مجرم عمران نے جیل میں کیا انکشاف کیا تھا ، لرزہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر ان کا قتل یوں تو افسوسناک حد تک بڑھ چکی ہے تاہم اس واقعے کو شہرت زینب اور اس کے قاتل عمران علی سے ملی ۔ پاکستانی تاریخ میں زینب جیسے کیسز بہت کم ہیں جن میں مجرم کو سزائے موت دی گئی ۔ تاہم اس سزائے موت سے شاید مجرموں کو کوئی عبرت نہیں ملی کیونکہ اب پھر سے وہی گروہ سرگرم ہے اور پاکستان کے کئی شہروں میں جنسی زیادتی کے کیسز سننے اور دیکھنے میں آرہے ہیں ۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئےسینئرصحافی و تجزیہ کار

ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو جب پھانسی کے لیے لے جایا گیا تو اُس نے کہا کہ یہ ہے پھندا اور میں پھانسی لگنے جا رہا ہوں۔ میں صرف ایک بات آپ کو بتا دوں کہ میں پھانسی لگنے جا رہا ہوں اور یہ میرا آخری وقت ہے ، میں صرف آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اکیلا نہیں تھا۔ کوٹ لکھپت جیل سے مجرم عمران کا ریکارڈ نکلوا کر دیکھ لیں کہ اُس نے اپنے آخری وقت میں کیا کہا تھا۔ جب اُس نے یہ سب کہا تھا تو اُس کو گھسیٹتے ہوئے لے گئے ، یہ چیز جیل کے مینوئیل کے اندر ریکارڈ ہو گئی اور عمران کو پھانسی لگ گئی تھی۔