کشمیر ہاوس میں شراب ۔ ۔ ۔ سب جھوٹ

کشمیر ہاوس کے مکین شراب جیسی چیز سے ناواقف ہیں، یہاں کے در و دیوار نے کبھی شراب کا نام تک نہیں سنا ، یہاں جس کمرے میں داخل ہو بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کےہا تھ میں تسبیح ہوتی ہے ، سر پر ٹوپی ہوتی ہے ، مصلا بچھاہوتا ہے ، کشمیر کا درد اتنا ہے کہ اس پار سے کوئی بری خبر آئے تو یہ تین تین وقت کھانا نہیں کھا سکتے ، کشمیر کے نام پر پریس کانفرنسیں بلا کر پانامہ کا ذکر بالکل نہیں ہوتا ، کشمیر کے نام پر سولہ سو

دوکانیں بالکل نہیں چل رہیں ،سٹیٹ آفیسر نوید مغل کے مطابق بوتلیں عرصہ دراز سے یہاں پڑی تھیں ، ان کا کہنا بالکل درست ہے چلو یہ مان لیتے ہیں کہ بوتلیں دور قدیم کی تھیں ، کشمیر ہاوس بننے سے پہلے یہاں شاید انگریزوں کے دور میں کوئی بڑا مے خانہ تھا ، بابر عباسی جھوٹا ہے ، وہ کھودائی کرنے والا ساتھ لایا اور دور قدیم کی دو چار بوتلیں دریافت کرلیں ،اور جب خبر چلی تو پولیس وین شاید اس لئے منگائی گئی کہ ان دو تین بوتلوں کو پھولوں کے گملوں کے درمیان رکھ کر باہر لے جایا جائے ، ٹھیک ہے بابر عباسی جھوٹا ہے ، میری دعا ہے کہ اس طرح کے چند چھوٹے اور پیدا ہوجائیں تاکہ آج کے دور کے سچوں کے چہرے دنیا کے سامنے آجائیں ، آمین