نواز شریف کو رہا کرنے کی درخواستیں ، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنادیا

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت دیگر ملزمان کی رہائی کے لیے دائر کی جانے والی درخواست مسترد کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان نے اے کے ڈوگر کی درخواست پر سماعت کی اور اسے مسترد کر دیا۔ درخواستگزار اے کے ڈوگر نے عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ نیب کا قانون 1999ء کے بعد ختم ہوچکا ہے۔درخواستگزار نے استدعا کی کہ ختم شدہ قانون کے تحت دی گئیں سزائیں کالعدم قرار دی جائیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سات سال کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018ء کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں نوازشریف کو قید کے علاوہ تقریباََ ایک ارب 50 کروڑ روپے کا جرمانہ اور جائیداد ضبطگی کا فیصلہ سنایا تھا جب کہ فلیگ

شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔عدالت نے تفصیلی فیصلے میں حکم دیا تھا کہ ہل میٹل کی آمدن سے بننے والے تمام اثاثے اور جائیداد وفاقی حکومت قرق کرے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل منتقل کر دیا گیا تھا ۔ جس کے کچھ عرصہ بعد نواز شریف نے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کی جس پر سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 26 مارچ کو 6 ہفتوں کے لئے مشروط ضمانت دی تھی جس میں توسیع کے لیے نواز شریف نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔03 مئی کو ہونے والی سماعت میں نواز شریف کے وکیل نے ان کی طبی رپورٹس پیش کیں جسے دیکھنے کے بعد عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت میں توسیع پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ جس کے بعد سے نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