صلاح اوراصلاح۔۔۔ تحریر محمد ناصر اقبال

بحیثیت قوم ہم حقیقت پسند،سنجیدہ،معاملہ فہم اورسچے ہونے کی بجائے کانوں کے کچے ہیں۔ہمارے ہاں”سچائی تک رسائی” کارواج نہیں ۔ہرکوئی عجلت میں ہے ،ہم نے پنجابی محاورہ” کالیاں اگے ٹوئے”فراموش کردیا ۔ہرطرف بہتان ، جھوٹ،دوہرے معیاراورمنافقت کاراج ہے۔ہم فطری طورپر جذبات کی رومیں فیصلہ کرنے اور فوری دوسروں کی قسمت کافیصلہ سنانے کے عادی ہیں۔ہمارے معاشرے میں منافرت ،عدم برداشت ،تشدد،حسد،تعصب ،نفرت،صوبائیت ،الزام اور انتقام عام ہے ۔جو کسی بدی یابرائی سے روکے اور ہماری بہتری کیلئے کوئی نصیحت کرے وہ ہمیں زہر لگتا ہے۔محاورہ ”کتا کان لے گیا” پاکستانیوں پر صادق آتا ہے۔اِدھراُدھر سے سنی سنائی باتوں کی تحقیق یاتصدیق کئے بغیر ہم پروپیگنڈا کرنے جبکہ دیرینہ تعلقات بگاڑنے

میں دیر نہیں لگاتے۔ایک دوسرے سے بدزبانی اوربدگمانی ہماراٹریڈمارک ہے۔ہم تصویرکے دونوں رخ دیکھے اور پوراسچ منظرعام پرآنے کاانتظار کئے بغیرہرطرح کے جھوٹ پرفور ی ایمان لے آتے ہیں۔ ہم اپناکام درست انداز سے کریں نہ کریں لیکن دوسروںکے کام میں مداخلت کرنااورانہیں مفت مشورہ دینا ہماری اجتماعی عادت ہے۔ہم ٹی وی پربلے بازکوکھیلتادیکھ کراسے مشورے دے رہے ہوتے ہیں ۔کبڈی دیکھتے ہوئے دائرے سے باہر بیٹھا جوان جوخودزندگی بھرمیدان میں نہیں اتراہوتا وہ بھی ”جاپھی”کودائو ضروربتاتاہے ۔ ہمارے آرام اورسکون کیلئے پولیس آفیسراوراہلکار 7/24بنیادوں پرانتھک کام کرتے ہیں،جوزیادہ اورمسلسل کام کرے گا یقیناکام کے بوجھ کے سبب اس سے غلطیاں بھی زیادہ سرزدہوں گی۔برطانیہ اورامریکا سمیت کسی ملک کی سکیورٹی فورسزغلطیوں سے پاک نہیں۔جو ہماری پولیس کے مسائل اوروسائل میںفرق نہیں سمجھتاوہ اس پر تنقید بھی نہیںکرسکتا۔میں دس برس کی عمر سے پولیس کو بہت نزدیک اورباریک بینی سے دیکھتا آرہا ہوں ،میں نے بارہ ماہ برطانیہ اورایک ماہ سعودیہ پولیس کوبھی کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میر ی رائے میں ہماری پولیس کودستیاب وسائل اوردرپیش مسائل کے تناظر میں اس ادارے کی مجموعی کارکردگی قابل قدراورقابل رشک ہے۔ پولیس آفیسراوراہلکار ہمارے معاشرے کاحصہ ہیں،معاشرہ انہیں نفرت دے گاتویقینامعاشرے کو نفرت ملے گی اوراگرعزت دے گاتویقینابدلے میں عزت ملے گی۔ میں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرکہتا ہوں ہمارے معاشرے نے پولیس کونفرت کے سواکچھ نہیںدیا۔جس کسی نے ہماری پولیس کا برطانیہ یافرانس کی پولیس سے موازنہ کرناہواسے ہمارے اور ان کے معاشروں کے درمیان بھی تقابل کرناہوگا ۔ پولیس قوانین سابق درویش صفت آئی

