افغان طالبان سے اچانک مذاکرات منسوخ کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ نکلا،جانئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغان طالبان پاکستان کی مدد سے مذاکرات کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور معاہدہ بھی طے پا گیا تھا،اس معاہدے کی رو سے امریکہ کو ڈیڑھ سال کے اندر اپنی فورسز افغانستان سے نکالنا تھیں،تاہم ا س حوالے سے کچھ میٹنگز ہونا ابھی باقی تھیں کہ اس سے قبل ہی امریکی صدر نے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔اسی پر گفتگو کرتے ہوئے معرورف صحافی اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ اس تمام معاملے میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ افغان حکومت کی طرف سے مذاکرات میں بھارت کو شامل کرنا تھا، یہ پاکستان کو بلکل بھی قابلِ قبول نہیں تھا،موجودہ افغان حکومت

کو حصہ دینے کی یہ آخری کوشش ہو رہی ہے۔لیکن طالبان کہتے ہیں کہ یہ بریفیکس والے لوگ ہیں،کرزئی کو امریکا جرمنی سے اٹھا کر لایا تھا جب کہ اشرف غنی تو ہے ہی امریکا کا۔یہ امریکیوں کے ساتھ جہاز میں آئے تھے اس لیے انہیں جہاز میں ہی واپس لے جاؤ، اب افغانستان کے عوام ہمارے ساتھ ڈیل کر لیں گے۔اوریا مقبول جان نے مزید کہا کہ چین بھی اس وقت امریکا کی صورتحال کو دیکھ رہا ہے۔اور اس ڈیل میں سب سے زیادہ متحرک روس ہے۔روس چاہتا ہے کہ امریکا کچھ عرصہ اور افغانستان میں رہے تاکہ وہ یہاں سے “خونی” ہو کر نکلے۔اور امریکا بھی اس بات کو سمجھتا ہے کیونکہ اگر اگلے چھ ماہ میں ڈیل نہ ہوئی تو ڈونلڈ ٹرمپ اپنا اگلا الیکشن ہار جائے گا۔اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا مسئلہ ہو جائے گا،کیونکہ ان کے سامنے سابق سینئیر امریکی فوجی کھڑے ہو جائیں گے وہ کہیں گے کہ ہمیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔تو اصل بات یہ ہے کہ امریکا جو افغانستان سے نکلنے کی جلد بہت ہے لیکن وہ جاتے جاتے کچھ گند چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے طالبان نے قندوز اور کابل میں دھماکے کیے جس کی صورت میں کافی جانی نقصان ہوا۔اسی بات کو بنیاد بناتے ہوئے ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مزاکرات معطل کیے اور ڈیوڈ کیمپ میں امریکی وفد کی طالبان کے ساتھ ہونے والی ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی۔ایمرجنسی میں بلائی گئی میٹنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ طالبان کیسے لوگ ہیں جو لوگوں کو قتل کرتے پھر رہے ہیں۔ایک طرف انہیں ہم امن پید اکرنے کے لیے مزاکرات کی پیش کش کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ بم دھماکے کر رہے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ طالبان مزاکرات نہیں کرنا چاہتے۔لہٰذا ہم بھی طالبان کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں کریں گے