ایسٹ انڈیا کمپنی اور آرٹیکل 370۔۔۔ تحریر: احمد بخش بلوچستانی

۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی سے قبل برصغیر پوری دنیا کا سب سے زیادہ جی ڈی پی پیدا کرنے والا حصہ تھا۔اس علاقی کی ترقی کا راز یہ تھا کہ بر صغیر دنیا میں Ship Making میں نمبر ون تھا۔ اس خطے سے پوری دنیا میں بحری بیڑے ایکسپورٹ ہوتھے تھے۔ لیرل اکانومی، جمہوری رویات اور ترقی کے دعوادار ممالک یہ بھول گئے کہ انہوں بر صغیر کے تمام تر وسائل پر اپنے ہاتھ صاف کیے اور یہاں کی عوام کو غلامانہ ذہنیت بنا کہ اس بات کا یقین دلوایا کہ یہ لوٹ مار ان کا جائز حق تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جو اس وقت ایک خاص ایجنڈا کے تحت برصغیر میں آئی اور اپنی پلاننگ کے مطابق وہاں کے عوام کے جذبات،رویات اور تہذیت کا جائز لے کر اپنی طرز حکمرانی کا طریقہ کار وضع کیے۔ بد قسمتی سے میر صادق اور

میرجعفر جیسے لوگ انہیں باآسانی مہیا ہوئے جنہوں نے چند اپنے ملک اور ضمیر کا سودا کیا۔ایسٹ انڈیا کمپنی اور ہندوتا، اکھنڈ بھارت کا پرچار کرنے والا،فاشسٹ ذہنیت کے مالک مودی کے طرز غاصبیت میں ایک بات مماثلت رکھتی ہے کہ دونوں ایسٹ انڈیا اور بھارت نے سب سے پہلے قانون بدلے۔ کمپنی نے سب سے پہلے تاج برطانیہ کے قوانین لاگو کیے اور مقامی لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ان قوانین کی تابعداری کریں جس کا نتیجہ 1857ء کی جنگ آزادی سے ہوا ۔ اگر ان دونوں واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھارت نے بھی کشمیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آزمائے ہوئے فارمولے کو استعمال کیا ہے جو کہ انڈیا کی بہت بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے۔ کشمیر موجودہ دور میں ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے دنیا میں جوہری جنگ کے امکا ن ہیں کیونکہ اگر Individual Level پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے امکانات کا جائزہ لیں مودی ایک ایسا لیڈر ہے جو کہ جنگ جنون کی ذہنیت کا مالک ہے جیسا کہ اس مثال رواں سال کے ہونے والے حملے ہیں۔ اگر Society Level جنگ کے امکانا ت کا مطالعہ کیا جائے تو انڈیا کے ہندوو انڈیا کے مسلمانوں کو تنگ کر کے آئے دن اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ جمہوری اقدار نہیں بلکہ نسلی امتیا ز کے پیروکار ہیں۔مزید اگر Cognative Biasis کو مد نظر رکھا جائے تو سمجھ ٓتی ہے کہ انڈیا اس ضعم میں ہے کہ پاکستان ایک ناراض بیٹا ہے جو رات ہوتے ہی واپس آجائے گے۔ 72سالہ تاریخ ہندوستان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان پاکستان اپنی سا لمیت کا دفاع کرنے اور دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر

کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ کشمیر میں جاری غیر انسانی عمل انسانی حقوق کے کی عالمی براداری کے منہ پر ایک طماچہ ہے ۔حکومت پاکستان نے خصوصا وزیراعظم پاکستان نے بڑے دوٹوک الفاط میں دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم مسلمان ہیں اور لا الہ الااللہ کے ماننے والے ہیں ہم جنگ کریں گے اور یہ روز روشن کی طرح ایک حقیقت ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان لیکن اسے روکنا ناممکن ہے۔ پاکستان سب سے پہلا اور جائز مطالبہ یہی ہے کہ انڈیا سب سے پہلے کرفیو ہتائے ۔ پاکستان کے اس وقت مسئلہ کشمیر کے حل کے دو طریقے ہیں؛۱۔وزیراعطم کی تقریر نے اس مسئلے میں جو جان ڈالی ہے اور اس دنیا میں متعارف کروایا جو پاکستان کی ایک حد تک کامیابی ہے لیکن ان Momentum کو

برقرار رکھنے اور انڈیا پر دباو ڈالنے کے لئے آنے والے چھ ماہ یا سال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعطم پاکستان دنیا کے P5 ممالک کے ہنگامی دورے کرے اور انہیں وہی بات سمجھانے کی کوشش کرے جو انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنا موقف رکھا تھا۔۲۔اگر تمام کوششوں کے با وجود سفارت کاری کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں دینی تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ Limited War لڑے جیسا کہ ترکی نے Cyprus Island میں طاقت کم ہونے کے باوجود حملہ کیا تھا تب دنیا نے انہیں تسلیم کیا۔