سندھ میں کتے کے کاٹنے سے 40سالہ خاتون ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھی

کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی میں ریبیز سے ایک اور موت، بدین سے آئی چالیس سالہ خاتون جناح ہسپتال میں چل بسی۔ خاتون کو پانچ ہفتوں قبل کتے نے کاٹا تھا۔سندھ میں آوارہ کتوں نے شہریوں کی جانیں لینا شروع کر دیں۔ کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز نے ایک اور جان لے لی۔ کراچی کے جناح ہسپتال میں بدین سے آئی خاتون چل بسیں۔ ریبیز کے باعث چالیس سالہ رنگوا سان ریبیز کی موت ہوئی۔خاتون کو پانچ ہفتے قبل کتےنے کاٹا تھا، رواں سال کتے کے کاٹنے سے سترہ لوگ جان سے جا چکے ہیں۔ کراچی کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں یومیہ سگ گزیدگی کے لگ بھگ 70 کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، صرف جناح

ہسپتال میں یہ تعداد ساڑھے سات ہزار سے تجاوز کر چکی۔ سندھ کے اکثریتی سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز کی ویکسین ہی نہیں ہے۔جب کہ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی فراہمی سے متعلق قومی ادارہ برائے صحت نے کتے کے کاٹنے کی ویکسین سے متعلق رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت کو جنوری 2019 سے اب تک 6 ہزار ویکسین فراہم کی جاچکی ہے،موجودہ صورت حال کے پیش نظر فوری طور پر 2500 ویکسین دی گئی ،صوبوں کو ڈیمانڈ کے مطابق ویکسینز فراہم کی جاتی ہیں ،رواں سال تمام صوبوں کو دو لاکھ ویکسین فراہم کی گئی ہے،دسمبر 2019 تک مزید تین لاکھ ویکسینز تیار کی جائیں گی۔سندھ کے باسی کتے کے کاٹنے سے سسک سسک کر جان دینے پر مجبور ہوگئے،تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ سندھ کے اسپتالوں میں اینٹی ریبیز انجیکشن موجود ہے۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کو اینٹی ریبیز انجکشن خزانے سے خرید کر دی جاتی ہے۔ مگر یہ انجیکشن باہر بیچ دیے جاتے ہیں۔کتے کے کاٹے کا کوئی مریض آجائے تو اس کے لواحقین ایجنٹ آگے پیچھے پھرتے ہیں کہ پیسے دینے پر انجکیشن لگ جائے گا۔گا۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام نے سرکاری اسپتالوں میں کی جانے والی کرپشن کا توڑ یہ نکالا گیا کہ کتے کے کاٹے کی ویکسین کمشنر آفس میں رکھے جانے لگی جہاں معاملہ مزید الجھ کر رہ گیا ہے۔ کمشنر آفس میں کہا جاتا ہے کہ پہلے زخم دکھا اور شناختی کارڈ لا پھر اس کے بعد اس بات کی جانچ پڑتال ہوتی ہے کہ کاٹنے والا کتا پاگل تھا یا نہیں اس دوران تکلیف میں مبتلا متاثرہ مریض کمشنر آفس کے رحم و کرم پر ہوتا ہے پھر صاحب کا دل چاہا تو انجیکشن مل گیا ورنہ ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کے بشتر اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین سرے سے موجود ہی نہیں جبکہ سندھ حکومت کا دعوی ہے کہ ویکسین موجود ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کتے کے کاٹے مریضوں کو انجکشن کیوں نہیں مل رہی۔