے ایران کی طرح واضح موقف اختیار کرتے ہیں ۔پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ اس وقت کی منتظر ہے۔قیام پاکستان کے بعد جس طرح ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیاآج بھی

مسئلہ کشمیر پر واضح موقف اختیار کر کے برادر اسلامی ملک اور ایک اچھے ہمسایہ ہونے کا حق ادا کررہا ہے۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہئے اپنی خارجہ پالیسی کو از سر نو ترتیب دے۔ مسئلہ کشمیر کا حل عالمی رہنماوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔اب جبکہ عالمی میڈیا بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کا اپنا غیر جانبدارنہ کردار ادا کر رہا ہے، حکومت پاکستان امت مسلمہ کے خواب سے نکل کر عالمی برداری میں بااثر ممالک سے تعلقات استوار کرے۔او آئی سی بھارت سے مطالبات ہی کر سکتی ہے، مودی سرکار کو راست اقدام پر مجبور نہیں کر سکتی۔امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس مثبت کردار ادا کریں تو بھارت کشمیر میں انسانیت سوز مظالم بند کرنے پر مجبور ہو گا۔اقوام متحدہ کی قرار داوں پر عمل دارمد بھی عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے۔کشمیر کے مسئلہ پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کی امن کی خواہش کے باوجود خطہ میں جنگ خارج از مکان نہیں۔