کتا کاٹ لے تو ویکسین لگانے کی ضرورت نہیں ،ویکسین مہنگی ہے احتیاط سے استعمال کریں،وزیرصحت سندھ

کراچی(نیوز ڈیسک) سندھ کے شہر شکارپور میں ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے بچے نے اپنی ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی لیکن سندھ حکومت نے کوئی کان نہ دھرا۔ صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے ویکسین کو ”احتیاط” سے استعمال کرنے کی ہدایت کر دی۔ کتے کے کاٹنے کے حوالے سے دئے گئے بیان پر سندھ کی وزیر سحت عذرا پیچوہو کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔صوبائی وزیر صحت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر کُتا کاٹ لے تو ویکسین لگانے کی ضرورت نہیں ہے، ریبیز کی ویکسین بہت مہنگی ہے، احتیاط سے استعمال کریں، پہلے دیکھ لیا جائے کہ کتا پاگل ہے یا نہیں۔ صوبائی وزیر

صحت کو اس بیان پر سخت تنقید کا سامنا ہے ۔عوام کا کہنا ہے کہ حکومت شہریوں کو صحت کی سہولیات دینے کی بجائے کنجوسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔صوبائی وزیر صحت کے بیان پر عباسی شہید اسپتال کے ڈاکٹر سہیل انور نے کہا کہ کتے کا کاٹنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر صرف خراش بھی آجائے تو اُس کے لیے بھی ویکسین لازمی ہے۔ وزیر صحت کو یہ بیان دینا چاہئیے تھا کہ اگر کُتا پاگل ہو تو ویکسین لینا لازمی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ میں کتےکے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود صوبائی حکام نے والدین سے اظہار تعزیت کرنے کی بجائے ان کوہی بچے کی موت کا ذمہ دارٹھہرایا۔جبکہ سیکریٹری صحت سندھ سعیداعوان اورکمشنرلاڑکانہ سلیم رضا کھوڑو نے کتے سے کاٹے کی ویکسین کی عدم دستیابی کوبھی مسترد کر دیا۔ صرف لاڑکانہ ڈویژن میں پانچ سال میں ایک لاکھ سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ رواں برس اب تک بیس ہزارسے زائد مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ویکسین کی کمی کے باعث اوپن مارکیٹ میں 579 روپے قیمت کی ویکسین دوہزار سے پچیس سوروپے میں فروخت ہورہی ہے۔ کمشنردفتر کے باہرلگے بورڈ پر بھی صاف لکھا ہے کہ کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے جس سے ڈویژن بھرسے روزانہ ہزاروں مریض ویکسین کے لیے آتے تو ہیں لیکن خالی ہاتھ واپس لوٹ جاتے ہیں۔