تحریک انصاف کے رہنما کے پاکستان پر سنگین الزامات

پشاور (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن صوبائی اسمبلی بلدیو کُمار نے بھارت میں پناہ کی درخواست دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کو دئے گئے ایک انٹرویو میں بلدیو کُمار نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو حقوق اور حفاظت نہیں دی جاتی۔ ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے اور انہیں بھی دو سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اہلِ خانہ سمیت بھارت کے شہر لدھیانہ میں رہائش پذیر ہیں جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔اقلیتی رکن صوبائی اسبلی بلدیو کُمار کی بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست اور پاکستان سے متعلق بیان کو خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے انتہائی شرمناک قرار دیا۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بلدیو کمار کی جانب سے بھارت میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینا ان کا ذاتی فیصلہ ہے کیونکہ ان کی اہلیہ بھی بھارتی شہری ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اقلیتوں سے متعلق بلدیو کمار کا بیان انتہائی مایوس کن ہے، پاکستان میں اقلیتی برادری تمام مذہبی آزادی کے ساتھ پُرسکون زندگی بسر کررہے ہیں۔بونیر کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے خیبرپختونخوا کے مشیر سورن سنگھ کے قتل میں بلدیو کمار کو رہا کردیا تھا تاہم مقتول کے اہلِ خانہ تاحال بلدیو کمار کو قاتل گردانتے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ برس 26 اپریل کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سورن سنگھ کے قتل کے الزام میں گرفتار بلدیو کمار کو بونیر کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم ثبوت پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کردیا تھا۔ یاد رہے کہ بلدیو کمار پر الزام عائد تھا کہ انہوں نے سیاسی رقابت کی بنیاد پر سردار سورن سنگھ کو اجرتی قاتلوں کے ذریعے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی اور انہیں قتل کروایا۔ جس کے بعد مئی 2018ء میں اسپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی اسد قیصر نے بلدیو کُمار سے اسمبلی رکنیت کا حلف لیا تھا۔