کشمیر کی موجودہ صورتحال ۔۔۔ تحریر: عدیل ممتاز

قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی جسم شہ رگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتابس یہی وجہ ہے کہ ہم کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے اب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا کشمیر اب تک تنازع حصہ ہے بہتر سالوں سے انڈین معصوم کشمیریوں پرظلم وبربریت کی انتہاہ کر چکا ہے مگر کشمیری بھی اپنی آزادی کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں مودی نے اپنی حیوانیت ثابت کرنے کے لیے معصوم کشمیریوں پر کرفیو لگا رکھا ہے آج ڈیرھ مہینہ ہونے کو ہے مودی نے سفاکیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں مودی نے بھارتی آیئن میں تبدیلی کے ذریعے آئینی دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے کا خاتمہ کر کے کشمیر پر قبضہ کرلیا ہے جس سے کشمیر کو خصوصی درجہ

حاصل تھا اس مقصد کے حصول کے لیے تمام کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر کے رکھ دیامودی انڈین آرمی نے پانچ اگست کو کشمیریوں کو گھروں میں بند کرکے ظلم کے پہاڑ گرا دئیے کرفیو لگا کر کشمیریوں کو ماراجارہا ہے یقین کریں لکھتے ہوئے قلم بھی ساتھ نہیں دے رہاستر سالوں سے خواتین کی عزت کو پامال کیا جارہا ہے ان کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ جا رہا ہے کشمیری گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیںموبائل ،انٹرنیٹ ،ٹی وی سب کچھ بند ہے کسی کو اپنے رشتہ داروں ، عزیزوں کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا موت کی وادی میں چلے گئے ہیں بند کمروں میں بند رہنے کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے دوائیوں کی قلت ہوگئی ہے بھوک پیاس کی وجہ سے لوگ مر رہے اپنے پیاروں کو گھروں میں ہی دفنایا جا رہا ہے لوگ ذہنی مریض بن گئے ہیں کشمیر کی موجودہ صورتحال نے کربلا کی یاد کو تازہ کردیا ہے وہاں پر بھی یزید نے بھوک پیاس سے لوگوں کو شہید کیامگر باطل کے سامنے سب ڈٹے رہے اور حق کے لیئے لڑتے رہے یوم اشورہ پر کشمیری گھروں سے نکل کر جلوس نکالتے رہے اور انڈین آرمی کے ہاتھوں زخمی اور شہید ہوتے رہے کشمیر میں صحافیوں کو حق لکھنے اور بولنے پر شہید کیا جارہاپیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے مودی اقتدار میں دوسری دفعہ آنے کے بعد مضبوط تو ہوا ہے مگر مودی کا ڈھانچہ کمزور ہو گیا ہے انڈیا میںلوگ بھی مودی سے نفرت کرنے لگ ہیں مودی اور انڈین آرمی کے دل بھیڑئیے کی طرح ہیں جنہوں نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنادیا ہے ۔ موبائل انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے کشمیر میں ٓئی ٹی کے شعبہ سے منسلک کافی لوگ بے روزگار ہوئے ہیں بے روزگاری میں اضافہ ہو اہے

آسٹریلوں کالم نویس سی جے ورلیمن نے لکھاہے کہ دس کشمیریوں پر ایک انڈین فوجی تعینات ہے جوکہ ظلم کی انتہا ء ہے ہمارے وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہوئے پہلی بات ہی انڈیا سے مذاکرات کی کہی کہ انڈیا ایک قدم آگے بڑھائے ہم دو قدم آگے بڑھایئں گے مگر مودی شاید زیادہ عقل والاہے اسکو یہ بات سمجھ نہیں آتی خان صاحب نے کچھ دن پہلے بھی مذاکرات کی بات کی مگر مودی بھیڑئیے جیسا دل رکھتا ہے اس کو لوگوں کا خون کرنے میں مزہ آتا ہے خان صاحب کشمیریوں کا سفیر بن کر دنیا سے روابط کر رہاکہ کشمیر کا مسئلہ بغیر جنگ سے حل ہوجائے جنگ سے قحط بھی پڑ سکتا ہے بھوک غربت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں کچھ بھی ہوسکتا ہے انڈیا پلوامہ جیساجھوٹا ڈرامہ بھی رچا

سکتا ہے مگر اب خان صاحب نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ اب مزید مذاکرات کی بات نہیں ہوگی اب انڈیا کو آئینہ دکھاناپڑے گااقوام متحدہ بھی کشمیر میں انڈین مظالم کو روکنے میں ناکام ہے ان کی طرف سے کوئی عملی اقدامات دئکھنے کو نہیں ملے خان صاحب نے کہا کہ دنیا اسلئے خاموش ہے کہ کشمیری مسلمان ہیں اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو دنیا حرکت میں آتی خان صاحب کے حکم پر پچھلے جمعہ کو پوری قوم گھروں سے باہر نکلی بارہ سے ساڑھے بارہ کو کشمیر یوں سے یکجہتی کے لئے ریلیاں اور جلوس نکالے گئے خان صاحب نے وزیراعظم ہائوس میں مختصر خطاب بھی کیاافواج پاکستان بھی کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی کشمیر کے حل کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے اس دفعہ سول

سوسائٹی کا جذبہ قابل ستائش ہے عوام سوشل میڈیا پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر کر رہی ملک کے کونے کونے میں کشمیریوں سے اظہار یکجئتی کے لیئے ریلیاں اور جلوس نکالے جا رہے دوسرے ملکوں میں آباد مسلمانوں کا جذبہ بھی تعریف کے قابل ہے وہ بھی جلسے جلوسوں سے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کر رہے جس سے جتنا ہو رہاکشمیر کی آزادی میں اپنا حصہ ڈال رہااپوزیشن بھی کشمیر یوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیر کے مسئلے پر حکومت کے ساتھ ہے پوری قوم کی یہی دعا ہے کہ کشمیر جلد سے جلد آزاد ہوجائے تاکہ کشمیری بھی آزاد فضا میں سانس لے سکیں انڈیا سے فضائی ،بحری اور بری روابط ختم ہوں انڈین ڈراموں اور فلموں کی پاکستان میں نمائش نہ ہوکشمیر کی آزادی کے لئے سب کو قدم اٹھانے چائیے اللہ تعالی ہم سبکا حامی وناصر ہو آمین۔