جی پنجاب حاجی حبیب الرحمن یا ان کے پیشرو کسی آئی جی نے نہیں بنائے۔سروِنگ آئی جی کیپٹن (ر)عارف نوازخان یالاہور کے سمارٹ ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمدخان چاہیں بھی تو پولیس کے کسی قانون میں ترمیم نہیں کرسکتے ۔نیاقانون بنانایاکسی پرانے قانون کی نوک پلک سنوارنا پارلیمنٹرین کاکام ہے لہٰذاء فرسودہ پولیس قوانین تبدیل نہ کرنے کاجواب ارباب اقتدارسے لیا جائے،پولیس والے تو کسی ربورٹ کی مانند ہیں ،جس کاریموٹ ہرحکمران کے ہاتھوں میںہوتا ہے ۔پولیس کلچر میں اصلاحات کی ضرورت اوراہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتاتاہم اس کیلئے سیاسی اشرافیہ سمیت معاشرے کے ہرفردکوبھی انفرادی اوراجتماعی سطح پراپنی اپنی اصلاح کرناہوگی مگر ہم نفرت ،تعصب یاتشدد سے دوسروں اورخودکوتبدیل نہیں کرسکتے۔جومعاشرہ اپنے ملک

کی باگ ڈوربار بارچوروں کے ہاتھوں میں دے سکتا ہے وہ ایک گرفتار چور کی مبینہ پولیس تشدد سے موت پر شورنہ مچائے تواورکیاکرے وہ معاشرہ پولیس کوبدعنوان کہتا ہے جہاں چندہزار وںکے سوا باقی لوگ بار بار ایک دوسرے کودھوکادیں۔مختلف شعبہ جات سے وابستہ افرادکوبلیک میل کرکے ان سے رقوم بٹورنے بلکہ ہتھیانے والے مٹھی بھر صحافی بھی پولیس پرکیچڑاچھالنااپنا فرض اورخودپرقرض سمجھتے ہیں ،ان صحافی حضرات کانام اورچہرہ بھی مجھے یادہے جوپولیس اہلکاروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں ۔جعلی ادویات کی تیاری اورتجارت سے وابستہ طبقہ بھی پولیس سے ناخوش ہے۔جومصنوعی دودھ کازہرشہریوں کی رگ رگ میں اتار رہے ہیں انہیں بھی پولیس بری لگتی ہے۔وہ اوباش جو اپنے دوست کے گھر میں نقب لگاتے ہوئے اس کی

بیوی یاہمشیرہ سے مراسم کی فراق میں اوروہ بھی جواپنے دوست کی عزت سے کھیلتے ہیں انہیں پولیس سے نفرت ہے۔جوچورمساجد ،مدارس اورنمازیوں کومعاف نہیں کرتے وہ بھی پولیس کے دشمن ہیں،وہ عناصر جوبچوں کے اغواء اوران پرجنسی تشدد میں ملوث ہیں انہیں پولیس کس طرح اچھی لگ سکتی ہے ۔ منشیات فروشوں سمیت جواء خانہ اورقحبہ خانہ مالکان بھی پولیس پرتنقید کرتے ہوئے ہلکان ہورہے ہیں۔جہاں ایک قانون دان محض” رانگ پارکنگ”سے روکنے پردوران ڈیوٹی باوردی خاتون اہلکار فائزہ کوطمانچہ ماردے اورالٹا کچہریوں میں پولیس اہلکاروں کوداخل ہونے سے روک دیاجائے وہ مٹھی بھرقانون دان بھی پولیس کاوجودبرداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔خاتون اہلکارفائزہ کوتھپڑمارنے کاواقعہ بیسیوں شہریوں نے دیکھا مگر ایف آئی آرمیںملزم

کوٹائپنگ مس ٹیک اورعدالت میںسینکڑوں وکلاء کے پیش ہونے کی بنیادپرضمانت مل گئی ۔متاثرہ خاتون اہلکارکو سنا نہیںگیا یہ قوم کی اس بیٹی نے شکوہ کیا ہے لیکن اس بیٹی پرتشدد کیخلاف کسی سوشل میڈیاصارف نے مہم نہیں چلائی کیونکہ یہ پولیس اہلکار ہے۔فائزہ نے انصاف نہ ملنے اور دبائو کے سبب ملازمت چھوڑنے کااعلان کیاجوشایدبعد میں واپس لے لیا ، میں سمجھتاہوں اگر پنجاب پولیس کاادارہ اپنی اس فرض شناس اہلکار کی پشت پرکھڑانہ ہواتواس سے خواتین اہلکاروں کامورال گرجائے گا۔فائزہ انصاف کیلئے ماتحت عدالت گئیں مگرانہیں فیصلہ تھمادیاگیا۔تاہم فائزہ کااپنے ملزم کوہتھکڑی لگاکرعدالت میں پیش کرنا بلاشبہ ایک منفرداور دبنگ اقدام تھا، کسی باضمیرملزم کیلئے یہی سزا کافی ہے۔میں سمجھتاہوں ایک باوردی اہلکار کونہیں ریاست کوطمانچہ

