پاکستان کی بڑی یونیورسٹی میں لڑکے لڑکی کا’’جوڑا‘‘بن کر گھومنا غیر اسلامی قرار

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں طلباء طالبات کے اکٹھے گھومنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ طلباء اور طالبات کا جوڑے بنانے کو غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔کیمپس میں اکھٹے گھومنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت تنبیہہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے طلباء کو جرمانہ کر کے ان کے والدین کو یونیورسٹی بھی بلایا جائے گا۔باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ کو طرف سے طلبہ پر پابندی کا

نوٹیفیکیشن 23 ستمبر کو جاری کیا گیا تھا۔خیال رہے اس سے قبل محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے پشاورمیں سرکاری سکولوں کی طالبات کے لئے عبایا/گائون پہننالازمی قراردیتے ہوئے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔ڈی ای او(زنانہ)پشاورکی جانب سے جاری ہونیوالے اعلامیہ میں خواتین کے سرکاری سکولوں کی طالبات کیلئے عبایا/گائون یاچادرپہننالازمی قراردیدیاگیا تھا،، اس سلسلے میں پرائمری،مڈل ہائی و ہائیر سیکنڈری سکولوں کی خواتین سربراہان کوحکم نامے پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی تھی۔ پردہ لازمی قراردینے کامقصد طالبات کا تحفظ اور کسی ناخوشگوارغیر اخلاقی سلوک سے محفوظ رکھنا ہے۔اس حوالے سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اب لڑکیوں کو،عبایا،نقاب یا چادر اوڑھ کر سکول آنا ہو گا تا کہ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات روکے جا سکیں۔۔ لیکن یہ خبر میڈیا پر آتے ہی حکومت نے اعلامیہ واپس لینے کا اعلان کردیا جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نےاس حوالے سے کہا کہ صرف ایک ضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے وہاں کے والدین کی مرضی سے عبایا پہننے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا ،صوبے کے دیگر سکولوں میں عبایا پہننے کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ،جن اسکولوں نے عبایا پہننے کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ، ان کو فوری طور پر نوٹیفکیشن واپس لینے کی ہدایت کردی گئی ۔