ماراگیا،سخت ایکشن لیاجائے ۔مختلف عدالتوں اوراحتجاجی مظاہروںمیں پولیس اہلکاروں پرتشدد اوران کی وردی پھاڑنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر ان محافظوں کے حق میں کوئی سوشل میڈیاپرآوازنہیں اٹھاتا ۔ اس وقت لاہور میں بی اے ناصر اوراشفاق احمدخان سمیت پولیس حکام عاشورہ کے سلسلہ میں فول پروف سکیورٹی کے انتظامات اور دوسرے ضروری اقدامات میں محوہیں جبکہ کشمیرمیں بھارتی بربریت کاسورج سوانیزے پرہے لیکن صلاح الدین پرمبینہ پولیس تشدد کی آڑ میں میڈیا نے اپنی توپوں کارخ پنجاب پولیس کی طرف موڑدیا جواس نازک مرحلے پرناقابل فہم ہے ۔سی سی پی اولاہور بی اے ناصر ،ڈی آئی جی آپریشن لاہوراشفاق احمدخان اورڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہورڈاکٹرانعام وحیدخان سمیت ان کے ٹیم ممبرز نے محر م الحرام کے

سلسلہ میں امن وامان کیلئے اپنی خدادادصلاحیتوں اورتوانائیوں کوجھونک دیا ،ان جہاندیدہ آفیسرز کاہراقدام یقینا شہریوں کیلئے تازہ ہواکاجھونکاہے۔ وہ ڈاکٹر جومراعات کیلئے ہڑتال کر کے بیمار انسانوں کی زندگی سے کھیلتے ہیں اوراس دوران کئی بیمار انسانوں کاانتقال بھی ہوجاتا ہے وہ مسیحا بھی پولیس گردی کاروناروتے ہیں۔یوحناآبادجہاں مشتعل مسیحیوں نے دومسلمان نوجوانوں پربدترین تشدد کرنے کے بعد انہیں زندہ جلادیا تھا وہ بھی پولیس کودن رات کوستے ہیں۔ شہراقبال ؒ جہا ں چندشہریوں نے سرعام دوبھائیوں پرتشد د کرکے انہیں جان سے ماردیا تھا انہیں بھی پولیس سے نفرت ہے۔ضروریات زندگی میں مضر اشیاء کی ملاوٹ کرنیوالے بھی پولیس پرتنقید کرتے ہوئے انسانیت کے علمبردار بن جاتے ہیں۔کسی پٹواری سے پوچھیں وہ بھی پولیس پربرس

پڑے گا۔جس گروہ نے قائداعظم ؒ کوکافراعظم کہا اورجولوگ تحریک قیام پاکستان کیخلاف زہرافشانی کرتے اور ان کے بچے اس ملک میں اعلیٰ عہدوں پربراجمان رہے مگرآج پھر وہ اپنے مخصوص حامیوں کوریاستی اداروں کیخلاف بھڑکارہے ہیں۔ وہ سکیورٹی اہلکار جوشہریوں کی طرف آنیوالی گولیاں اپنے سینوں کی ڈھال سے روکتے ہیں الٹاان شہریوں سے انہیںگالیاں سننے کوملتی ہیں ۔سوشل میڈیا کے زیادہ تر شتربے مہار صارف سکیورٹی اداروں بالخصوص پولیس کامیڈیاٹرائل کررہے ہیں ۔صلاح الدین کی موت کاپوراسچ عنقریب منظرعام پرآجائے گا لیکن سوشل میڈیا کی نام نہاد عدالت میں جس پنجاب پولیس کوکٹہرے میں کھڑا کیا گیاوہ لاہور سے311اورپنجاب بھرسے 1500شہداء کی وارث ہے ۔مجھے نہیں یادکسی کشمیری یا پولیس آفیسر اوراہلکارکی

شہادت پرسوشل میڈیا پراس طرح کی مہم چلی ہوجس طرح ایک پیشہ ور چور کے حق میں شورمچایاگیا۔ گورنرپنجاب بھی پوائنٹ سکورنگ کیلئے بھاگے گئے ،کامیاب حکمران وہ ہے جو مقبول نہیں معقول فیصلے کرے۔اگرکسی مادرعلمی یا شاہراہ کوچور کے نام سے منسوب کیا گیا تویہ سخت زیادتی ہوگی۔متعدد قلم کاراوردانشور قوم کو سچائی تک رسائی کیلئے مدد فراہم کرنے کی بجائے جذباتی عوام کی ہمدردیاں بٹورنے کیلئے کوشاںہیں لیکن اس طرح کوئی چور”سعد ”نہیںبن سکتا۔اگرصلاح الدین کودانستہ قتل کیا گیا ہے تودنیا کی کوئی طاقت قاتل کونہیں بچاسکتی لیکن مقتول زندگی میں جو رقوم چوری کرتارہاان کی برآمدگی اورمتاثرین کوواپسی بھی ناگزیر ہے۔اگر صلاح الدین پرتشددکیا گیا ہے توان اہلکاروں کے گناہ کی پاداش میں پنجاب پولیس

کامیڈیاٹرائل جائزنہیں ۔ پنجاب پولیس کے نیک نام اور نیک نیت ایڈیشنل آئی جی حضرات محمدطاہر ،طارق مسعود یٰسین،کیپٹن (ر)محمدامین وینس ، لاہور کے زیرک سی سی پی او بی اے ناصر ،لاہور کے مستعداورپروفیشنل ڈی آئی جی آپریشن لاہور اشفاق احمدخان ،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹرانعام وحیدخان،ڈی آئی جی حضرات شہزاداکبر،افضال احمدکوثر ،سلطان احمدچوہدری ،سی ٹی اولاہورکیپٹن (ر) لیاقت علی ملک،ڈی پی او چوہدری ذوالفقار،عاطف حیات،عاصم افتخار،مستحسن شاہ،ملک یعقوب اعوان،جمشید شاہ،رانازاہد ،اقبال شاہ اورانورسعیدکنگرا کے ہوتے ہوئے پنجاب پولیس کی قابلیت، کمٹمنٹ اورکارکردگی پرانگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ رحیم یارخان میں پولیس کے مبینہ تشدد سے جس صلاح الدین کی موت ہوئی وہ ایک پیشہ ور ،

نڈر،نوسربازاورشاطر چورتھا ۔وہ جہاں متعددشہریوں کی رقوم چوری کرتارہا وہاں اس کے ہاتھوں بنکوں کی قیمتی اے ٹی ایم بھی برباد ہو ئی ہیں ۔صلاح الدین کی وارداتوں کے دوران بنکوںکے سکیورٹی گارڈزکہاں تھے، ان کی بازپرس کون کرے گا وہ کیوں ان واقعات سے بے خبر اورانہیں روکنے میں ناکام رہے۔میری ناقص رائے ہے ان سکیورٹی گارڈزکو اے ٹی ایم کے سی سی ٹی وی تک رسائی دی جائے یعنی وہ بنک کے اندر بیٹھے بیٹھے ٹی وی سکرین پراے ٹی ایم کے اندرہونیوالی سرگرمیاں مانیٹرکریں۔ جب بھی اے ٹی ایم کے دروازے کھلیں توایک خودکار بیل کی مدد سے انہیں علم ہوجائے ان کے چوکناہونے سے و ہاں چوری یا ڈکیتی کے واقعات نہیں ہوں گے ،اے ٹی ایم کیبن کے دروازے شیشے نہیں سٹیل کے ہوں اوران کاایک لاک

سسٹم بنک کے اندرسکیورٹی گارڈز کے پاس ہو جووہ چوری یاڈکیتی کی صورت میں اندر سے ایک بٹن پریس کریں اورکوئی چوریا ڈاکو پولیس فورس کے آنے تک وہاں سے بھاگ نہ سکے ۔صلاح الدین کی طرف واپس آتے ہیں،اس کی مجرمانہ سرگرمیوںسے اس کے ورثا آگاہ نہ ہوںیہ نہیں ہوسکتا ، ”صلاح” کی ”اصلاح” کیوں نہ کی گئی۔جس روز میں نے صلاح الدین کے باپ کو اس کی میت وصول کرتے ہوئے وہاں ایک ایڈووکیٹ کودیکھا تومیں اس کارروائی کوفلمبند کرنے اوربعدازاں تصاویروائرل ہونے کی کہانی سمجھ گیا تھا،وہ ورثا کے ہمراہ وزیراعلیٰ سے ملنے بھی گیا۔ صلاح الدین کی جوتصاویروائرل کی گئیں انہیں دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کامشتعل ہونافطری تھا مگر جس طرح میں نے اوپرلکھا ہم لوگ سچائی تک رسائی کی

ضرورت محسوس اورکوشش نہیں کرتے۔ہرگناہ کاکوئی نہ کوئی محرک ضرورہوتا ہے ،صلاح الدین کی موت پولیس اہلکاروں کی بے پرواہی یازیادہ سے زیادہ مجرمانہ غفلت کاشاخسانہ توہوسکتی ہے مگر یہ قتل عمد ہرگزنہیں۔جب پولیس اہلکاروں کی صلاح الدین کے ساتھ کسی قسم کی کوئی عداوت یادشمنی نہیں تھی تو پھروہ اسے جان بوجھ کرجان سے کیوں ماریں گے۔حوالات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ دوسرے زیرحراست ملزمان سے مسلسل الجھتارہا ۔میں نے صلاح الدین کی پہلی ویڈیو دیکھی جس میںاس نے اے ٹی ایم کی طرف دیکھتے ہوئے منہ چڑایااوردیکھتے دیکھتے اے ٹی ایم توڑکراس میں سے کارڈنکال کروہاں سے چلتا بنا ۔اس دوران وٹس ایپ گروپ میں ایک نوجوان نے پولیس کیخلاف زہراگلنا شروع کردیا تومیں نے اسے

سمجھایااورتحقیقات منظرعام پرآنے تک خاموشی اختیارکرنے کامشور ہ دیا مگر اس نے بحث شروع کردی جس میں نے عرض کیا یہ باریش نوجوان پاگل نہیں بلکہ دوسروں کوپاگل بنارہا ہے کیونکہ کوئی پاگل اس قدرخوداعتمادی ،مہارت اور پھرتی سے کسی اوزار کے بغیر اے ٹی ایم توڑ کرکارڈ نہیں نکال اوراسے دوبارہ بندنہیں کر سکتا۔جس روز رحیم یارخان میں گرفتار چورصلاح الدین کی مبینہ پولیس تشدد سے موت کی خبر آئی اس روز لاہورمیں ایک خاتون سیاستدان پروین سکندرگل کی نامعلوم ملزمان جبکہ ایک طالبعلم کی سکول ٹیچر کے ہاتھوں تشدد سے ہلاکت کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے مگر سوشل میڈیا پر کسی شہری نے ان ایشوزپرآواز نہیں اٹھائی توصرف پولیس کے مبینہ تشدد سے اموات پرپوائنٹ سکورنگ ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔

پچھلے دنوں لاہورمیں ایک بدنصیب باپ کے ہاتھوں حادثاتی طورپر اس کاجوان فرزندمارا مگر اس کی بیوہ بہونے مدعی بن کر اپنے مقتول شوہرکے باپ کیخلاف قتل کامقدمہ درج کراکے اسے گرفتارکروادیاحالانکہ یہ قتل عمد نہیں تھا۔پولیس کوگرفتارملزمان پربیجاتشدد اورانہیں جان سے مارنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی لیکن ہمیں دوران تفتیش تشدد کے نتیجہ میں حادثاتی موت اورقتل عمدمیں فرق سمجھنا ہوگا ۔پولیس کے مبینہ تشدد سے شہریوں کی اموات اہلکاروں کی نامناسب تربیت کاشاخسانہ ہیں مگر قتل عمدہرگز نہیں۔ جس طرح اساتذہ اب بچوں کونہیںمارسکتے اورنتیجتاً بچے گستاخ،بے ادب اور نافرمان ہوتے چلے جارہے ہیں اس طرح پولیس کاڈر ختم کردیا گیا تومعاشرہ جنگل بن جائے گا۔ہمیں اپنی پولیس کوخامیوں خوبیوں سمیت قبول کرنااوراس کی اصلاح کیلئے حکمرانوں کی طرف دیکھنے کی بجائے معاشرے کو ایک ضابطہ اخلاق بناناہوگا کیونکہ حکمران اشرافیہ اپنے اس ہتھیار کوخودمختار نہیں بناسکتی اورمعاشرہ اس کے بغیر زندگی کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